#Indiasyouth #Malnourished

بھارت کے 80 فیصد نوجوان غذائیت سے محروم

ممبئی:جدت ویب ڈیسک:ہندوستان میں تولیدی عمر (23-49سال)کی حامل تقریبا ایک چوتھائی خواتین (23 فیصد)جسمانی طور پر کمزورہیں۔ اور جسمانی ماس انڈیکس فی مربع میٹر 18.5 کلوگرام سے کم ہے۔ یہ تناسب شہری علاقوں(27فیصد) کی نسبت دیہی علاقوں (16فیصد)میں زیادہ ہے۔
غذائیت کی کمی سے دوچار خواتین ، ماں بن جاتی ہیں جس کے نتیجے میں کم وزن والے بچوں کو انفیکشن اور نشوونما میں کمی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ہندوستان میں ، ہر تیسرے بچے کا وزن کم ہے۔(( 35.7 فیصد، جبکہ 21فیصدحاملہ خواتین کے بچے ضائع ہوجاتے ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر آدھے سے زیادہ( 58.4 فیصد) بچے خون کی کمی کا شکار ہیں۔خواتین میں غذائی قلت انہیں انفکشن کا شکار بناتی ہے اور ان کی پیداوری اور بچے کی پیدائش سے بچنے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔جامع قومی تغذیاتی سروے پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق ، نصف سے زیادہ نوعمر( 10-19سال)خواتین کم وزن والی ہیں جبکہ 80 فیصد سے زیادہ کم غذائیت اور مائکرو غذائیت کی کمی سے دوچار ہیں۔تقریبا ایک تہائی خواتین (26.8 فیصد) 18 سال کی عمر سے پہلے ہی شادی کر لیتی ہیں۔ غذا کی کمی کی وجہ سے خواتین کی غذائیت کی صورتحال بہت نازک ہے۔ آدھے سے بھی کم خواتین صحت مند غذا کھاتی ہیں ، جن میں صرف 47 فیصد ہرے پتوں والی سبزیاں روزانہ کھائی جاتی ہیں ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 46 فیصد ہفتہ میں ایک بار پھل اور 45 فیصد روزانہ دالیں کھاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.