آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ

ایک ماہ تک جاری رہنے والا11آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈکپ 2107تاریخ کے انتہائی سنسی خیز مقابلے کے بعد میزبان ٹیم انگلینڈنے فائنل میں بھارت سے جیتی ہوئی بازی چھینتے ہوئے نو رنز سے شکست دے کر عالمی چیمپئین بننے کا عزاز حاصل کر لیا ،انڈین ٹیم کی یقینی کامیابی دیکھتے ہی دیکھتے شکست میں بدل گئی ، انگلش کپتان ہیتھر نائٹ نے جیت کے بعد کہا کہ یہ جیت ہمیں بہت مشکل سے ملی ہے آخری لمحات میں کیچ ڈراپ ہونے سے ہمیں شکست صاف نظر آئی مگر اس موقع پر۔اینا شریسول ۔کی شاندار بائولنگ سے اس وقت وکٹیں حاصل ہوئیں جب ان کی ضروت تھی ،فاسٹ بائولر شریسول حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 46رنز کے عوض 6وکٹیں حاصل کر کے انڈیا کے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب چکنا چور کردیا ،شریسول کی یہ بائولنگ اس ورلڈ کپ کی سب سے بہترین بائولنگ تھی ،انڈین ویمن کیپٹن متھالی راج نے میچ کے بعد کہا۔مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے اس ٹیم نے انڈیا میں لڑکیوں کی آئندہ نسل کے لئے ایک پلیٹ فارم سیٹ کر دیا ہے ، ہماری آخری بلے بازاتنے بڑے پلیٹ فارم کا دبائو برداشت نہیں کر سکیں ،میرا اور گوسوامی کاآخری ورلڈ کپ تھا جسے ہم جیتنا چاہتے تھے مگر انگلینڈ کی تجربہ کار ٹیم کی بہترین بائولنگ اور بیٹنگ اور فیلڈنگ کے باعث ایسا نہ ہو سکا بہرحال ہم نے تجربہ کار انگلینڈ ٹیم کو آسانی سے فائنل میچ نہیں جیتنے دیا، انگلینڈ کے تاریخ گرائونڈ ۔لارڈز پر میزبان ٹیم نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا اوپنرز ونفیلڈ اوربومونٹ نے اننگرز کا پر اعتماد آغا کیا مگر 47کے مجموعی سکور پر ونفیلڈ بولڈ ہو گئیں کچھ ہی دیر بعد دوسری اوپنر بومونٹ انڈین بائولر پونم یادو کی فل ٹس گیند پر اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے گوسوامی کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہو گئیں دونوں اوپنرز نے باالترتیب24اور23رنز بنائے ،انڈیا کو تیسری وکٹ کے حصول کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا جب ۔نائٹ۔محض ایک سکور پر ایل بی ڈبلیو ہو گئیں ،چوتھی وکٹ 146کے سکور پر وکٹ کیپرسارہ ٹیلر 45کے انفرادی سکور پر جھولان گوسوامی کی گیند پر کیچ ہو گئی اسی سکور پر نئی کھلاڑی ولسن بھی گوسوامی کے ہاتھوں ہی پویلین واپس، ننالی سیورنے نصف سینچری سکور کیااور51سکور پر ایل بی ڈبلیو ہو گئیں اسے بھی گوسوامی نے آئوٹ کیا، 196کے سکور پر۔کیتھرین برنٹ ۔34رنز بنا کر رن آئوٹ جبکہ آخری اورز میں جینی گن25 اور ٹورا مارش14 نے تیز کھیلتے ہوئے سکور کو 228تک پہنچا دیااس اننگزمیں لورین ون فیلڈ 24،اورٹیمی بیومونٹ کے23رنز بھی شامل ہیں،انڈین بائولرز نے انگلینڈ کو محدود رکھتے ہوئے جیتنے کے لئے 229کا ٹارگٹ دیا ،انڈین بائولر گوسوامی نے بہترین بائولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 39رنز سے کر3وکٹیں حاصل کیں جبکہ ان میں سے تین میڈن اوور بھی تھے۔