ورلڈ وائیڈ ویب آج 30 سالوں کا ہو گیا

March 14, 2019 3:15 pm

جدت ویب ڈسیک ::ٹم برنرزلی کے پروپوزل کے 30 سال مکمل ہونے پر سرن میں ویب ایٹ تھرٹی کے نام سے تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں ہونے والی گفتگو میں ٹم برنرز لی خود موجود تھے۔اس کے علاوہ لندن میں بھی اس حوالے سے تقریبات کااہتمام کیا گیا۔ورلڈ وائیڈ ویب کے خالق ٹم برنرز لی نے آج سے 30 سال پہلے مربوط کمپیوٹروں کے نیٹ ورک بنانے کے بارے میں پروپوزل تحریر کیا تھا، جس کے بعدوہ ورلڈ وائیڈ ویب خالق بن گئے۔اگرچہ آج ورلڈ وائیڈ ویب کو خبریں، فلمیں اور دوسری اہم معلومات شیئر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن 30 سال پہلے اسے صرف سائنسی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ٹم برنرز لی نے اپنا پروپوزل سرن میں درپیش مشکلات کوسامنے رکھ کر دیا تھا ۔
ٹم برنرز لی نے بتایا کہ سرن میں کام کے دوران وہ معلومات تحریر تو کرتے تھے لیکن بعد میں وہ معلومات ملتی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ملازمین اور انتظامیہ کے بیچ کمیونی کیشن کا نظام بھی بہتر نہیں تھا۔اگلے دس سالوں میں یہ مسائل تمام دنیا کے اداروں کو درپیش ہوتے لیکن ٹم اتنا زیادہ انتظار نہیں کر سکتےتھے۔انہوں نے خود سے ہی اس منصوبے پر کام شروع کر دیا۔
ٹم برنرز لی کے مطابق اُن کا سسٹم ہائپر ٹیکسٹ کے ساتھ کا م کرتا تھا۔ جس کی معلومات انسان پڑھ سکتے تھے ۔ صفحات کوآپس میں مربوط کیا جا سکتا تھا۔ یہ سرن کا باضابطہ پروجیکٹ نہیں تھا لیکن انتظامیہ نے ٹم برنرز لی کو کام کے اوقات میں بھی اس پروجیکٹ پر کام کرنے کی اجازت دے دی۔اکتوبر 1990 میں انہوں اپنے کام کے لیے تین نئی تیکنیک ایچ ٹی ایم ایل ، جو ویب کے لیے فارمیٹ لینگوئج تھی، یو آر آئی، جسے یو آر ایل کے نام سے جانا جاتا ہے اور ایچ ٹی ٹی پی ایجاد کیں۔ اس کےبعد انہوں نے دنیا کا پہلا براؤزر، پہلا سرور اور ایچ ٹی ٹی پی ڈی بھی بنائے۔ 1990 کے بعد بیلجیم کے روبرٹ کالیاؤ نے بھی اس سسٹم پر کام کیا۔ 1991 میں سرن سے باہر کے لوگ بھی ویب کو استعمال کر سکتے تھے۔

The worldwide web was conceived thirty years ago

متعلقہ خبریں