مسلم لیگ ن کی شکست کی وجہ پارٹی کے داخلی اختلافات ہیں‘ شرمیلا فاروقی

Sharmila Farooqui PPP
March 13, 2018 4:51 pm

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے سینیٹ میں حکمران جماعت مسلم لیگ âنá کی شکست کی وجہ لیگی سینیٹرز اور پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات کو قرار دےدیا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہاکہ مسلم لیگ âنá کی شروع سے یہ روایت رہی ہے کہ جب ان کو فتح ہوتی ہے تو یہ اْسے جمہوریت کی کامیابی سمجھتے ہیں اور جب ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑے تو وہ جمہوریت کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ âنá سینیٹ میں اپنی شکست کو دوسروں پر ڈال کر ایک غلط تاثر پیش کررہی ہے جبکہ حقیقتاً ان کے اپنے سینیٹرز پارٹی کی پالیسیوں سے تنگ آچکے تھے اور اسی لیے انہوں نے دوسری جماعتوں کو ووٹ دیا۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ âنá کی سینیٹر کلثوم پروین نے تو خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کےلئے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیاکیونکہ لیگی امیدوار عثمان کاکڑ ایک ایسی شخصیت تھے جن کا پارٹی سے کسی قسم کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔پی پی رہنما نے کہاکہ انہیں چاہیے کہ اپنے سینیٹرز سے سوال کریں کہ آخر انہوں نے اپنی وفاداریاں کیوں تبدیل کیں جبکہ بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کی وجہ بھی ان کے اپنے اراکین صوبائی اسمبلی âایم پی ایزá سے ناراضگی تھی، جو پھر ایک بغاوت کی شکل اختیار کرگئی۔پیپلز پارٹی پر سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزام سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جہاں کہیں بھی سیاست میں خلا پیدا ہوتی ہے تو دوسری جماعتیں اپنی جگہ بنانے کیلئے متحرک ہوتی ہیں ¾ جو ایک عام سی بات ہے۔شرمیلا فاروقی نے کہا کہ مسلم لیگ âنá اپنی غلطیوں پر نظر ثانی کرے اور پھر دیکھیں کہ ساڑھے چار سال اس کا اپوزیشن کیساتھ ایوان میں رویہ کیسا رہا ہے لہذا آج جو کچھ ہوا وہ اسی کا نتیجہ تھا اور اسی لیے کوئی سیاسی جماعت بھی ان کی حمایت کے لیے تیار نہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ رضا ربانی کے ساتھ پیپلز پارٹی کی قیادت کے کوئی اختلافات نہیں اور وہ ایک قابل احترام شخصیت ہیں، جنہوں نے اس ایوان کو اپنے دور میں بہت عزت بخشی ہے، مگر ہمارے اس فیصلے کا مقصد صرف بلوچستان کو بھی اس سیاست میں اس کا حصہ دینا تھا تاکہ وہاں کی بھی نمائندگی حاصل ہوسکے۔پی پی پی رہنما نے کہا کہ میں یہ نہیں سمجھتی کہ آج صادق سنجرانی کے چیئرمین سینیٹ بننے سے بلوچستان کے تمام حالات ٹھیک ہوجائیں گے، مگر کم از کم ایک چھوٹے صوبے کی نمائندگی بہت معنیٰ رکھتی ہے اور امید ہے کہ نئے چیئرمین تمام معاملات کو درست کی جانب لے کر جائیں گے۔

متعلقہ خبریں