چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس، رائل پام کی سابق انتظامیہ کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا

December 28, 2018 4:49 pm

جدت ویب ڈسیک ::سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں رائل پام کلب سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رائل پام کی سابق انتظامیہ کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہو گا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں رائل پام کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رائل پام میں غیر قانونی سینما گھر بنایا، شادی گھر بنا دیئے جس کی اجازت نہیں تھی۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ پاکستان ریلوے کی قانونی ٹیم کو اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کر سکتے۔
چیف جسٹس نے طاہر پرویز ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ آپ کو ریلوے نہیں رکھنا چاہتے تو کیوں آپ رہنا چاہتے ہیں؟جس پر طاہر پرویز کا کہنا تھا کہ میری تعیناتی پراسس کے تحت ہوئی اور کنٹریکٹ ابھی باقی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ملازمت کیسے ملی کیا میں اوپن کورٹ میں بتاؤں۔ آپ کے ایسے رویے سے کسی کیخلاف جوڈیشل مس کنڈکٹ کا کیس بھی بن سکتا ہے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسڑی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ رائل پارک کا قبضہ ڈیکلیئر ہو گیا۔ آج ریلوے کی چیف جسٹس کے ذریعے سنی گئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ رائل پام کنٹری کلب کا آڈٹ فرگوسن نہیں بلکہ آڈیٹر جنرل پاکستان کرے گا ۔ رائل پام کی لیز کی قانونی حیثیت کا معاملہ اسلام آباد میں سنیں گے۔عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ریلوے کی قانونی ٹیم کے سربراہ طاہر پرویز ایڈوکیٹ ہیں جنہوں نے ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں