بکری چوری کا الزام اور سزا ۔موت

انسانی فطرت ایک ہمہ گیر اور تہہ در تہہ ہے جس کی ہر تہہ دوسری سے مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ انسان کے پل پل بدلتے روئیے کسی بھی دوسرے انسان کی سمجھ اور سوچ سے بالا تر ہیں ،اس کی عقل کام کرے تو وہ آسمان کو چھو لیتا ہے ،مت ،عقل ،ماری جائے تو کسی کی موت پر جا ٹھہرتا ہے وہ اسی میں اپنی تسکین اور بڑا پن سمجھتا ہے کسی بھی انسان کے مظلوم سے ظالم بننے میں کچھ دیر نہیں لگتی ،وہ کسی کی تذلیل میں پے پناہ لذت محسوس کرتا ہے مگر جب خوداس کی تذلیل یا اس جے ساتھ کسی نوعیت کی بے انصافی ہوتی ہے تب اسے باقی ساری دنیا بہت ظالم اور سفاک نظر آتی ہے ،ایسے کردار معاشرے میں کسی بہتری ،امن و امان اور انسانیت کی بحالی کے بجائے اس کی پامالی میں سرگرداں نظر آتے ہیں یہی حضرت انسان روزانہ کی بنیاد پر اپنے ارد گر دہونے والے واقعات سے سبق حاصل نہیں کرتا بلکہ وقتی طور پر تو وہ خود انہی حالات میں ڈھال کر کچھ ہی دیر میں سانپ کی طرح اپنی۔کجلی۔بدل لیتا ہے،اس کے بے پناہ روپ ہیں اسے سمجھنا اسے جاننا اس کی سوچ تک پہنچنا نا ممکن ہے ،وہ دنیا کے تمام جانوروں میں سے سب سے زیادہ زہریلا جانور ہے ،اس کے زہر سے ایک کیا بعض اوقات کئی انسان بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ایک انسان کا جتنا دشمن انسان ہے اتنا کوئی اور ذی جان نہیں ہے،عید سے دو روز قبل بہاولپورکی تحصیل احمد پور شرقیہ میں معمولی لالچ اور حکومتی اداروں کی روایتی بے حسی پر انسانیت جل کر راکھ ہو گئی ،وہاں کی فضا آج بھی چنگھاڑ چنگھاڑ کر ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے ماتم کر رہی ہے ،رہتی دنیا تک وہاں سے گذرنے والے اس المناک واقعہ کا ذکر ضرور کرتے رہیںگے،اسی تاریخی ضلع کے ایک اور تاریخی قصبہ ۔اوچ شریف۔جو احمد پور شرقیہ اور علی پور کے درمیان میں واقع ہے کے علاقہ میں بیٹ احمد ۔میں مشتاق نامی شخص کی بکری چوری ہو گئی الزام اسی گائوں کے رہائشی ابراہیم کے 14سالہ بیٹے پر لگا مقدمہ درج ہوا مگر محمد عامر بے گناہ ہو کر گھر پہنچ گیا اسے واپس گھر دیکھ کر مشتاق احمد کے اندر کا زہر پھنکارنے لگا،اس نے موقع ملنے پر اپنے ساتھیوں فیاض احمد اور محمد حسین کے ہمراہ محمد عامر کو پکڑ لیا جو اسے قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاںاس پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ معصوم عامر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا،ایک بکری کیا گم ہو گئی وہاں تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی، وہ پتا نہیں بکری چوری کی کس نے ۔عامر ۔پر تو محض الزام تھا اس بکری کی قیمت کیا ہو گی؟جس کا اتنا دکھ اور اتنا نا قابل تلافی بدلہ کہ ایک معصوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔مسل ۔ ہی دیا گیا،ہم میں سے ہر کوئی کسی کا باپ،کسی کا بیٹا،کسی کا بھائی اور کسی ماں کا لخت جگر ہے ذرہ تصورکریں جس وقت وہ ،معصوم ان بھیڑیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بن رہا تھا تب اس کی بے بسی اور تکلیف کا عالم کیا ہو گا؟