بے پردگی سے اجتناب

دورِجہالت میں عورتیں سرپر جو کپڑا ڈالتی تھیںان کے پلو اپنی پشت پر لٹکا دیا کرتی تھیں ۔اس طرح ان کی گردن ،کان ،سینہ وغیرہ ظاہر رہتے تھے۔اس لئے آیت قرآنی نے یہ حکم دیا کہ سر پر جو اوڑھواس کے پلو ؤں کو پشت پر پیچھے نہ پھینک دوبلکہ انہیں اپنے گریبا نوں پر ڈال دوتاکہ تمہا رے سینے ،گردن وغیرہ لوگوں کی نظروں سے چھپ جائیں۔جب یہ آیت نازل ہوئی اور مردوں نے جاکر اپنی بیویوں ،بیٹیوں اور بہنو ں کو سنائی تو اسی وقت انہوںنے آیت کی تعمیل کی اور اپنی ایک پرانی عادت کو چشم زدن میں چھوڑ کر اطاعت وانقیاد کی ایک نادر مثال پیش کی ۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس آپ کی بھتیجی حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن آئیں،انہوں نے اس وقت ایک باریک اوڑھنی سرپر ڈالی ہوئی تھی ۔آپ کو یہ چیز سخت ناگوار گزری اور فرمایا’’اے بیٹی !ایسی اوڑھنی اوڑھنے کا حکم ہے جو موٹی ہواور جس سے پردہ کا مقصد پورا ہو ۔
اسلام عورتوں کو حدودوقیو د میں رہتے ہوئے آزادی دینے کا داعی ہے۔شریعت مطہرہ نے ان پرہر جگہ پہرہ لگادیا ہے اور ان تمام خطرات کی حفاظت کی ہے جوان کی ذات سے وابستہ ہیں ۔رات دن کے تجربات ہیں کہ عورتوں کی بے باکانہ چہل پہل مردوں کی جما عت میں ایک شورش پید اکردیتی ہے اس لیے اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’اپنے گھروں میں قرار پکڑ واور جاہلیت کے وقت میں دکھانے کا جو دستور تھا اس طرح دکھلاتی نہ پھرو‘‘
اس آیت کاشان نزول گو خاص ہے مگر حکم عام ہے،اس آیت میں رب العزت نے عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ حدود شرعی کے اندر رہیں ،جاہلیت کی رسم ترک کر ڈالیں ۔
جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ عورتیں بن سنور کر مردوں میں بیباک گھومتی تھیں۔زینت کی عجیب وغریب تدبیریں عمل میں لائی جاتی تھیں ۔دوپٹہ کواس طرح ڈالتی تھیں کہ سینہ کا ابھار،گلے کی زیورات ،کانوں کی بالیاں اور ان کی ہیئت فتنہ سامان ہوتیں ۔مرد اس کو دیکھ کر مسحور ہوجاتے پھر جاہلیت میں عورتیں لٹکتی چلتی تھیں اور ان کابانکپن اور ان کی ادائیں غضب ڈھاتی تھیں اس لیے اسلام جب آیا تو اس کی اصلاح کی ،عورتوں کو پہلے رسم ورواج سے روکا اور پاک زندگی کا سلیقہ بتایا ۔پہلی بات یہ ہے کہ عورتیں گھر ہی میں رہی اور ضروتاًنکلیں تو جاہلیت کے طریقہ پر بن سنو ر کر نہ نکلیں ۔اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ سر ،گردن اور سینہ کا چھپانا فرض ہے۔دختران اسلام ذرا خود ہی انصاف کریں کہ جو باریک دوپٹے وہ اُوڑھتی ہیں اور جس طرح انہیں سر کے بجائے اپنے کندھوں پر ڈال لیتی ہیں اور سینہ تان کر سربازار چلتی ہیں ان کا طریقہ کا ر اسلام کی تعلیمات سے کتنا منا فی ہے ۔اﷲتعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ’’آپ حکم دیجئے مومنو ں کوکہ وہ نیچے رکھیں اپنی نگاہیں اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی ‘‘âسورۃ نور ،آیت ۰۳á
شریعت اسلامیہ فقط گناہو ں سے نہیں روکتی اور ان کے ارتکاب پر سزا نہیں دیتی بلکہ ان تمام وسائل اور ذرائع پر پابندی عائد کرتی ہے اور انہیں ممنوع قرار دیتی ہے جو انسان کو گنا ہو ں کی طرف لے جا تے ہیں تاکہ جب گنا ہو ں کی طرف جانے والا راستہ ہی بند ہوگا تو گنا ہو ں کا ارتکاب آسان نہیں ہو گا ۔طبیعت میں ہیجان پید اکرنے والے اور جذبات شہو ت کو مشتعل کرنے والے اسباب سے نہ روکنا اور ان کی کھلی چھٹی دے دینا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ ہم اپنے قانون کی قوت سے لوگوں کو برائی سے بچالیں گے، بڑی نادانی ہے ۔اگر کوئی نظام ان عوامل اور محرکات کا قلع قمع نہیں کرتا جو انسان کوبد کا ری کی طرف دھکیل کر لے جاتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اس برائی کو برائی نہیں سمجھتا اور نہ اس سے لوگوں کو بچانے کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے ۔اس کی زبان پر جو کچھ ہے وہ اس کے دل کی صدا نہیں بلکہ محض ریا کا ری اور ملمع ساز ی ہے۔
