کرّہِ ارض اور مریخ کے درمیان خلا میں تیرتی ایک کیتلی۔حقیقت کیا؟

July 15, 2019 1:42 pm

جدت ویب ڈیسک ::کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ خلا میں ایک چھوٹی سے کیتلی معلق تیر رہی ہے؟خدا کے وجود کی بحث میں برٹرینڈ رسل کی ’کیتلی‘ کا کیا مقام ہے؟
آپ تصور کریں کہ آپ اپنی کسی دوست کے ساتھ چائے نوش کر رہے ہیں اور وہ آپ کو بتاتی ہے کہ کرّہِ ارض اور مریخ کے درمیان خلا میں ایک کیتلی سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔
عین ممکن ہے کہ آپ اپنی دوست سے کہیں گے کہ وہ اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت دے۔
لیکن آپ کی دوست کہے گی کہ کیتلی اتنی چھوٹی شے ہے کہ دنیا کی انتہائی طاقتور دوربین کے ذریعے بھی اسے دیکھا نہیں جا سکتا۔ اس طرح آپ کی دوست یہ ثابت تو نہیں کر سکتی کہ خلا میں کیتلی وجود رکھتی ہے، تاہم آپ بھی اسے یہ نہیں دکھا سکتے ہیں کہ کیتلی وجود نہیں رکھتی ہے۔لہٰذا یہی ایک دوہری مشکل والی تذبذب کی کیفیت ہے۔ کیتلی کا وجود ہے یا نہیں ہے، اس بات کو ثابت کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟بظاہر ایک سادہ سی یہ بے ضرر مثال خدا کے وجود پر ایمان رکھنے والوں اور خدا کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والوں (دہریوں) کے درمیان ہونے والی گرم جوش بحث کا ایک کلیدی حصہ بن جاتی ہے۔
کیتلی کے خلا میں وجود پر بحث کی مثال نوبل انعام یافتہ معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نے سنہ 1952 میں اپنے ایک مقالے میں بیان کی تھی جس کا عنوان تھا ’کیا خدا ہے؟‘
حیاتیات کے علوم کے ایک برطانوی ماہر رچرڈ ڈوکِنز، جو کہ اس وقت دہریت کے نظریات رکھنے والوں کی ایک بہت بڑی نمائندہ آواز ہیں، اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں کیتلی کے خلا میں وجود کی مثال کو اکثر پیش کرتے ہیں۔لیکن بھلا برٹرینڈ رسل کی کیتلی کا خدا کے وجود کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا تعلق ہے؟
مقدس کیتلی
رسل کو خود بھی خلا میں کیتلی کے وجود کی مثال بے معنی لگتی تھی، لیکن اس نے تصور کیا تھا کہ اس قسم کی کوئی ایک کیفیت ہو تو سکتی ہے۔
برٹرینڈ رسل نے سنہ 1950 میں لکھا تھا کہ ’اگر اس قسم کی کیتلی کے وجود میں ہونے کو قدیم کتابوں میں ثابت کر دیا گیا ہوتا، اسے ہر اتوار کو بچوں کو ایک مقدس سچ کے طور پر پڑھایا جاتا اور سکولوں میں بچوں کے ذہن میں راسخ کر دیا جاتا تو خلا میں کیتلی کے وجود کی بات کو تسلیم کرنے میں اگر کوئی بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ دکھاتا تو اسے ایک پاگل سمجھا جاتا۔‘
رسل نے مزید لکھا تھا کہ اس بات پر شک کرنے والے کو یا تو ذہنی امراض کے معالج کے پاس بھیج دیا جاتا یا حیران کن باتوں کا مطالعہ کرنے والے کے پاس۔دہریت کے قائل اس فلسفی کی دراصل دلیل یہ تھی کہ اگر لوگوں کی کثیر تعداد خدا پر ایمان رکھتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کا وجود ہے۔خاص طور پر رسل کا دعویٰ یہ تھا کہ کسی شے کے وجود کو ثابت نہ کر پانے کو اس شے کے وجود کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

برٹرینڈ رسل کیتلی خدا دہریت ایمان

برٹرینڈ رسل کیتلی خدا دہریت ایمان

Bertrand Russell

متعلقہ خبریں