جواب میں انڈین ٹیم 219رنز بنا سکی ،ہدف کے تعاقب میںبھارتی ٹیم کو ابتدا میں ہی ایک جھٹکا لگا جب سمرتھی مندانا بغیر کوئی رن بنائے آئوٹ ہو گئیںاس کے بعد متھالی راج اور پونم روت نے بہترین بیٹنگ سے سکور کو43رنز تک پہنچایا تو بھارتی کپتان متھالی راج ٰلط فہمی کی بنیاد پر رن آئوٹ ہو کر واپس لوٹ گئی،بعد میں گذشتہ میچ کی ہیرو برمن پریت نے پونم کے ساتھ تیسری وکٹ میں95رنز کا اضافہ کیا اور51رنز پر پویلین لوٹ گئیں،پونم دوسرے اینڈ پر ڈٹی رہیں اور ویدا کرشنا مرتھی کے ساتھ سکور کو191رنز تک پہنچا کر بھارتی فتح کو یقینی بنا دیا یہ وہ وقت تھا جب انگلینڈ کی کھلاڑیوں کی آنکھیں ۔نم۔ ہونا شروع ہو چکی تھیں اس وقت لگتا تھا کوئی معجزہ ہی انگلینڈ کو اب شکست سے بچا سکتا ہے مگر وہ معجزہ ہو ہی گیا۔انگلش بائولر ۔شرب ایسول ۔نے شاندار بائولنگ سے بھارتی بیٹنگ کو تہس نہس کر تے ہوئے پوری ٹیم کو219رنز پر ٹھکانے لگا دیابھارت کی آخری چھ وکٹیں صرف28رنز کے اضافے سے گریں ،بہترین بائولنگ پر شرپ ایسول کو میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ ٹورنامنٹ میں400رنز بنانے والی انگلش بیٹسمین ٹیمی بیونٹ نے ایونٹ کی بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا، اس ٹورنامنٹ میں میزبان ٹیم انگلینڈ ،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،پاکستان ،ویسٹ انڈیز ،جنوبی افریقہ ،سری لنکا اور انڈیا کی ٹیموں نے شرکت کی ،پول میچوں میں ہر ٹیم کو دوسری ٹیم نے دوسری ٹیم کے ساتھ سات میچوں میں پنجہ آزمائی کی جن میں سے میزبان ٹیم انگلینڈ نے 6،انڈیا 5،آسٹریلیا6جنوبی افریقہ 4،نیوزی لینڈ 3،ویسٹ انڈیز 2سری لنکا 1 âسری لنکا کی یہ واحد کامیابی پاکستانی ٹیم کے خلاف تھیáاور پاکستان اس ٹورنامنٹ میں شامل واحد ٹیم ہے جسے تمام تر میچوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا،اس ورلڈ کپ کا واحد میچ جو بارش کی نظر ہوا وہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے درمیان تھا ۔پہلا ویمن ورلڈ کپ انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ہرا کر جیتا،دوسرے،تیسرے اور چوتھے ویمن ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ہی انگلینڈ کو مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا،5واں کپ انگلینڈ ،چھٹا آسٹریلیا اس وقت اس کے مد مقابل نیوزی لینڈ کی ٹیم تھی اگلے ہی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ہی آسٹریلیا کو ہرا کر پچھلی شکست کا بدلہ چکا دیا،8ویں ویمن ورلڈ کپ (2205)میں انڈین ٹیم پہلی مرتبہ فائنل تک رسائی حاصل کر گئی مگر فائنل میں آسٹریلیانے اس سے کپ چھین لیا،9واں ورلڈ کپ انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ہرا کر جیتا جبکہ 2013میں پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا راستہ آسٹریلیا نے روک لیا،گذشتہ 11وومن ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں 6ریکارڈ آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی جبکہ انگلینڈ نے تین اور نیوزی لینڈ نے ایک مرتبہ یہ کپ جیتا،آسٹریلیا 7مرتبہ فائنل تک پہنچا اور 1میں شکست اس کا مقدر بنی،انگلینڈ کی ٹیم 6مرتبہ،نیوزی لینڈ4،ویسٹ انڈیز اور انڈیا1۔1مرتبہ فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں مگر ٹائٹل نہ جیت سکیں ،جنوبی افریقہ ،پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں ایک بار بھی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکیں ،یہ دوسرا موقع ہے کہ آسٹریلیافائنل تک نہیں پہنچا،فائنل کھیلنے والی ٹیم بھارت کو پول میچوں میں ò جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا نے ہرایا جبکہ انگلینڈ کو پول میچوں میںصرف ایک میچ میں مار کھانی پڑی وہ بھی فائنل میں مد مقابل بھارتی ٹیم سے38سکور کے عوض ۔جبکہ 9جولائی کو انگلینڈ کی آسٹریلیا کے خلاف پول میں کامیابی 1993کے بعد اس کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی فتح تھی، پول میچوں میں انگلینڈ،آسٹریلیا 12۔12،انڈیا10،جنوبی افریقہ9،ویسٹ اندیز4,،نوزی لینڈ 3،سری لنکا2اور پاکستان سات کے سات میچ ہی ہارنے پر آخری نمبر پر رہااور ایک بھی پوائنٹ حاصل نہ کر سکا،اس ٹورنامنٹ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کی کاکردگی مجموعی طور پر قابل فخر رہی مگر سیمی فائنل میں وہ بھر پور فائٹ کرنے کے باوجود آگے نہ بڑھ پائی،پہلا سیمی فائنل انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہی کھیلا گیا اس کانٹے دار اور سنسی خیز مقابلے میں انگلینڈ ہارتا ہارتا فائنل تک پہنچا جنوبی افریقہ کی کھلاڑیوں ۔میگنون ڈو ہری ،اور لاراوالورڈ کی نصف سینچریاں بھی شکست سے نہ بچا سکیں پہلے سیمی فائنل کی بہترین کھلاڑی کا اعزاز ۔سارہ ٹیلر۔نے حاصل کیا، اس ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل بھی سنسی خیز رہا جس میں پول میچ کے دوران شکست کا بدلہ انڈین وومنف ٹیم نے چکاتے ہوئے آسٹریلیا کو36 رنز سے ہرا کر فائنل سے باہر کر دیا،انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ۔رمپرت کور ۔کی ناقابل شکست171رنز کی بدولت مقررہ 42اوور ز میں281سکور کئے ،ہر مپرت کور کی اننگر میں 7چھکے اور20چوکے شامل تھے 28سالہ رمپرت کور پہلی انڈین کھلاڑی ہیں جنہیں بین الاقوامی لیگز نے اپنی ٹیم کے لئے منتخب کیا ہے،Indigenousسے تعلق رکھنے والی ایش لی گارڈنن پہلی کھلاڑی ہیں جس نے آسٹریلیا کی جانب سے ورلڈ کپ میں حصہ لیاافریقی خاتون کھلاری ۔مگنون ڈویریز۔کا یہ 100میچ مگر ورلڈ کپ میں وہ پہلی مرتبہ کھیلیں،ویسٹ انڈیز کی ڈینڈ را اور سٹفینی , نیوزی لینڈ کی ۔سوزی بیٹس۔