امریکہ اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑتاریخ کے آئینہ میں 

جدت ویب ڈیسک :6اگست 1945کو ہیروشیما پر ایٹمی بم گرایا گیا جس میں ایک اندازے کے مطابق1لاکھ 35ہزار افراد صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔9اگست1945کون بھلا سکتا ہے جب ناگا ساکی پر ایٹمی بم داغا گیا جس میں تقریبا 75ہزار انسان لقمۂ اجل بن گئے۔یہ تو ورلڈ وار IIکا زمانہ تھا لیکن آج ایٹمی ہتھیار اس سے ہزارھا گنازیادہ طاقتور اور خوفناک ہو چکے ہیں جو پلک جھپکتے ہی اتنی تباہی مچاسکتے ہیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہیرو شیما پر گرایا جانے والاایٹمی بم 15کلوٹونز کی تباہی مچا سکتا تھا ایک کلوٹون سے مرادٹی این ٹی کے ایک ہزار ٹن کی طاقت کے برابرہوتا ہے۔ مثلا اگر اسے نیو یارک سٹی کے ٹائم اسکوائر پر گرایا جائے تو متاثرہ علاقہ کم و بیش ایک میل پر محیط ہوگا ، تصویر میں موجو د پیلی لکیر آگ کی لپٹوں کی نشاندھی کررہی ہے،سرخ دائرے میں 100فیصد تباہی کی نشاندہی کی گئی جس میں بلڈنگ اور املاک مکمل ہو پر تباہ ہوجائیںجبکہ گرے دائرے کو اندر موجود کوئی بھی شے استعمال کے لائق نہ رہیںاور یہاں آباد انسان موت سے بچ بھی جائے تو قریب المرگ ضرور ہوگااو ر اورینج سرکل تھرڈ ڈگری ریڈئیشن کی نشاندہی کیلئے ہےجو تباہ کن ہو۔ موجودہ سب سے تباہ کن ایٹمی ہتھیار بھی امریکہ کے پاس ہے B83جو 1200کلوٹون کی تباہی کےلئے تیار کیا گیا ہےجو کہ ہیروشیما میں پھیلائی گئی تباہی سے 80گنا زیادہ خطرناگ ہوگی یعنی 1.3ملین ٹن TNTاور جس سے تقریبا 7میل سے زیادہ کا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہوجائیگا۔1954میں کیسٹل براوو آپریشن کو دوران امریکہ نے تاریخ کا سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والاایٹمی حملہ کیااور جو 15ہزار کلوٹون کی تباہی پھیلانے کی طاقت کا حامل تھااور جو ہیروشیما میں داغے گئے بم سو 1000گنا زیادہ طاقت ور تھااور جس کی تابکاری سو 21میل تک کا علاقہ متاثر ہو ا، صرف یہیں تک نہیں بلکہ 30اکتوبر 1961کو سوویت یونین نے Tsar Bombaکا تجربہ کیا جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی تجربہ تھا اور جو 50ہزار کلوٹون تباہی کی طاقت رکھتا تھااور جس سے اٹھنے والے دھویں اور شعلے دنیا کی تمام چیزوں سو بلند تھےاور یہ کتنے بلند تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ 29,035فٹ کے مقابلے میں 209,974فٹ تھی۔ اگر اسے نیویارک سٹی پر داغا جائے تواس سے متاثر ہونے والاعلاقہ 31معکب میل ہوگا۔ Tsar Bombaپانچ دہائی پہلے تیار کیا گیا تھا مگر آج ایک انداز ے کے مطابق 14,900کے قریب ایٹمی ہتھیارپوری دنیا میں موجود ہیں۔ اگر 1963میں دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات پر جزوی پابندی کے معاہدےپر دستخط نہ ہوئے ہوتے تو آپ درج بالاتباہی کاریاں دیکھ پاتے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.