بکرے مہنگے ، انسان سستے ، عید قربان پھرآگئی

 

پھر عید قربان آگئی بکرے مہنگے اور انسان سستے ہیں۔ہم غریب اور مظلوم کہاںجائیں ، کیاکریں؟ دراصل ضروریات کی اشیائ زندگی عام آدمی کی قوت خرید سے زیادہ مہنگی ہوچکی ہیں۔ ہم نے اپنی روح اور بدن کارشتہ برقرار رکھنے کیلئے اپنی تمام خواہشات کو قربان کرکے زندگی کو بمشکل دووقت کی روٹی تک محدود کرلیا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے آج ہمارے بچوں کی ہاتھ میں قلم، کتاب اور کھلونوں سے خالی ہیں۔ اپنے کھیلنے کودنے کے دنوں میں بچے اپنے گلوں میں بستوں کی بجائے مشقتوں کے طوق ڈالے ہوئے ہیں ۔ ان نازک کندھوں پر اپنے بوڑھے والدین کی کفالت کا بوجھ لدا ہوا ہے۔یہ وجہ ہے کہ آج ننھے منے نوعمر بچوں کی صورت میں پاکستان کا’’مستقبل‘‘ صاحب بہادروں کے جوتے پالش کرتا، ہوٹلوں میں برتن مانجھتا، کاریں صاف کرتا، کہیں معاشرے کا بوجھ بن کر بھیک مانگتا اور جرائم کی دلدل میں دھنستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔جی تو چاہتا ہے کہ آپ کی خدمت میں عیدالاضحی کی مبارکباد پیش کی جائے لیکن مظلوم لوگو ں سے خوشیاں روٹھ چکی ہیں ہم اتنی قربانیاں دے چکے ہیں کہ اب ہمارے پاس قربان کرنے کو کچھ نہیں بچا۔ہم نے تحریک پاکستان سے لےکر آج تک قربانیاں دینے کا عہد کیا اور اپنے عہدکو نبھاتے ہوئے ملک و قوم کی خاطر قربانیوں دیتے دیتے آج ہم ایسی نادار، بے بس، مظلوم، بے کس اور مجبور ’’بھیڑیں‘‘ بن چکے ہیں جن کی امنگوں ، خواہشوں ، خوابوں اور ارمانوں کا لہو سرمایہ داروں، جاگیرداروں و حصول اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے خون آشام، مقتدر بھیڑیوں کا من پسند مشروب بن چکا ہے ۔ آخر ہم کب تک یہ قربانیاں دیتے رہیں گے؟ جدوجہد کب کریں گے ان کے خلاف جنہوں نے ہمیں اس حال بلکہ بدحالی تک پہنچا دیا ہے۔ ہماری قربانیاں لینے والے کون ہیں ؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جلاد اور بدنیت شیطان درندے ہمارے گردوپیش میں ہی موجود ہیں ۔ ہم انہیں جانتے تو ہیں لیکن پہچانتے نہیں اور اگر پہچانتے بھی ہیں تو ان سے نجات کیلئے جدوجہد نہیں کرتے؟ ہم سنت ابراہیمی ؑ کو زندہ کرنے کی خاطر عصر حاضر کے نمرودوں جو خدا کی زمین پر خود خدا بن بیٹھے ہیں کے خلاف جدوجہد کب کریں گے؟نمرود کے پیروکار یہ وہی سدا بہار مقتدر لوگ ہیں جن کا تعلق مراعات یافتہ طبقے سے ہے اور جب چاہتے ہیں جس وقت چاہتے ہیں ہمیں بھیڑبکریوں کی طرح دبوچ کر پولیس کے عقوبت خانوں میں جنہیں تھانے بھی کہا جاتا ہے لے جا کر مادرزاد برہنہ حالت میں جلتے تپتے فرش پر لٹا کر ہماری شرم و حیا اور معصومیت کو قربان کرکے ناکردہ گناہوں کی سزا میں چھترول کراتے ہیں۔ ہماری بے حسی کی وجہ سے اب تو ان کے دست چنگیزی ہماری بہنوں، ماؤں ، بیٹیوں پر بھی اٹھنے لگے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ یہ مراعات یافتہ لوگ ہماری بے بسی کی بنیاد پر اپنی سیاست اور چودھراہٹ کے محل منارے قائم رکھ سکیں۔ عید الاضحی کا دن حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے دھرتی کے جھوٹے خدا نمرود کی خدائی اور جھوٹی چودھراہٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیاتھا۔اس حق وصداقت کی سزا کے طور پر انہیں آتش نمرود کی نذر کیا گیا ۔