بے دست وپا،اچھوت دستی

عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے کہاہے کہ’’ اسمبلی میں اکثرلوگ انہیں اچھوت سمجھتے ہیں۔اراکین میرے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے،کہیں جراثیم ہی نہ لگ جائیں۔چوں کہ وہ بکریوںاور بھینسوںکا دودھ دوہتے اورباڑے میں ملازمین کے ساتھ مل کرصفائی کاکام بھی کرواتے ہیں۔وہ اپنے اکثرکام خودکرتے ہیںاوراس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ،اکثراسمبلی اراکین کویہ خوف لاحق ہے کہ اگروہ مجھ سے ہاتھ ملائیں گے تو انہیں جراثیم لگ جائیں گے‘‘اگردستی نے یہ باتیں عوام کو آگاہ کرنے کے لئے کہی ہیں کہ اسمبلی میں ان کے ساتھ کیارویہ رکھا جاتاہے۔تب توٹھیک ہے کہ انہوںنے عوام کوان کے منتخب نمائندوں کے مزاج،کرداراوران کی فرسودہ سوچ سے لوگوں کو آگاکیا۔تاکہ لوگ آئندہ ووٹ دیتے اور لوگوں کومنتخب کرتے وقت اس کی بات کومدنظر رکھیں کہ وہ اچھی سوچ کے حامل افرادکواپنانمائندہ مقررکریں۔لیکن اگرانہوںنے یہ بات شکوہ کے طورپرکہی ہے توانہیں اس بات کا اندازہ ہوجاناچاہیے کہ وہ کن لوگوں میں گھرے ہوئے ہیںاوریہ کہ انہیں اس بات کو اس طرح نہیںسوچناچاہیے کہ لوگ ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے کتراتے ہیں کہ کہیں انہیں بکریوں اور بھینسوں کے جراثیم نہ لگ جائیں۔نہیں دستی صاحب ایسانہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کے حق میں بہتر ہے کہ وہ لوگ آپ سے اس لئے ہاتھ نہیں ملاتے کہ کہیں ان کتوں اور بلیوں کے جراثیم آپ کو نہ لگ جائیں جوسارادن ان کی گودکاحصہ بنے رہتے ہیںاور یہ انہیں ہمہ وقت گودمیں اُٹھائے یک جان دوقالب ان کے سروں پرہاتھ پھیرتے اور چہروں پرپیارکرتے ہیں ۔یہ کتا سوسائٹی کے لوگ، بھینسوں ،بکریوں کی سوسائٹی کے آدمی کو کہاں پسند کریں گے۔کیا عوام نے نہیں دیکھا کہ ایک کتادماغ،کتے بازآدمی کس طرح پاکستان کا صدربنااور پھرجو کچھ ملک وقوم کے ساتھ ہواوہ پوری دُنیا دیکھ رہی ہے اور پاکستانی قوم آج تک اُس کا کیا ہوابھگت رہی ہے۔ملک دہشت گردی اورافراتفری کا شکارہے،انڈیاسرپرسوارہے،افغانستان آنکھیں دکھارہاہے اور امریکہ ہمارے ملک میں آگ لگاکرتماشادیکھ رہاہے۔یہ اُسی صدرکی کرشمہ سازیاں ہیں۔
اگرآپ نے پطرس بخاری کا مضمون ’’کتے ‘‘کا مطالعہ کیا ہو توپھر اراکین اسمبلی سے آپ کا شکوہ بے جاہے،کیوں کہ وہ ہاتھ اس سے ملاتے ہیں جوان کی سوسائٹی کافردہواورپطرس بخاری نے اس سوسائٹی کا بھر پو رتذکرہ اپنے مضمون میں کردیا ہے ۔افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کی سوچ اَب تک نہیں بدلی۔اگر یہ سوچ بدل جائے تو کتے ،بلیوں کے پروردگاروں سے جاں خلاصی کراسکتے ہیں۔دستی صاحب اگرآپ نے محنت مزدوری کو اپنی زندگی کاجز بنایا ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔یہ توہمارے نبی ö،خلفائے راشدین اور صحابہ کرام ؓکی حیات کا جزہے کہ انہوںنے امور سلطنت کے ساتھ اُمورخانہ داری بھی انجام دیئے ۔