سری لنکا کی ششی کلا لزی اور ْْدینی کا پاکستان کے خلاف سواں میچ تھا،انگلینڈ نے پول میچ میں پاکستان کے خلاف سکورز کا پہاڑ کھڑا کر دیا تھا377/7 کے اس مجموعے میں نٹالیہ میسور۔۔۔اور ہتھر نائٹ نے سینچریاںسکور کیں یہ انگلینڈ کا اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سکور جبکہ مجموعی طور پر کسی بھی ورلڈ کپ کا دوسرا بڑا ٹوٹل ہے ،پاکستان اور ویسٹ انڈیز میچ میں ۔ڈینڈرا۔کی ون ڈے میں پہلی اوراپنے ملک کی جانب سے تیز ترین سنچری 100/71تھی ،انڈیا اور نیوزی لینڈ کے میچ میں ورلڈکپ اور ون ڈے ہسٹری میں186رنز کی سب سے بہترین فتح تھی اس میچ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم صرف 79رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی جو اس کا کسی بھی ورلڈ کپ میں سب سے کم سکو رہے،انڈین بائولر راجیشوری کی انڈیا کی جانب سے بہترین بائولنگ7.3اوور میں15رنز کے عوض پانچ وکٹیں ہیں ان کے علاوہ کوئی کھلاڑی کسی بھی میچ میں 5وکٹ حاصل نہیں کر سکی البتہ اس ٹورنامنٹ میں جنوبی افریقہ کی بائولر ۔ڈینون ٹیکرک ۔نے صرف3.2اوورز میں بغیر کوئی رنز دئیے چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی یہ منفرد کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،آئے روز خواتین کرکٹ بھی مقبولیت کی طرف گامزن ہے ،اس ٹورنامنٹ میں نئی تاریخ رقم ہوئی کہ فائنل میچ میں سٹیڈیم شائقین سے بھرا ہو اتھا میچ کے آغازمیں ایک سو پانچ سالہ ۔ایلین ایش ۔نے لارڈز کی گھنٹی بجا کر پہلی اننگز کا اعلان کیا انہوں نے 1973کا اپنا ویمن ٹیم کا کوٹ پہن رکھا تھا،آنجہانی ریچنل فلنٹ کے بیٹے ہین فلیٹ مے دوسری اننگز کے آغاز کا اعلان کیا ،ریچل فلنٹ کی کوششوں سے ہی1973میں ویمن ورلڈ کپ کا آغاز ہوا تھااس سال ویمن ورلڈ کپ 130سے زیادہ ممالک میں لائیو دکھایا گیا،انڈیا اور آسٹریلیا کے میچ میں انڈین کپتان متھالی راج نے 6000ہزار سکور کر کے انگلینڈ کھلاڑی چارمی لوتی ایڈورڈکا زیادہ سکور 5992کرنے کا عالمی رکارڈ چھین لیا،پاکستانی کپتان ثنا میر نے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا 100واں میچ کھیلا،ْْثنا میر نے ون ڈے انٹرنیشنل میں 100وکٹیں جبکہ بسمعہ معروف نے 2000سکور مکمل کئے ہیں کسی اور پاکستانی کھلاڑی کے پاس یہ اعزاز نہیں ہے،پاکستان آئی سی سی ورلڈ کپ2017میں مکمل طور پر ناکام رہی ،تمام میچوں میں ہی شکست ۔گذشتہ ورلڈ کپ میں پاکستان آخری نمبر پر تھا ،سمجھ سے باہر ہے پی سی بی ویمن کرکٹ کی بہتری کے حوالے سے آج تک کیا اقدامات کر چکا ہے،پاکستانی خاتون کھلاڑیوں میں بھی ٹیلنٹ بہت ہے مگر انہیں مراعات دینے والے ،ان پر توجہ دینے والے ،انہیں بہترین کوچنگ فراہم کرنے والے،ان کے مسائل حل کرنے والے ہی پاکستان کی اس بدترین اور شرمناک شکست کے اصل ذمہ دار ہیں ورنہ پاکستانی ٹیم آئی سی سی کے اس اہم ترین ایونٹ میں یوں منہ چھپائے خالی ہاتھ وطن واپس نہ لوٹتی۔۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.