بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔۔ کراچی کی سیاست کا نیا رخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزہبی جماعتیں اور سیاسی جماعتیں کراچی فتح کرنے کے لئے متحرک

کراچی پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا محور ہے ۔ 70اور 80کی دہائی میں یہ شہر مزہبی جماعتوں کے گڑھ تھے۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت علمائے اسلام ، پیپلزپارٹی اور دیگر مزہبی گروپ کراچی اور ملکی سیاست پر حاوی تھے۔ ملک میں اقتدار کا پلڑا بدلنے اور بنانے میں کراچی اور لالو کھیت مشہور تھے۔مہاجر قومی موومنٹ بننے کے بعد 1987میں کراچی کی سیاست نے یو ٹرن لیا ۔ بلدیاتی جیت کے بعد 1988میں عوامی تائید سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایوان میں ایم کیو ایم پہنچی۔اس وقت ایم کیو ایم کو کامیابی دلانے والی شخصیات میں چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ عظیم احمد طارق، طارق جاوید، سلیم شہزاد، زرین مجید، عمران فاروق، بدر اقبال ، ایس ایم طارق، محمد عامر خان ، سید امین الحق، آفاق احمد ، مجتبی خان ، عبدارشید، عبدالحفیظ صدیقی ، متین یوسف ، بانی ایم کیو ایم کا کلیدی کردار تھا ۔ ایم کیو ایم نے اسوقت اپنی ہائی کمان جس میں سلیم شہزاد، ڈاکٹر عمران فاروق، سید امین الحق،سید محمود حسین ہاشمی،ڈاکٹر محمد فاروق ستار ، ایس ایم اسلم ، انیس ایڈدووکیٹ کو قومی اسمبلی اور بدر اقبال ،زرین مجید ،کشور زہرہ، خالد بن ولید، فقیر محمد سمیت متعدد رہنمائوں کو اسمبلی بھیجا۔ 1990میں بھی کم و بیش یہی رہنما بھیجے گئے ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور جوں جوں ایم کیو ایم اقتدار میں جاتی رہی اسکی سیاست میں خرابیاں پیدا ہوتی رہیں ۔ جو چائنا کٹنگ ، اقربا پروری، بھتہ بازی دہشت گردی اور مختلف الزامات کی زد میں آتی گئیں ۔الطاف حسین کی گفتگو تلخ سے تلخ ہوتی گئی اور 22اگست2016کو پاکستان کے خلاف گفتگو کے بعد انکی سیاست کو بریک لگ گیا۔ 23اگست 2016کو ایک نئی ایم کیو ایم نے جنم لیا جسکو جنم دینے والے فاروق ستار، عامر خان ، خواجہ اظہار الحسن ، محمد حسین خان ، اظہار احمد ، خالد مقبول صدیقی، نسرین جلیل، کیف الوری، شبیر قائم خانی، سید امین الحق، فیصل سبزواری، حیدر عباس رضوی، اسلم آفریدی ، گلفراز خٹک، لیلی پروین ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، بلدیاتی نمائندگان شامل تھے۔فاروق ستار اسوقت ڈپٹی کنوینر تھے جبکہ ندیم نصرت کنوینر، تھے اسوقت ایم کیو ایم کو پابندی سے بچانے اور الطاف حسین کی پاکستان مخالف سوچ سے بچانے کے لئے ایم کیو ایم کی پاکستان قیادت نے لندن سے راہیں جدا کرلیں اور پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کا آئین حرکت میں آیا اور الطاف حسین کو حاصل لا محدود اختیارات اور انکا کردار آئین سے ختم کردیا گیا جسکی منظوری دو تہائی اکثریت سے رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان نے دی۔ اسوقت سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان تھے لیکن فاروق ستار کو دو تہائی اکثریت سے کنوینر بنا کر ندیم نصرت کو فارغ کردیا گیا۔ ایم کیو ایم میں کنوینر بننے کا طریقہ کار رابطہ کمیٹی ہی کرتی آئی ہے اشتیاق اظہر، عشرت العباد، کنور نوید، انور عالم اور ندیم نصرت اسی پروسیس سے گزرتے آئے ہیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے سیاست کے بعد پونے دو سال بعد جب وہ اپنی مائنس الطاف حسین پوزیشن بنانے میں کامیاب ہوگئی ۔ شدید بحران کا شکار ہوچکی ہے ۔ اسکی وجہ پے درپے کامیابیوں کے بعد آمریت کا عنصر ہے یاایک فرد کامران ٹیسوری کی آمد اور پارٹی پر گرفت کی کوشش ہے وجہ کچھ بھی ہو ۔ کراچی کی سیاست ایک نیا رخ لے رہی ہے جس میں 70اور80کی دہائی کی سیاست کی واپسی سمیت تمام آپشن نظر آرہے ہیں ۔ جس میں تحریک انصاف ، پی ایس پی کا اضافہ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے 2014میں کامران ٹیسوری کو ایم کیو ایم کا حصہ بنانے کی کوشش کی لیکن پاکستان سے لندن تک انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کامران ٹیسوری لیاری ایکسپریس وے ، اسمگلنگ،مختلف الزامات اور کرپشن معاملات کی شہرت رکھتے تھے اس لئے انہیں شامل نہیں کرنے دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق فاروق ستار نے پارٹی کنوینر شپ ملتے ہی فروری 2017میں رابطہ کمیٹی کی شدید مخالفت کے باوجود یہ کہ کر کہ پارٹی مالی بحران کا شکار ہے کامران ٹیسوری ایک کروڑ روپے دے کر اسیر ساتھی جنکی ضمانتیں ہو چکی ہیں انہیں رہا کرائیں گے۔ رابطہ کمیٹی کو زبردستی مجبور کرکے شامل کرالیا۔ کامران ٹیسوری نے شمولیت کے فوری بعد رنگ دکھانا شروع کردیا اور نجی محفلوں میں خود کو پارٹی کے میڈیا سیل کا انچارج بتانا شروع کیا۔ وہ ہر جلسے میں امین الحق کا ہاتھ تھام کر میڈیا کی جگہ پر آکر بیٹھ جاتے تھے۔ جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ میڈیا سیل دیکھ رہے ہیں ۔پارٹی کی روایات سے ہٹ کر ایک اخبار کو رقم دیکر روز اپنی خبر شائع کراتے تھے۔ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے اپنی ذات کا واسطہ دیکر انہیں بدترین مخالفت اور پارٹی اصولوں کے برخلاف رابطہ کمیٹی کا رکن بنوادیا۔ کامران ٹیسوری نے پی ایس پی سے نجی محفلوں میں ملاقاتیں شروع کردیں۔ پی ایس 114کی سیٹ خالی ہوئی تو فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے لڑ جھگڑ کر انہیں ٹکٹ دلوایا یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کی تاریخ کو برباد کرکے ٹیسوری نے نوٹوں سے ورکر اور کام کو چلایا ۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے سخت ایکشن لیکر باگ ڈور خود روایتی طریقے سے سنبھالی۔ صرف ایم کیو ایم کی وجہ سے 18500ووٹ ملے۔ کامران ٹیسوری نے اب ڈپٹی کنوینر کا عہدہ مانگا جس کے لئے فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی میں ٹھن گئی۔ فاروق ستار نے کہا وہی کنوینر شپ چھوڑ دیں گے ورنہ کامران ٹیسوری کو اوکے کرو بادل نا خواستہ رابطہ کمیٹی نے پارٹی بچانے کے لئے منظوری دے دی۔ اطلاعات کے مطابق کامران ٹیسوری نے اسی پر اکتفا نہ کیا فاروق ستار کو کہا کہ آپ آئین بدل لو اور رابطہ کمیٹی کی پرانی حاضری کے ساتھ اکتوبر 2017میں الیکشن کمیشن میں آئین جمع کرادیا ۔جس میں ویٹو پاور۔انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج مسترد کرنے۔ کسی کو بھی شامل کرنے یا فارغ کرنے اور مطلق العنان حکومت والے اختیارات کا آئین جمع کرادیا۔ جو ڈسکلوز ہوگیا اور فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے معافی مانگی کہ مجھ سے غلظی ہوگئی میں نے غلط کیا اور میں پرانا آئین جمع کرادوں گا لیکن مطلق العنان قائد بن کر انہوں نے کامران ٹیسوری کوہر شعبہ اور میڈیا سیل میں انچارج بنادیا۔ پارٹی دفاتر کا افتتاح بھی ان سے کرایا باقی رابطہ کمیٹی معلق کردی۔ باہر سے پارٹی کے نظم وضبط کے خلاف خراب شہرت کے افراد نازیہ علی ، سلمان خان ، صباحت ، مختلف شعبوں سوشل میڈیا میں خواتین اور مرد داخل کرائے جو کامران ٹیسوری کے مخبر تھے۔ کامران ٹیسوری پی پی پی اور مسلم لیگ فنکشنل میں بھی انہی فسادات کی وجہ سے فارغ کئے گئے تھے۔ بات اسوقت بڑھی جب سینیٹ کے ٹکٹ کے لئے رابطہ کمٹی کا معمول کا اجلاس جاری تھا اور امیدواروں کے لئے قرعہ اندازی کی گئی جس میں فروغ نسیم اول۔ نسرین جلیل دوم امین الحق سوم شبیر قائم خانی چہارم عامر خان پنجم اور کامران ٹیسوری ووٹنگ میں ششم پر آئے ۔ سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے معزرت کرلی جسکے بعد پانچ امیدواروں پر فیصلہ تھا ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے ہمیشہ کی طرح درخواست کی اور پھر شبیر قائم خانی سے کہا کہ وہ والینٹرانہ دستبردار ہوجائیں ۔ جب بات نہ بنی تو وہ یہ کہ کر کہ میں کنوینر شپ چھوڑ دوں گا اگر کامران ٹیسوری کو ٹکٹ نہ دیا گیا اور بہادر آباد مرکز چھوڑ کر چلے گئے۔ رابطہ کمیٹی مناتی رہی نہ آئے بلکہ تمام اراکین اور ہم خیال رابطہ کمیٹی کے ارکان کا اجلاس بلالیا۔ رابطہ کمیٹی التجا کرتی رہی لیکن وہ ہتھے سے اکھڑے رہے ۔ ۵ فروری کی رات رابطہ کمیٹی کو میڈیا کو حقائق سے آگاہ کرنا پڑا۔ لیکن اس میں انکی بد نیتی شامل نہیں تھی ۔ لیکن فاروق ستار نے نئی کہانی پیش کرکے حقائق بتانے سے گریز کیا۔ جسکے بعد ایک ہفتے تک وہ چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہے۔ یہ بھی واضع کردیں کہ 6فروری سے تمام افراد جو پی آئی بی میں تھے انہوں نے کھلا پیغام دیا کہ فاروق ستار الگ ہو گئے ہیں بہادر آباد غداروں کا مرکز ہے جو فاروق ستار کا وفادار ہے یہاں آئے۔ فاروق ستار پہلے دن کہتے رہے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں کیونکہ پرانا آئین رابطہ کمیٹی نے ان سے 3جنوری 2018کو دوبارہ جمع کرادیا تھا اس لئے وہ مطلق العنان بادشاہ نہیں رہے تھے۔ فاروق ستار کو الطاف حسین بنانے اور اختیارات کی لائن پر لگانے والے کامران ٹیسوری تھے ۔ ارم عظیم فاروقی کی واپسی رابطہ کمیٹی نے رد کی تو فاروق ستار نے ارم عظیم فاروقی سے کامران ٹیسوری کے ساتھ ملکر میریٹ ہوٹل میں ملاقات کی اور کہا کہ وہ عامر خان کے خلاف مہم چلائیں۔ سلمان مجاہد بلوچ جو فاروق ستار کو گالیاں اور نا اہل سربراہ کہ کر گیا تھا اسے بلا کر عامر خان کومغلظات بکی گئیں ۔ پی آئی بی میں غدار عامر خان غدار کے نعرے لگوائے گئے۔ رابطہ کمیٹی غدار کے نعرے لگے۔ یہ معاملات اچانک نہیں ہوئے اسکے پیچھے پورا ایک منظر نامہ ہے۔ عامر خان جو پارٹی کے سینئر دپٹی کنوینر ہیں وہ عمرے پر تھے 8نومبر 2017کو ایک معمولی ایجنسی اہلکار کی گرفت پر فاروق ستار فیصل واڈا کے گھر چلے گئے پی ایس پی سے معاملات طے کر کے رابطہ کمیٹی کو لیکر پریس کلب گئے جہاں مصطفی کمال نے انکی اپنی عزت اتاردی۔ فاروق ستار نے عامر خان سے مشورہ تک نہیں کیا۔ پارٹی میں فاروق ستار کے خلاف کارکن بغاوت پر تیار بیٹھے تھے۔ لیکن عامر خان اور رابطہ کمیٹی نے منع کیا اور 9تاریخ کو عامر خان کے کراچی پہنچنے سے پہلے انہوں نے پی ایس پی کے خلاف پریس کانفرنس کردی۔ عامر خان پی آئی بی آئے تو حقارت سے ہاتھ ملایا۔ جو میڈیا نے بھی دیکھا۔ فاروق ستار کی فسطائی ذہنیت اور حاکمیت واضع ہوگئی تھی ۔لیکن تحریک کو تقسیم سے بچانے کے لئے رابطہ کمیٹی نے صبر کیا۔ رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو میڈیا اور گھر جاکر منانے کی کوشش کی ان پر ایم این اے ساجد احمد ، شاہد پاشا نے 150افراد کے ساتھ حملے اور تشدد کی کوشش کی ۔ فیضی نامی شخص نے عامر خان ، کشور زہرہ ودیگر کو دھمکیاں دیں کامران ٹیسوری نے وسیم اختر کے ساتھ اور سلیم بندھانی نے بھی مغلظات اور حملے کی کوشش کی جسے گارڈز نے ناکام بنادیا۔ انکے خلاف نعرے لگائے گئے۔ جنرل ورکرز اجلاس میں احسن غوری نے سماء ٹی وی کا عامر خان اور رابطہ کمیٹی کے خلاف پروگرام کرایا جس میں پی ایس پی کے ورکرز جو فاروق ستار کی دعوت پر آئے تھے انتہائی غلیظ الفاظ کہلوائے گئے۔ اسکے باوجو د رابطہ کمیٹی پی آئی بی جاتی رہی سوا گھنٹہ انتظار کرایا ملنے نہیں آئے ۔ بہادر آباد آنے کا روز اعلان کیا لیکن ننھے بچے کی طرح پری پلان میںمینخیں نکال کر عزر بناتے رہے ۔ فاروق ستار سے ملنے رابطہ کمیٹی گئی تو ساری باتوں کے بعد انہیں شوکازپکڑا دیئے گئے وہ کسی صورت مصالحت نہیں چاہتے تھے۔ مجبورا انکے ورکرز اجلاس کی طلبی اور پارٹی کی تقسیم مسلسل اصولوںکی خلاف ورزی کے بعد دو تہائی اکثریت سے رابطہ کمیٹی نے انہیں کنوینر شپ سے آئین کے مطابق فارغ کردیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے 5فروری کے بعد بہادر آباد کا رخ نہیں کیا۔ رابطہ کمیٹی انہیں بلاتی رہی ۔ وہ ہونے والے رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں کو غیر قانونی کہ کر ابہام پیدا کرتے رہے۔ جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے آئین کی شق نمبر 6(a)کے تحت سینئر ڈپٹی کنوینر کنوینر کی غیر موجودگی میں اجلاس کر سکتا ہے اور کیونکہ یہ سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے اس لئے سینئر ڈپٹی کنوینر نے آئین کے مطابق درست اجلاس کیا۔ آرٹیکل 7(b) میں بھی اسکی مکمل وضاحت اور اجلاس کا اختیار سینئر ڈپٹی کنوینر کو موجود ہے۔ آرٹیکل 9کی کلاز (a) میں یہ بھی واضع ہے کہ رابطہ کمیٹی کی دو تہائی اکثریت اعلی ترین پالیسی ؍ فیصلہ سازی کرے گی۔ آئین کے آرٹیکل 9کی شق (i) کی سب کلاز ون ٹو فور میں کسی بھی خالی عہدہ ؍ ذمہ داری کو پورا کرنا، کسی ذمہ دار کو بے دخل کرنا، پارٹی کے بہتر مفاد میں کوئی بھی فیصلہ یا اقدام کرنا رابطہ کمیٹی کی دو تہائی اکثریت کے فیصلے سے مشروط ہے۔ آرٹیکل 10ترامیم میں کوئی قواعد و ضوابط یا اس دستور کا کوئی حصہ ختم یا اس میں ترمیم نہیں کی جا سکے گی۔ماسوائے دو تہائی رابطہ کمیٹی کی اکثریتی رائے کے ۔آئین کے آرٹیکل 13(a)میں یہ بھی واضع ہے کہ پارٹی کے تمام عہدے ہر چار سال بعد اراکین کے انتخاب کے ذریعے پر کئے جائیں گے۔ 13(b) جب تک با قاعدہ انتخابات ہوں ۔ کمیٹی میں موجود خالی عہدوں کو دو تہائی اکثریتی فیصلے سے پر کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے دسمبر 2016میں منعقدہ انٹراپارٹی الیکشن جسکی معیاد 2020 میں آئین کے مطابق پوری ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جو غیر قانونی ہیں ۔ آرٹیکل 18میں واضع ہے کہ رابطہ کمیٹی کے ممبران سادہ اکثریت سے کنوینر ، سینئر ڈپٹی کنوینر اور ڈپٹی کنوینرز کو ،نتخب کریں گے۔ آرٹیکل 19میں واضع ہے کہ مرکزی رابطہ کمیٹی ایک پارلیمانی بورڈ قائم کریگی جو کہ سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتوں کے لئے امیدواروں کا انتخاب کریگی۔ مرکزی پارلیمانی بورڈ کی جانب سے فائنل کئے جانے والے امیدواروں کی لسٹ کمیٹی کے سامنے برائے حتمی فیصلہ پیش کی جائے گی۔ آئین کی آرٹیکل 19اے کے تحت رابطہ کمیٹی کی جانب سے حتمی طور پر منتخب کئے جانیوالے امیدوار ان پارٹی ٹکٹ کے اہل ہوں گے۔ ان سب باتوں کو مد نذر رکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کچھ نادیدہ قوتیں ایم کیو ایم میں دراڑیں ڈال کر اسے ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ کراچی کی سیاست ایم کیو ایم کے اس دھڑے بندی پر بڑی تبدیلی کا شاخسانہ بن سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کا معاملہ الیکشن کمیشن میں چلا گیا ہے اور 27 فروی کو اسکی سماعت ہے لیکن ایم کیو ایم کا ووٹر اور کارکن سخت اذیت میں ہے۔ آنے والے چند دنوں میں صورتحال واضع ہوگی حل نہ نکلا تو بڑے بڑے اپ سیٹ ہو سکتے ہیں۔ فاروق ستار کی جانب سے نئی رابطہ کمیٹی اور سی ای سی بننے کے بعد بہادر آباد والوں کو للکار کہ اب ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے میں بہادر آباد آرہا ہوں ۔ جس پر کنور نوید نے کہا کہ وہ تمام معاملات کو کالعدم کرکے آسکتے ہیں ۔ اسکے بعد فاروق ستار ڈھٹائی سے شرمندہ ہونے کے بجائے بہادر آباد سے کھیل رہے ہیں گزشتہ روز کنور نوید نے انہیں واپس بہادر آباد آنے کی بھی دعوت دی اور کہا کہ وہ 5فروری کی پوزیشن پر واپس آجائیں ہم تمام فیصلے ریویو کرلیں گے ۔ یہ ایک اچھی پیشکش ہے جس پر فاروق ستار کو عمل کرکے قوم کو منتشر اور ایم کیو ایم کو تقسیم ہونے سے بچانا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.