افغانستان میں امریکی اہداف اور ناکامی کی وجوہات

افغانستان ایک بار پھر خبروں میں ہے ،افغانستان خطے میںامن کے لئے فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیارکرچکا ہے ،امریکہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کوتیار نہیں ،موسم بہار سے قبل ایک بار پھر تمام اسٹیک ہولڈر فعال ہورہے ہیں ،کابل میں پاکستان کے آرمی چیف کے بیان کے بعد جنگ کے اہم فریق تحریک طالبان افغانستان کا امریکی عوام کے نام خط میڈیا میں شائع ہوچکا ،جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ سو سال بھی افغانستان میں جاری رکھناچاہتا ہے تو کامیابی اس کا مقدر نہیں بنی گی ،خطے میں تیزی سے بدلتی صورت حال کے حوالے سے افغانستان میں اہم میٹنگز جاری ہیں ،منگل کے دن افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میںبری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خطے ملکوں کے انفرادی طور پر نہیں بلکہ مشترکہ طور پر کاوشوں سے ترقی یافتہ بنتے ہیں‘ علاقائی امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے ‘اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کردیئے ‘پاکستانی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ‘ہم دوسروں سے بھی یہی توقعکرتے ہیں ۔ کانفرنس میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ کمانڈر یوایس سینٹ کام، کمانڈر ریزولوٹ سپورٹ مشن (آر ایس ایم) اور افغانستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے آرمی چیف بھی شریک تھے ۔پاک فوج کے سربراہ نے کہاکہ دہشت گرد 27 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، دہشت گرد پاک افغان سرحد پرموثر سکیورٹی کی عدم موجود گی کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں لیکن جاری آپریشن ردالفساد کے باعث ان کا سراغ لگایا جارہا ہے اور انھیں نشانہ بھی بنایا جارہا ہے ۔آرمی چیف نے کہا کہ افغان مہاجرین کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ کہا کہ خطے ملکوں کے انفرادی طور پر نہیں بلکہ مشترکہ طور پر کاوشوں سے ترقی یافتہ بن جاتے ہیں۔ مشترکہ کاوشیں ہی تمام چیلنجز کا جواب ہے جس کے لیے پاکستان اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔دوسری جانب افغان طالبان نے اپنے خط میں امریکی عوام سے کہا ہے کہ امریکا کے سیاسی رہنماؤں نے سولہ سال قبل افغانستان پر جارحانہ طور پر فوجی شب خون مارا تھا۔ یہ جارحیت خودمختار افغانستان کے شرعی و ملی قوانین اور عالمی قوانین کے خلاف انتہائی ناگوار عمل تھا۔ امریکی حکام نے جارحیت کو جواز دینے کی خاطر تین نعروں کو استعمال کیا:
1… افغانستان میں امن و امان مستحکم کرنے کی خاطر (خودساختہ)دہشت گردی ختم کرنا۔
2… ایک قانونی حکومت قائم کر کے قانون نافذ کرنا۔
3… منشیات کا خاتمہ کرنا۔
سترہ سال تک خونریز لڑائی جاری رکھنے اور اس میں جانی و مالی نقصانات تسلیم کرنے کے باوجود موجودہ صدر ڈونلڈٹرمپ نے افغانستان میں اسی ناجائز جنگ کو جاری رکھنے کے لیے ایک امارت اسلامیہ کے علاوہ مزید دیگر گروہوں کی موجودگی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیاہے۔ امریکی حکمران افغانستان میں متعدد جنگی گروہوں کی موجودگی تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا دعوی ثابت ہوتا ہے کہ امریکا نے افغانستان پر جارحیت کو دوام دینے اور انتشار پھیلانے کے لیے داعش جیسے گروہوں کو خود پیدا کیا ہے