خدا نے اپنے سچے پیغمبر کو محفوظ رکھا اور پھر اسی عظیم پیغمبر نے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے خداؤں کو ضرب ایمانی سے پاش پاش کردیا۔نیلے آکاش کو گواہ بناکر عہد کریں کہ ہم مظلوم بھی سنت ابراہیمی ؑ کو زندہ کرنے کی خاطر ظالم ، جاگیرداروں، بدنیت وڈیروں، بدقماش سرمایہ داروں، مزدوروں کے معاشی اور عملاً قاتل لٹیرے صنعت کاروں ، قومی خزانہ لوٹنے والوں،زکوٰۃ اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے مگر مچھوں، خون پینے والے سود خوروں، جونکوں ، رشوت خور چمگاڈروں، بے رحم پولیس ٹاؤٹوں، انصاف سے عاری چٹی دلالوں، براداری ، فرقے اور مختلف تعصبات پھیلانے والوں ، اپنے اقتدار کے قیام کی خاطر ملک کا ایک حصہ قربان کرنے والوں ، ملکی وقار کو داؤ پر لگانے والوں، ٹی وی ، وی سی آر، ڈش انٹینا اور کیبل کے ذریعے فحاشی پھیلانے والوں، مظلوم کی عزت و عظمت کو پامال کرنے والوں ، ختم نبوت کے منکروں، بے دین، بے حیا کیمونسٹوں، امریکی سامران کے ایجنٹوں، خدا کی زمین پر جھوٹی خدائی کے دعویداروں، احکام شریعت اور رسالت کے باغیوں، جرائم کی کوکھ سے جنم لینے والے سنپولوں کو اپنے اختیارات کی چھاتی سے دودھ پلا کر انکی پرورش اور سرپرستی کرنے والوں، انصاف کی دھجیاں اڑانے والوں، سرکاری ملازمتیں سرعام نیلام کرنے والوں، مظلوم انسانوں کا لہو پی کر پلنے والے ’’سرکاری سانڈوں‘‘ حکومتی مراعات حاصل کرنے والے’’بھینسوں‘‘ منشیات فروشوں اور انکے سرپرستو، جعلی ڈگری ہولڈر اور دہری شہریت رکھنے والے اسمبلی ممبروں، وزیروں، بھتہ لینے والے اورقتل میں ملوث نامزد سرکاری عہدیداروں  طویل دھرنا دینے والوں اور نام نہا د انقلاب والوں اور لمبی لمبی تنی ہوئی مغرور گردنوں والے عصر حاضر کے نمرودوں کو اس عید قربان پر ہم مظلوم اگر قربان نہ کرسکے تو بے نقاب ضرور کردیں گے تاکہ زمانہ ان کے مکروہ چہروں کو پہچان سکے ، انکے کالے کرتوتوں کو جان سکے۔ پاک سرزمین کا ذرہ ذرہ اپنے تقدس کی بحالی کیلئے چیخ چیخ کر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی اس سرزمین کو ان ناپاک، بدبودار، لید اور بھاری بھر کم لاشوں کے وجود سے پاک کرکے دھرتی کا بوجھ کم کردیں تاکہ ان کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے ۔ہمہ قسم اقتدار کی کنجیاں باکردار، باصلاحیت اور خوف خدا رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں آجائیں جو خدا کی زمین پر خدا کاقانون نافذ کریں گے تاکہ پسے ہوئے طبقے، غریب عوام، بدحال مزدور، بھوک سے بلکتے ہوئے کسان اور بدحال محنت کش خوشحال ہوجائیں اور انہیں بنیادی ضروریات خوراک، لباس، رہائش، تعلیم ، علاج اور انصاف مفت فراہم ہوجائے اور مساوات محمدی کا نظام عملاً نافذ ہوکر اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے۔پاکستان کو انکے خونی پنجوں سے آزاد کرانا ہی حقیقی عیدâخوشیá ہوگی، عصر حاضر کا یہی تقاضا ہے اور یہی نوشہ دیوار بھی ہے ۔ہمیں اپنی عزت کی بحالی کی جنگ یہیں نہیں لڑنا بلکہ بوسنیا، فلسطین، افغانستان، عراق اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی دستگیری کرنا ہے۔ ہمارے جذبات کچلے جاچکے ، ہماری امنگوں کی کلیاں مسلی جاچکیں، ہماری معصوم خواہشات قربان ہوچکیں ، ہمارے سندر سپنے چکنا چور ہوچکے ،ہمارے دل کے ارمان آنسوؤں کی ٹھنڈی آگ میں جل چکے!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published.