اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے

جس ملک میں غریب ہی غریب آدمی کا خون چوس رہاہوں وہاں کے حکمرانوں سے اچھائی کی توقع رکھنے والے یقیناً احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ایک ریڈھی والے سے لیکر کسی بھی آفس میں بیٹھے شخص کو اس وقت اپنی آمدنی بڑھانے کی فکر لاحق ہے اوروہ آمدنی چاہے اس کو جائز طریقے سے ملے یا ناجائز طریقہ کار سے اس کا مقصد بس اپنی ضروریات کو ہر حال میں پورا کرنا ہے اس پر حکومت وقت کے بھی یہ ہی مقاصد ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے طریقہ واردات میں فرق ہے میں یہ نہیں کہتا کہ سب ہی حکمران ایک جیسے اوصاف اور طبیعت کے مالک ہیں بہت سے اچھے لوگ پاکستانی سیاست کا حصہ ہیں مگر فی الحال وہ منظر نامے میں دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں بلکل اسی انداز میں اس قوم میں بھی بہت سے اچھے لوگ موجود ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک اس قدر چوٹ کھانے کے باوجود بھی قائم ودائم ہے ،جس وقت میں یہ تحریر رقم کررہا ہوں اس وقت مختلف نیوز چینلوں پر لاہور میں عرفہ کریم ٹاور کے نذدیک خود کش دھماکے خبر بھی بریکنگ نیوز بنی ہوئی ہے کوئی نیوز چینل 15تو کوئی19تو کوئی 26افراد کی لاشیں گنوارہا ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے لاشوں کی سیل لگی ہو۔ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ اس ملک کا مستقبل آخر ہے کیا ؟ موجودہ وقتوں میں اس ملک میں مہنگائی ،لاقانونیت اور دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کے لیے عوام کو لندن فلیٹ یا آف شورکمپنیوں کے شور میں دبا دیا گیاہے اس کے علاوہ اس ملک میں بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے نت نئے انداز سے بنائی جانے والی جائیدادوں ،فیکٹریوں اورمربوں کے حساب سے پھیلے فارم ہائوسوں کو کوئی نہیں پوچھتا ، اس وقت اپوزیشن والے جس انداز میں حکمران جماعت کو رگڑا لگاکر خود کو نیک پروین ثابت کررہے ہیں ایسا ہر گز نہیں ہے !سارے کے سارے ہی چورہیں جس طرح حکومت کا آوے کا آوا ہی بگڑ ہوا ہے اس طرح الزام لگاتے ہوئے عمران خان کے ارد د گرد کے لوگوں کی حقیقت کیا ہے ؟خان جس انداز میں لوٹو ںکا ٹرک لیکر ملک میں تبدیلی لانے کا تصور لیکر نکلے ہیں کیا ان لوگوں نے جو ناجائز دولت کمائی، دنیا بھر میں کاروبار کیے کیا ان کے گناہ سب معاف کردیئے گئے ہیں ؟۔جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بتائے کہ انہوں نے مفلسی سے رئیسی کا سفر کیسے طے کیا 40سال قبل واپڈا میں بطور کلر کی کی نوکری کرنے والا آج اربوں کی پراپرٹی کا مالک کیسے بنا؟۔اس وقت یہ تمام جماعتیں ہی اپنے اپنے ہمراہ ان سیاستدانوں کو ساتھ لیکر چل رہی ہیں جنھوں نے ہر دور میں قوم کوبڑے پیمانے پر چونا لگایا۔ حیرت ہے ہرچور یہ ہی چاہتاہے کہ عدالت کا فیصلہ ان کی منشا کے مطابق ہی آئے اور یہ کہ اس نے کیا کچھ لوٹا اور ہضم کیا اس پر کوئی سوال نہ کرے ،اس وقت حکومت کے سارے کے سارے وزرا اربوں روپے کی پراپرٹی کے مالک ہیں لیکن ہٹ لسٹ پر شریف خاندان ہی کیوں؟ اس وقت پاکستان کی سب سے پاک دامن جماعت پی ٹی آئی کے لوگ جو کے آدھے پیپلزپارٹی آدھے ق لیگ اور آدھے دوسری جماعتوں کے رہنما اربوں کی پراپرٹی کے مالک ہیں ،ارے کوئی اگر ان کا نام نہیں لیتا تو جناب محترم زرداری کا ہی نام لے لو جو ڈنکے کی چوٹ پر مال بناتا رہا اور اتنا مال بنالیا کہ یہ چاہے تو اپنے دو ماہ کے جیب خرچ کو کم کرکے پاکستان کا قرضہ اتار سکتاہے اور ویسے بھی زرداری صاحب کے کام زاتی جیب خرچ سے کہاں پورے ہوتے ہیں کسی نے ہیلی کاپٹر دے رکھے ہیں تو باقی وہ سندھ حکومت کے زیر کفالت زندگی گزار رہے ہیں ۔ میرا سوال عمران خان سے ہے کہ کیا ان کی نواز شریف سے زاتی دشمنی ہے ؟ اگر وہ کرپشن کے خلاف الم لیکر ہی نکلے ہیں تو سب سے پہلے اپنے ارد گرد نظر دوڈائیں کہ ان کو کس قدر کرپشن کے فائونڈر دکھائی دینگے جو ان کی ہر میڈیا بریفنگ میں ان کے دائیں بائیں موجود ہوتے ہیںاور سب سے بڑھ کرخان صاحب آصف زرداری کے خلاف کبھی بیان بازیوں سے آگے بھی نکلیں خان صاحب آپ اگر چاہتے تو شریفوں کے لندن فلیٹ میں گھسنے کے ساتھ سرے محل کی بھی سیر کرسکتے تھے اس لوٹ مار کے محل کا بھی کبھی جائزہ لیا ہوتا۔اس عمل سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا یہ عمل نوازشریف کو حکومت سے الگ کرنا تھاناکہ کرپشن کا خاتمہ اگر ایسا ہوتا توآپ اپنے ساتھ مختلف شکلوں کے لوٹے نہ جمع کرتے میں اس تحریر میں کوئی نواز شریف کو مظلوم نہیں بنارہا بلکہ قوم کو یہ بتانے کی کوشش کررہاہو ں کہ اس ملک میں موجودہ حکومت سے لیکر تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں ہے کو ئی مال بنارہاہے تو کوئی کالا دھن سفید کرنے کے لیے سیاست میں موجود ہے ان کے نیچے کام کرنے والی بیورو کریسی کے لوگوں کے محلوں کو دیکھیں تو بندہ آنکھیں جھپکنا بھول جائے یہ شاندار گاڑیاں درجنوں نوکر چاکر اور دولت کے انبار گھروں میں دبا رکھے ہیں اور اگر کوئی مفلس ہے تو اس ملک کے وہ لوگ جو مینڈک کی طرح آنکھیںبند کرکے انہیں ووٹ دیتے ہیں اور پھر دل کھول کر زلیل ہوتے ہیں خدا کے بندوں اب تو آنکھیں کھولوں یہ سارے کے سارے سیاستدان تمھارے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑلینگے کیا تب تمھاری آنکھیں کھلیں گی ۔؟ اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے غافل تجھے فکر آب ودانے کی ہے ۔
قائرین کرام ہم نے اس ملک میں کیا دیکھا ؟ ۔ یہ ہی کہ سیاستدان چور ،پولیس رشوت خور ،انصاف اندھا ،عوام لالچی ،ہسپتال عیاشی کے اڈے ، سرکاری اسکول گھوڑے اور گدھے باندھنے کی جگہ ، پرائیویٹ اسکول پیسہ بنانے کی مشینیں ،اور بجلی،گیس پانی کے محکمے عوام کا خون چوسنے اور دھکے کھلانے کی جگہ اور وہ احتساب کے ادارے جو ان کے کالے کارناموں کو سفید کرنے کا ہنر دیتے رہے! اور وہ ہی ان کو منتخب کرانے والا صوابدی الیکشن کمیشن ! جو ان سیاست دانوں کے ہر دور میں ان کے گھروں کی لونڈی بنا رہا ۔ میں پوچھتا ہوں کہ پھر کہاں گیا وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ! مسلمانوں کی منشا اورضرورت کے تحت بننے والی آزاد مملکت کا کیا ہوا ؟۔ پہلے ہم پرانگریز حکمرانی کرکے تلوے چٹواتا تھا اب اس ملک میں ان انگریزو ں کے غلام ہم پر بھوکے کتوں کی طرح چھوڑ رکھیں ہیںجو کئی دہائیوں سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینکوں کے کہنے پر ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیلتے چلے آرہے ہیں ۔اور خود عوام کے ٹیکسوں او ر بیرونی قرضوں سے اپنی شاہی سواری سے لطف اندور ہوتے ہیں ۔دوستوں ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں جو کچھ بھی تحریر ہے وہ قوم کے کانوں تک پہنچ چکاہے ؟ کہ کس کس انداز میں اس ملک کو سازشوں نے مارا ہے ،میمو گیٹ ،ڈان لیکس ،سرے محل،لندن فلیٹ ،جاتی عمرہ کا محل ،دبئی اور دنیا بھر میں بزنس ایمپائرز آخرکس کے ہیں اور یہ کس طرح بنائے گئے؟ یہ بڑی دررناک کہانی ہے یقینا کروڑوں چولہے بجھائے گئے اور کئی مائوں کے لال دہشت گرد ی کی بھینٹ چڑھے ہونگے ، یہ محلات اس پیسے سے بنے جو طرح طرح کی سازشوں سے لوٹا جارہاہے۔کیا کوئی ہے ایسا ہے جو ان حکمرانوں سے ان محلات کے اخراجات اور لاگت کا سوال کرسکے ان کی جائیدادوں اور کمپنیوں کا حساب لے سکے ! ارے چھوڑیئے آپ کہاں پوچھیں گے آپ تو خود ہی پریشان ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.