آج افغان باشندے امریکی فوج اور ہر جابر و ظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ ان کا شرعی، نظریاتی اور ملک و ملت کے تحفظ کی ذمہ داری ہے ۔ افغان باشندے گزشتہ چار دہائیوں سے مسلط جنگوں کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ وہ امن اور عادلانہ نظام کے پیاسے ہیں۔ وہ آپ کی جنگ پسند حکومت کے مقابلے میں شرعی، دینی، دفاعی اور ملی مزاحمت سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوں نے تاریخ میں کبھی بھی اپنی دینی اقدار اور آزادی کے تحفظ سے کنارہ کشی نہیں اختیار کی۔افغانستان وہ ملک ہے ، جو اپنی تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ خودمختار رہا ہے ۔ حتی کہ انیسویں اور بیسویں صدیوں کے دوران، جب عالم اسلام کے بیشتر ممالک یورپی استعمار کے قبضے میں تھے ، افغانستان واحد ملک تھا، جس نے اپنی خودمختاری محفوظ رکھی۔ انگریز 80 سالہ کوشش کے باوجود افغانوں سے اپنا لوہا منوانے پر قادر نہ ہو سکا۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے ۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ کئی افغان باشندے امریکی و نیٹو فوج کے خلاف ہیں۔اُن کا مقصد افغانستان میں اسلامی نظام کا قیام اور غیرملکی قبضے کا خاتمہ ہے ۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے عوام کا مطالبہ امریکی عوام کے سامنے رکھتی کہ ڈونلڈٹرمپ انتظامیہ کو دباؤ میں لے کر افغانستان سے قبضہ ختم کیا جائے ۔ افغانستان پر امریکی تجاوز کے بُرے نتائج کو دیکھ لیا ہوگا۔ اگر مزید سو سال تک قوت آزمائی کا تجربہ جاری رہا تو بھی نتیجہ یہی رہے گا۔ ظلم و جبر سے پاک افغانستان ہمارا حق ہے ۔افغانستان کی آزادی اور اسلامی نظام کیا قیام کسی قانون میں دہشت گردی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قابل ذکر ہے کہ ہم دیگر ممالک میں تخریبی کارروائیوں کا ایجنڈا نہیں رکھتے ۔
افغان طالبان ایک حقیقت ہے ،امریکہ یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں جبکہ افغان طالبان نے سترہ سالوں کے دوران عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ دیگر ممالک میں انہوں نے کسی قسم کی مداخلت نہیں کی ہے ۔ اسی طرح کسی کو بھی اجازت نہیں دی کہ وہ افغان سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرے ۔ جنگ ان انتخاب نہیں ، بلکہ ان پر مسلط کی گئی ۔ افغان مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کیا جائے ۔امریکا کو چاہیے کہ جارحیت ختم کرے اور افغان عوام کواپنے عقیدے کے مطابق حکومت سازی کرنے دے ۔ افغانستان میں جنگ کو طول دینے پر اصرار اور یہاں امریکی فوج کی موجودگی امریکا سمیت کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ یہ عمل دنیا کے امن کو خطرے سے دوچار کرتا ہے ۔ یہ واضح حقیقت ہے کہ صرف امریکی مغرور حکمرانوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ۔ اگر افغان اور مجموعی طور پر عالمی برادری سے پُرامن افہام وتفہیم کے خواہاں ہیں تو اپنے صدر، کانگریس اور پینٹاگون کے جنگجو حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھانی چاہیے ۔ انہیں افغانستان سے متعلق معروضی سیاست اپنانے پر مجبور کیا جائے ۔ یہ بجائے خود امریکہ،پاکستان ، افغانستان اور دنیا کی سلامتی کے لیے بہترین اقدام ہے ۔پاکستان پہلے ہی نو مور کہہ چکا ہے ،سوال پھر بھی وہی ہے کہ کیا امریکہ اپنی شکست اور خطے سے جانے کے لئے تیار ہے ؟ یا اس کے مفادات کچھ اور ہیں ، بظاہر تو امریکہ افغانستان کے دلدل میں دھنستا چلا جارہاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.