کیاہم بھی خلائی مخلوق کو ڈھونڈ سکتے ہیں؟

March 28, 2019 12:59 pm

جدت ویب ڈیسک ::امریکا کی ایک کوانٹم آسٹرو کیمسٹ کلارا سلوا اس بارے میں بتاتی ہیں، ’اگر اس کائنات میں ہمارے علاوہ بھی کوئی ہے تو وہ باآسانی ہمیں ڈھونڈ سکتا ہے‘۔جب سے انسان ترقی یافتہ اور خلائی اسرار سمجھنے کے کچھ قابل ہوا ہے، تب سے وہ اس تلاش میں سرگرداں ہے کہ کیا اس وسیع و عریض کائنات میں ہم اکیلے ہیں یا ہمارے جیسا کوئی اور بھی سیارہ اپنے اندر زندگی رکھتا ہے؟
کیا کوئی سیارہ ایسا بھی ہے جہاں زمین کی طرح زندگی رواں دواں ہے؟ کیا اس کائنات میں ہمارے جیسی کوئی مخلوق نت نئی ایجادات اور تحقیقوں میں مصروف ہے یا کم از کم پتھر کے دور میں ہی جی رہی ہے؟
اگر اس کا جواب ہاں میں ہے، یعنی ہمارے علاوہ بھی اس کائنات میں زندگی بستی ہے اور لوگ رہتے ہیں تو کیا وہ بھی ایسے ہی کسی کی تلاش میں ہوں گے؟
کلارا اس بارے میں مزید کیا بتاتی ہیں، انہی کی زبانی سنیں۔
’اگر خلائی مخلوق ہمیں تلاش کرنا چاہیں تو وہ بہت آسانی سے ہمیں تلاش کرسکتے ہیں۔ ہم گزشتہ 100 سال سے ریڈیو کے سگنلز خلا میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے ٹیلی ویژن کے سگنلز بھیجنا شروع کیے۔ اگر یہ سگنلز روشنی کی رفتار سے خلا میں جارہے ہیں تو اب تک یہ طویل فاصلے طے کر کے دور دراز واقع ستاروں اور سیاروں تک پہنچ چکے ہوں گے، ایسے ہی کسی دور دراز سیارے پر موجود، کسی دوسرے سیارے پر زندگی کھوجتی مخلوق آسانی سے یہ سگنلزوصول کرسکتی ہے‘۔
’اگر کوئی ایسا ہوگا جو اپنے طاقتور ڈی ٹیکٹرز کا ہماری طرف رخ کیے ہوگا، تو وہ بی بی سی کی براڈ کاسٹنگ سن رہا ہوگا، وہ ہمارے ٹی وی پروگرامز سن رہا ہوگا اور اب تک اندازہ کرچکا ہوگا کہ ہمارا رہن سہن اور طرز زندگی کیسا ہے‘۔
’کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک انہایت احمقانہ عمل ہے کہ ہم اپنے بارے میں بہت ساری معلومات پوری کائنات میں بھیج رہے ہیں۔ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق خطرناک بھی ہوسکتی ہے چنانچہ ہمیں اپنی پوزیشن کے بارے میں نہیں بتانا چاہیئے‘۔
اگر ہم خلا میں سگنلز نہ بھیجیں کیا تب بھی ہمیں ڈھونڈا جا سکتا ہے؟
اگر ایک لمحے کے لیے تصور کیا جائے کہ ہم اپنے تمام سگنلز بند کردیں اور بالکل خاموشی سے بیٹھ جائیں، کیا تب بھی خلائی مخلوق ہمیں ڈھونڈ سکتی ہے؟
اس بارے میں کلارا کہتی ہیں۔
’اگر ہم خلا میں کوئی سنگلز نہ بھیجیں، اور کوئی خلائی مخلوق طاقتور دوربین لگا کر ہمیں ڈھونڈنا چاہے تو اسے ہر جگہ 300 ارب سیارے دکھائی دیں جو خوبصورت سفید روشنیوں کی صورت میں چمک رہے ہوں گے‘۔
’تاہم یہ سفید روشنی بھی بہت سارے راز عیاں کرسکتی ہے‘۔
’ہم جانتے ہیں کہ جب سفید روشنی میں پانی کا قطرہ داخل ہوتا ہے تو آس پاس موجود اشیا کے رنگ اس میں منعکس ہونے لگتے ہیں (اسی تکنیک سے قوس قزح تشکیل پاتی ہے)۔ اگر خلائی مخلوق ایک طاقتور پریزم (ایک تکون جسم جس سے روشنی گزرتی ہے تو منعکس ہوتی ہے) ہمارے سورج کی طرف کریں تو وہ ہماری قوس قزح کو باآسانی دیکھ سکتے ہیں‘۔
’اور اگر وہ کچھ عرصے تک مستقل اس کا مشاہدہ کریں تو دیکھیں گے کہ ہر سال اس قوس قزح میں کچھ نئے رنگ ظاہر ہوتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ رنگ ان مالیکیولز کی وجہ سے ظاہر اور غائب ہوتے ہیں جو ہماری فضا میں موجود ہیں‘۔ ’ان رنگوں کو دیکھ کر باآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس ایک خوبصورت اور متنوع سیارہ موجود ہے۔ ہمارے پاس آبی حیات سے بھرے سمندر ہیں اور آکسیجن پر انحصار کرنے والی زندگیاں ہیں۔‘
’ان تمام معلومات پر مبنی ہماری فضا، زمین کے گرد ایک تہہ تشکیل دیتی ہے جسے بائیو سفیئر کہا جاتا ہے اور صرف یہی ہماری موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بائیو سفیئر بتاتا ہے کہ اس سیارے پر کون موجود ہے اور کس طرح زندگی گزارتا ہے۔ گویا اگر ہم اپنے سگنلز بھیجنا بند بھی کردیں تب بھی ہماری موجودگی کے اشارے ملتے رہیں گے‘۔
کیا اس تکنیک سے ہم بھی خلائی مخلوق کو ڈھونڈ سکتے ہیں؟
کلارا کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہم ایسے ٹولز نہیں بنا سکے جو کسی سیارے کی بائیو سفیئر کی جانچ کرسکیں، ہم صرف اس قابل ہیں کہ اگر کوئی خلائی مخلوق اپنے سگنلز ہماری طرح خلا میں بھیج رہی ہے تو ہم اسے وصول کرسکیں، تاہم میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایسے ٹولز کی تیاری پر کام جاری ہے جو بائیو سفیئر کی جانچ کرسکے۔
’ان ٹولز کی تیاری کے بعد ہم ان خلائی مخلوق کو بھی ڈھونڈ سکتے ہیں جو ہماری طرح ترقی یافتہ نہیں اور خلا میں کوئی سگنلز نہیں بھیج رہی‘۔

متعلقہ خبریں