ہاں یہ بات ان کے لئے باعث شرم ضرورہے جوکام کرکے کھانے کو شرم وکسرنفسی سمجھتے ہیں ،آپ کا یہ شکوہ بھی اس لئے بے جاہے کہ جب آدمی کو بیٹھ کر کھانے کی لت لگ جائے ،حرام کاپیسا،گھربیٹھے خوب مل رہاہو،رشوت ،کمیشن ،بدعنوانی،بھتہ خوری ذرائع آمدن بن جائیں توپھرکام کرکے کھانے میں شرم ہی آئے گی۔پاکستان کے اکثر اراکین اسمبلی کے اصل ذرائع آمدن کیاہیں ،خودحکومت کو بھی نہیں معلوم۔الیکشن کمیشن اوردیگراداروں میں جمع کرائے گئے ذرائع معتبرنہیں ۔ووٹرزجو کہ اُن کے ہاری اور کمّی ہیں ،انہیں کس طرح معلوم ہوگا،لہٰذاآپ یہ شکوہ نہ کریں بلکہ جس طرح آپ نے شراب خوروں کوبے نقاب کیا اور دیگر عوامی کاموں کے ذریعے عوام کے دلوں میں گھر کیا اَب ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کوشش کریں کہ اپنے جیسے نڈرافرادکواسمبلی کا حصہ بنائیں۔آپ کا جیل میں جانااور پھر تشددکا نشانہ بنائے جاناکوئی نئی بات نہیں ،پاکستانی جیلوں کا دوسرانام ہی تشددہے۔آپ یادرکھیں کہ آپ نے جیل میں رہ کر جس طرح شورمچایاکہ آپ پر کیا تشددہورہاہے توجناب ذوالفقارعلی بھٹوکے زمانے میں علامہ شاہ احمدنورانی ودیگرسیاستدانوں پرمچھ اوراڈیالہ جیل میںاس سے کہیں زیادہ تشددکیاگیا،لیکن انہوں نے شورمچانے کے بجائے ڈٹ جانے کافیصلہ کیا۔آپ کے شورمچانے سے یہ ہواکہ چندسیاسی جماعتوںنے آپ کی طرف رجوع کیا اور اب ان کی جانب سے آپ کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر ان جماعتوںنے جیل میں اچھوت دستی کی رہائی میں تعاون کیاہے تو یادرکھیں کے انہوںنے اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھائی ہے۔اگردستی یہ سمجھتے ہیں کہ ان پراحسان کیاہے تو وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ سیاست میں احسان نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی کام بلاغرض کیاجاتاہے۔بلکہ کچھ لواور کچھ دوکی پالیسی کے تحت ایک دوسرے سے تعاون کیاجاتاہے۔اگردستی صاحب آپ نے کوئی جذباتی فیصلہ کیا تو یہ آپ کامستقبل تاریک کردے گااور ہماری نظر وں میں آپ کا وزیراعظم نوازشریف کے مقابلے میں آئندہ الیکشن لاہورسے لڑنے کا اعلان ایک جذباتی فیصلہ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ اُن جماعتوں کی منصوبہ بندی توہوسکتی ہے لیکن دستی کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ آ پ ایک سنجیدہ ،بردباراور قومی وعوامی مفادمیں فیصلہ کرنے والے فردہے۔ آپ سے ا س طرح کے جذباتی فیصلوں کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ پھر یہ کہ آپ آزاداُمید وارکی حیثیت الیکشن لڑکر جیتتے رہے ہیں جو کہ آپ پر عوام کے بھر پو راعتمادکامظہر ہے لیکن اگر آپ نے کسی جماعت میں شمولیت اختیارکرلی تو یادرکھیں کہ آپ کی ساری ساکھ راکھ ہوجائے گی ۔کیونکہ آپ کی حیثیت آزادہے نہ کہ سیاسی جماعت سے مشروط،اورویسے بھی سیاسی جماعتوں سے عوام نالاں ہیں ،لہٰذاجو بھی فیصلہ کریں اپنی ذات کو سنبھالنے اور قوم ووطن کے مفادمیں کریں اور کتا سوسائٹی سے خودکودُوررکھےں، کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ بھی اسی خصلت کا شکارہوجائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.