اس کی ماں ان لمحات کا تصور کر کے پتا نہیں کیا کیا ۔بین ۔کرتی ہو گی ، اسی علاقہ کے لوگ کیا پورے پاکستان کے لوگ احمد پور شر قیہ میں ہونے والی قیامت پر ہر دل روتا رہاکہ نہ جانے اس علاقہ کے لوگوں کو کس گناہ کی سزا ملی مگر لاشوں کے سوختہ ہو جانے کے باوجود بھی اسی علاقہ میں موجود مشتاق جیسے درندوں کے اندر انسانیت نے انگڑائی نہ لی وہ زہریلے تھے اور زہریلے ہی رہے،ان کا زہر صرف ایک بکری چوری ہونے کے الزام پر محمد عامر جس نے ابھی زندگی کی بہاریں بھی نہ دیکھی تھیں کو سسکا سسکا کر مار دیا،اس کی ماں سے اس کا لخت جگر چھین لیا گیا،بہنوں کا بھائی منوں مٹی تلے جا پہنچا،پاب بیٹے کا لاشہ دیکھ دیکھ کر اندر سے ختم ہو گیا ،آخر ایسا کیا گناہ کیا تھا اس معصوم نے جس پر اسے مار مار کر اس کی روح جسم سے الگ کر دی گئی ،ان ظالموں کے ساتھ جو مرضی سلوک ہو مگر ماں کا وہ بیٹا کبھی واپس نہ لوٹنے کے سفر پر روانہ کر دیا گیا،ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں مگر یہاں انصاف ہے کہاں ؟یہاں ایک درجنوں افراد کے قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں ،دنیا جہان کی چوری کرنے والے معززین ہیں ،قومی ادارے ہضم کرنے والے ایوانوں میں ہوتے ہیں ،لوٹ لوٹ کر اس ملک کوتباہ حال کردیا گیا مگر اس کی سزا تو کسی کو نہیں ملی شاید ملے بھی نہ اگر اس ملک میں صرف ایک بار بے رحمانہ احتساب ہو جاتا تو یہ دھرتی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہو چکی ہوتی اسے تو اس کے رہبر ہی کھا گئے ۔یہاں ہر کرپٹ ،نا اہل اور مگر مچھ جیل میں ہونے کی بجائے پروٹوکول میں پھرتے ہیں،پاکستان کی اس معتبر اشرافیہ کے کوئی قوائدو ضوابط نہیں ،وہ سب کچھ کھاتے بھی ہیں اور دھمکیاں بھی دیتے ہیں ،پاکستانی جیلوں میں بند 80فیصد افراد کا تعلق غریب طبقے سے ہے،ان میں زیادہ تعداد بے گناہوں کی ہے جو اندھے قانون کی بدولت جیلوں میں نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں ،یہاں فوری انصاف کی فراہمی جب تک یقینی نہیں بنائی جائے گی ایسی سفاکانہ روشیں آئے روز سامنے آتی رہیں گی،ایسے ظالموں کو فوری انصاف کے تحت سر عام تختہ دار پرلٹکایا جائے تو ان دل ہلا دینے والے واقعات کا تدارک اور روک تھام بڑی حد تک ممکن ہے ،گذشتہ دنوں ہزارہ میں ایبٹ آباد کے قریب ایک لعنتی،خبیث اور سفاک عمر رسیدہ شخص نے اپنے کھیت میں گدھی کے داخل ہونے پر گدھی کے مالک کم عمر لڑے کو مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا اس کا غصہ یہیں ٹھنڈا نہیں ہوا بلکہ اس نے لڑکے کو گدھی کے ساتھ باندھ دیا جو اسے گھسیٹتی رہی اسی عالم میں زخموں سے چور وہ لڑکا بھی خلاق حقیق سے جا ملا، حقیقت یہی ہےکہ اس ملک میں ایک دو نہیں بلکہ کئی اقسام کے قوانین لاگو ہیں جو درجہ بدرجہ اس کی حیثیت کے مطابق لاگو ہوتے ہیں ،صرف گدھی چوری کے الزام میں 14سالہ بچے کا قتل ؟

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.