Benazir Bhutto Airport Islamabad

بےنظیر انٹرنیشنل ا یئرپورٹ میں 66 کروڑ کرپشن کا انکشاف

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک پبلک اکا¶نٹس کمیٹی نے بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ جعلی کاغذات پر من پسند کمپنی کو66کروڑ کا ٹھیکہ دینے کا سکینڈل نیب کو تحقیقات کے لئے بھجوادیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ3ماہ کے اندر اندر تحقیقات مکمل کرنے رپورٹ دی جائے۔پی اے سی اجلاس میں انکشاف ہوا تھا کہ سول ایوی ایشن ڈویژن کے اعلیٰ حکام سے ملکر آپ میگا کمپنی کے جعلی کاغذات پر66کروڑ کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا بعد میں تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ کمپنی اس منصوبہ کے لئے اہل بھی نہیں تھی اور نہ اس کمپنی کے پاس ایسے منصوبے مکمل کرنے کے مہارت تھی، اجلاس میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی کی کمپنی نے بھی پی آئی اے ملازمین کے سروسز رولز بنانے کے نام پر12 ملین روپے وصول کر چکے ہیں جن نے غیر قانون اقدام قرار دیا گیا ہے۔پی اے سی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں سول ایوی ایشن مالی سال2016-17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں شیری رحمان،شفقت محمود،عارف علوی مصطفیٰ شاہ،نذیر سلطان،ڈاکٹر عذرا جعفر خان لغاری اور میاں منان وغیرہ نے شرکت کی۔آڈٹ حکام نے پی اے سی کو سول ایوی ایشن کے نیا منصوبہ بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن اور مالی بدعنوانیوں بارے بریفنگ دی۔شفقت محمد نے کہا یہ ظلم ہے کہ ابتداءمیں یہ منصوبہ 37 ارب کا تھا جو بڑھ کر100ارب روپے سے زائد کا ہوگیا ہے۔پی اے سی نے ڈیڑھ ارب روپے کا منصوبہ انجینئرنگ کونسل میں رجسٹرڈ کئے بغیر کمپنی کو ٹھکہ دینے کا معاملہ پر قواعد وضوابط کے برعکس آڈٹ اعتراضات نمٹا دئےے ہیں جس میں حبیب رفیق کمپنی بھی شامل تھی جو حکمران طبقہ کے ساتھ گہرے مراسم رکھتی ہے۔نئے ائیرپورٹ کے قریب راما ڈیم کامنصوبہ جو66کروڑ روپے کا تھا کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی آب میگا کو دیاگیا جو نہ تو رجسٹرڈ تھی اور نہ اس کام کی مہارت رکھتی تھی۔وزارت کی اپنی رپورٹ میںبھی اس ٹھیکہ کو قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر دینے کا اعتراف کیا گیا ہے۔اعلیٰ حکام اس منصوبہ کا جو کنسلٹنٹ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا تھا وہ بھی اس منصوبے کی کوئی مہارت نہیں رکھتا تھا جس پر پی اے سی نے بڑے تعجب ظاہر کیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کمپنی نے یہ ٹھیکہ جعلی کاغذات نتھی کرکے حاصل کیا جو بعد میں کمپنی نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا۔پی اے سی کے سیکرٹری سول ایوی ایشن عرفان الٰہی کو بے نظیر ائرپورٹ میں مبینہ کرپشن پر تین انکوائریاں جن میں شمس الحسن انکوائری،وکرم سنگھ انکوائری اور ایف آئی اے کی انکوائری مکمل ہوئی ہے ملزمان کے خلاف اقدام کیوں نہیں کیا گیا۔سیکرٹری عرفان الٰہی شرم کے مارے منہ نیچے کرکے اراکین سے بے عزتی سنتے رہے۔شفقت محمود نے کہا سول ایوی ایشن حکام کی ملی بھگت سے یہ ٹھیکے نہیں دئیے گئے،سیکرٹری نے کہا افسران کو معطل کیا گیا ہے اس کے علاوہ کووی اقدام نہیں ہوا جس پر پی اے سی نے کہا اس کا مقصد یہ ہے کہ ملزمان کو سزا نہیں ہوئی۔پی اے سی میں انکشاف ہوا ہے کہ اسحاق ڈار نے جناح ائرپورٹ کراچی کو گروی رکھ کر اربوں ڈالر کے سکوک بانڈز حاصل کئے تھے اور یہ ائیرپورٹ ابھی تک گروی رکھی ہوئی ہے یہ اقدام 2015ءمیں اسحاق ڈار نے کیا تھا جبکہ سندھ حکومت نے سول ایوی ایشن کی اربوں مالیت کی21ایکڑ زمین سندھ پولیس کے نام مستقل کردی ہے جس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔شاہین ائیرلائنز سول ایوی ایشن کے عمارت استعمال کرنے کے باوجود کرایہ کی مد میں 34لاکھ ادا ہی نہیں کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.