آج تاریخی فیصلہ نہیں ، تاریک دن ہے ،ن لیگیوں کی پریس کانفرنس

جدت ویب ڈیسک :ن لیگ کے رہنماوں نے ہریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آک تاریخی فیصلہ نہیں سیاہ تاریک دن ہے اپنے کارکنوں سے کہتے ہیں کہ پُر امن رہیں اور آج ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو ا ہےمسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاہے کہ جے آئی ٹی کا ایک حصہ مخبر پر منحصر ہے ،دنیا کی تاریخ میں آج تک کوئی رپورٹ ایسی نہیں ہے جو سور س پر بنی ہو ۔انہو ںنے کہا کہ ہم نے اخبارات میں پڑھا کہ جے آئی ٹی کی فارمیشن واٹس ایپ کے ذریعے ہوئی جے آئی ٹی بنی تو ہم نے ادب کے ساتھ گزارش کی کہ اس میں ایک وہ آدمی ہے جو ہماری خلاف ریفرنس بنا چکا،ایک وہ ہے جس کی بیوی ہمارے خلاف الیکشن لڑتی ہے ،ہم نے بتایا کہ جے آئی ٹی لوگوں کو بلاتی ہے اور دھمکی دیتی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ نے اپوزیشن کے تینوں الزامات مستردکیے ہیں ۔تین ججز نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی سماعت کی اور فیصلہ پانچ ججز نے دیا ،جب ہمیں پتہ چلا کہ فیصلہ پانچ رکنی بینچ دے گا تو ہمیں شدید حیرانی ہوئی ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ کا کہناتھا کہ ایک پارٹی نے عدالت کے کندھوں پر حکومت گرائی ،نوازشریف نے فیصلہ کیا کہ ہم کسی بھی ٹیکنیکل بنیاد پر نہیں جائیں گے بلکہ عدالت میں جائیں گے اور موقف پیش کریں گے ،بیس اپریل کو دو جج صاحبان نے فیصلہ دیا اور تین ساتھیوں نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ،تاریخ میں کبھی اس طرح کی جے آئی ٹی نہیں بنی ، لیکن پھر بھی ہم نے اسے قبول اس لیے کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ یہ پراسیس سے بھاگنا چاہتے ہیں ،،یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ تحقیقاتی عمل کی نگرانی جج صاحبان خود کررہے ہوں ۔ انوشہ رحمان کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پاکستان کا جرم یہ تھا کہ وہ وزیراعظم بنے اور بار بار بنے جبکہ نوازشریف جلاوطنی کے زمانے میں اپنے بیٹے کی کمپنی کے ہیڈ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک بار پھر پوری قوت کیساتھ واپس آئیں گے انہیں کوئی بھی گھر نہیں بھیج سکتا  احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان نے نواز شریف پر اربوں روپے کرپشن کے الزامات لگائے جبکہ عدالت نے بیٹے کی کمپنی سے 10ہزار درہم تنخواہ وصول نہ کرنے پر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے، آج یہ فیصلہ آیا تو مجھے محاورہ یاد آگیا ،کھودا پہاڑ نکلا چوہا،وہ بھی مرا ہوا ، فیصلے کے بعد وزیر اعظم کابینہ کی میٹنگ میں کہا ہے کہ عوام کی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا او ر مسلم لیگ (ن) کی حکومت جون2018ءتک اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےرہنما مسلم لیگ  احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے امکان کے مفروضے پر وزیر اعظم کو نا اہل کیا گیا،ہماری جماعت کو خدشات تھے لیکن اس عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ منتخب وزیر اعظم نے خود کو اپنے خاندان کو یہاں تک کہ اپنی بیٹی کو بھی احتساب کے لئے پیش کیا ، جب سارے جواب دیے گئے تو یہ کہا گیا آپ 10 ہزار درہم پرنااہل ہورہے ہیں ۔ حالانکہ ایسے معاملے میں معمولی انسانی غلطی قراردےکر نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن اب یہ فیصلہ شاید یہ فیصلہ دنیا کے لا اسکولزمیں کیس اسٹڈی کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اگر اس پیمانے کو اپنایا گیاتو مجھے ڈر ہے کوئی بھی صادق امین نہیں رہے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پر الزام تھا کہ آپ نے اربوں روپے کی کرپشن کی لیکن نوازشریف کی تلاشی لی گئی اسکے بعدالزام لگاآپ نے بیٹے سے2لاکھ روپے نہیں لیے،نوازشریف نے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں کروڑوں روپے کے اثاثے ظاہرکیے۔2لاکھ یاسوا 2 لاکھ انہوں نے ظاہرنہیں کیے تو اس سے اسٹیٹمنٹ میں کیاتبدیلی آسکتی ہے۔عدالت قطعیت سے کہتی نواز شریف فلیٹس کے مالک ہیں تو ہمیں شرمساری ہوتی مگر آج کے فیصلے کے بعد میرا اپنی قیادت اعتماد10گنا بڑھ گیا ہے اس ملک میں محمد خان جونیجو جیسے دیانتدار وزیر اعظم کو بھی چور اور ڈاکو کے الزامات لگا کر اقتدار سے علیحدہ کیا گیا۔ افغانستان میں حکومتیں اپنی مدت پوری کر رہی ہیں لیکن پاکستان میں70سالوں سے منتخب عوامی نمائندوں کو ان کی مدت پوری نہیں کرنے دی جارہی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.