افغانستان، 6 ماہ کے دوران 10 صحافی قتل کردیئے گئے

کابل جدت ویب ڈیسک ذرائع ابلاغ پر نگاہ رکھنے والے ایک گروپ نے کہا ہے کہ اس سال افغانستان میں طالبان اور داعش کے وفادار جنگجوئوںکے شدت پسند حملوں میں اب تک 10 صحافی مارے جا چکے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی âاے جے ایس سیá نے کابل میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2017ئ کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والی تشدد کی کارروائیوں میں 12 صحافی زخمی ہوئے۔گروپ کے سربراہ نجیب شریفی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ صحافیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے 73 واقعات سے آگاہ ہے، جو 2016ئ میں اسی دورانیے کے مقابلے میں 35 فیصد اضافہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان پرتشدد کارروائیوں میں صحافیوں کا قتل، مار پٹائی، زخمی کیے جانے، تذلیل، ڈرانے دھمکانے اور ان کو حراست میں لیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ شریفی نے توجہ دلائی کہ ہلاک ہونے والے یا تو دہشت گرد گروہوں کا براہِ راست نشانہ بنے یا پھر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی اس تنظیم نے بتایا ہے کہ خاص طور مشرقی افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ آچکا ہے، ان شدت پسند کارروائی کی منصوبہ سازی کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہے، جبکہ جہاں دہشت گرد گروپ کافی تعداد میں موجود ہیں وہاں آئے روز صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.