اکشے کمار نے ٹھان لی ، بھارتیوں کوبیت الخلا کی تربیت فراہم کرنے کی

نئی دہلی جدت ویب ڈیسک :: فلم ’ٹوائلٹ ۔ ایک پریم کتھا‘ دراصل ایک جوڑے کی کہانی ہے جس میں ہیروئن دوسرے گاؤں سے بیاہ کر جس گاؤں میں آتی ہے وہاں گھروں میں بیت الخلا موجود نہیں۔ اس بنیادی سہولت کی عدم دستیابی پر وہ (بھومی پڈنیکر) احتجاجاً گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور یہیں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔اس کے بعد کی فلم اکشے کمار کی جدوجہد پر مبنی ہے کہ کس طرح وہ گھر میں بیت الخلا بنوانے کے لیے لڑتا ہے اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔فلم کو اگلے ماہ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ریلیز کیا جائے گا معروف اداکار اکشے کمار کی بھارت کے اہم ترین مسئلے بیت الخلا کی عدم موجودگی پر فلم ’ٹوائلٹ ۔ ایک پریم کتھا‘ اگلے ماہ ریلیز ہونے جارہی ہے۔ اکشے کمار کا کہنا ہے کہ اس فلم کا مقصد لوگوں کا بیت الخلا کے حوالے سے مائنڈ سیٹ بدلنا ہے۔بھارت میں اس وقت 63 کروڑ سے زائد افراد بیت الخلا کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔بھارت جسے خواتین سے زیادتی کے حوالے سے سرفہرست ملک سمجھا جاتا ہے، وہاں زیادتی کے 50 فیصد سے زائد واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب خواتین رفع حاجت کے لیے گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔حال ہی میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں فلم کے مرکزی کرداروں اکشے کمار اور بھومی پڈنیکر نے اس سماجی مسئلے کے بارے میں بات کی۔اکشے کمار کا کہنا تھا کہ اس فلم کو پیش کرنے کا مقصد بیت الخلا کے حوالے اس نظریے کے خلاف لڑنا ہے جو پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے۔فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والی بھومی پڈنیکر کا کہنا تھا کہ دیہات میں رہنے والی خواتین صرف سورج نکلنے سے قبل اور بعد میں رفع حاجت کے لیے جا سکتی ہیں۔ ’بقیہ پورا دن وہ کھیتوں میں بھی کام کرتی ہیں، گھر بھی دیکھتی ہیں، بچے بھی سنبھالتی ہیں، گھر والوں کا خیال بھی رکھتی ہیں۔ اس کے بعد جب وہ رفع حاجت کے لیے جاتی ہیں تب بھی ذہنی طور پر پرسکون نہیں ہوتیں کیوں کہ کبھی بھی کوئی بھی انہیں ہراساں کرسکتا ہے، ان کی تصویر کھینچ سکتا ہے یا ویڈیو بنا سکتا ہےانہوں نے کہا، ’ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ جہاں کھانا پکایا جاتا ہے، کھایا جاتا ہے، وہاں رفع حاجت نہیں کی جاسکتی، اور اس کے لیے گھروں سے باہر جا کر اس بنیادی ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے۔ ہم اس نظریے کے خلاف لڑ رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.