درمیان قصر دریا بختہ بندم کردہ ۔۔۔بازی گوئی کہ دامن نرمکن ہشیا ر باش
کسی کو بہتے ہوئے دریا میں دھکا دے کر گر ادینا اور پھر اس کو کہنا کہ خبردار اپنے دامن کو پانی کی مو جو ں سے گیلانہ ہونے دینا ،بہت بڑی زیادتی ہے۔اس سورت کا آغاز زنا کاروں کی سزا کے ذکر سے ہوا ۔یہاں ان راستوں کو ہی بند کیا جا رہا ہے ۔جو انسان کو اس حرام وشنیع فعل کی طرف لے جاتے ہیں۔بدکا ری کاسب سے خطر ناک راستہ نظر بازی ہے اس لیے سب سے پہلے اس کو بند کیا جارہا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔جب نگاہ کسی نامحرم کی طرف نہیں اُٹھے گی تو دل میں اس کی طرف کشش پید انہ ہوگی جب کشش ناپید ہو گی تو بد فعلی کا ارتکاب ہی بعید ازقیا س ہو گا۔
آیت میں آنکھو ں کو مطلقاً بند رکھنے کا حکم نہیں دیا جا رہا بلکہ اس کی طرف آنکھ بھر کر دیکھنے سے روکا جا رہا ہے جس کی طرف دیکھنا حرام ہے۔حضور اکرم öنے بڑی سختی سے نامحرم کی طرف سے دیکھنے سے منع فرمایا ہے۔
جو شخص مجھے دوباتوں کی ضما نت دے کہ جو اس کے دونوں جبڑو ںکے درمیان âیعنی زبان áاور جو ا س کی دونوں ٹانگو ں کے درمیان ہے âیعنی شرمگاہ áتو میں اسے جنت کی ضما نت دیتا ہو ں ۔ایک حدیث میں ارشاد فرمایا :نظر شیطا ن کے تیروں میں سے ایک زہر یلا تیر ہے،جو اس کو میرے خوف سے ترک کرتا ہے ۔میں اسے ایمان کی نعمت بخشوں گا جس کی مٹھا س وہ اپنے دل میں پائے گا ۔
حضرت جریر بن عبد اﷲالبجلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کریم ö سے دریافت کیا اگر اچانک کسی اجنبیہ پر نظر پڑجائے تو ا س کا کیا حکم ہے؟حضور ö نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنی نظر کو پھیر لوں ۔اچانک کسی نامحرم پر اگر نظر پڑجائے تو وہ معاف ہے لیکن اگر دوبارہ دانستہ اس کی طرف دیکھے گا توگنہگار ہو گا ۔
قرآن کریم میں جہاں بھی حفظ فروج کا حکم دیا گیا ہے،اس سے مراد زناسے بچنا ہے ،لیکن یہاں اس سے مراد ستر پوشی ہے تاکہ ان پر نظر نہ پڑ ے،مردکا ستر ناف سے گھٹنو ں تک ہے ۔اتنی جگہ کو اسے ننگانہ ہونے دینا چاہیے اور اگر کوئی برہنہ ہوتو اس کی طرف دیکھنا نہ چاہیے۔تنہائی میں بھی بے پردہ ہونے کی اجازت نہیں۔حضور اکرم öنے اپنے ایک صحابی کو فرمایا ۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔صحابی نے عرض کیا ،یارسول اﷲاگر انسان تنہاہوتو پھر اس کے متعلق کیا حکم ہے؟فرمایا،اس وقت بھی ستر نہ کھو لے۔اﷲتعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔
نگاہیں نیچی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ اس طرح تمہا را دامن عفت پاک رہ سکتا ہے ۔اگر نگاہیں ہولناک ہو ں ،مردوزن کا آزادانہ اختلاط ہو۔خلوت میں نامحرموں کے ساتھ سلسلہ گفتگوبھی جاری رہے،اور پھر انسان یہ خیال کرے کہ وہ اپنے دامن کو داغدار نہیں ہونے دے گا تو یہ اس کی حماقت کی انتہا ہے،اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہما رے بچے اور بچیاں عفیف اور عصمت شعار رہیں تو ہما را فرض ہے کہ ہم انہیں قرآن کریم کی ان آیات کی تعلیم دیں ۔حضور کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یہ حکیمانہ ارشادات ازبر کروائیں تاکہ وہ ہلا کت کے اس گرداب کے نزدیک ہی نہ آنے پائیں ۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔نظردل کی طرف کھلنے والا سب سے بڑا دروازہ ہے۔نگاہ کی بے راہروی کے باعث ہی اکثر لغزشیں ہوتی ہیں اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.