اہل خانہ کی بہتر صحت کے لئےبرتن دھونے کا اسفنج پرخصوصی توجہ دیں

برلن جدت ویب ڈیسک ::جرمن ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ باورچی خانوں میں برتن صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اسفنج میں 362 اقسام کے جراثیم وافر ہوتے ہیں جبکہ ان کی تین اقسام ایسی ہیں جو انسانی صحت اور جان کے لیے شدید طور پر نقصان دہ ہیں۔فرٹ وینجن یونیورسٹی، جرمنی میں ماہرین نے مختلف مقامات سے استعمال شدہ کچن اسفنج برتن دھونے والے اسفنج کے 14 نمونے حاصل کیے اور ان کا جینیاتی تجزیہ کیا جس کا مقصد اسفنج کے نمونوں میں موجود جرثوموں کی اقسام کا تعین کرنا تھا۔تحقیق کے نگراں ڈاکٹر مارکس ایجرٹ کہتے ہیں کہ اگرچہ انہیں امید تھی کہ برتن دھونے والے اسفنج میں جراثیم موجود ہوں گے لیکن اتنی زیادہ اقسام کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی خود ان کے لیے حیران کن ہے ۔تشویش ناک بات یہ سامنے آئی کہ برتن دھونے والے صاف ستھرے اسفنجوں میں بھی یہ جراثیم اسی طرح موجود تھے جیسے گندے اسفنجوں میں دیکھے گئے تھے ۔ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹ‘‘ میں شائع شدہ اس تحقیق کے مصنفین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ برتن دھونے والے اسفنج کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ہر ہفتے یہ اسفنج تبدیل کرلیا کریں تو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی بہتر صحت کی ضمانت دے سکیں گی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ برتن صاف کرنے والا اسفنج محفوظ ہوتا ہے کیونکہ اسے روزانہ کئی بار دھویا جاتا ہے تو اپنی غلط فہمی دور کرلیجیے کیونکہ اس میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کی سینکڑوں اقسام موجود ہوسکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.