امریکہ کی پالیسی میں ’’کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘،پاکستان اور بھارت براہ راست بات چیت کریں، امریکہ

America India Pakistan
August 9, 2019 4:12 pm

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں ’’کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘کشمیر کے معاملے پر امریکہ کو تشویش ہے، امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بھارت اور پاکستان براہ راست بات چیت کریں۔خاتون ترجمان نے یہ بات امریکی حکمہ خارجہ کی میڈیا بریفنگ میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ان سے پوچھا گیا آیا امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز، معاون وزیر خارجہ جان سلیوان اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد کے دورہ بھارت کا تعلق کشمیر کے معاملے پر کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے ہے؟ترجمان نے کہا کہ امریکی سفارتی حکام کا بھارت اور پاکستان کے ساتھ رابطہ روزانہ کی بنیاد پر رہتا ہے اور یہ کہ روایتی دورے ہیں جن کا پروگرام بہت پہلے ترتیب دیا گیا تھا۔مورگن اورٹیگس کا جواب اثبات میں تھا جب ان سے سوال کیا گیا آیا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دوحہ میں جاری افغان امن عمل بات چیت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں کشیدگی کم ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ امن معاہدہ طے کرنے کے لیے قطر میں جاری امریکہ طالبان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اپنے ٹوئیٹ میں ایلس ویلز نے چند روز قبل اس بات کی وضاحت کی کہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے فیصلے سے قبل بھارت نے امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ان سے پوچھا گیا تھا کہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے فیصلے اور وزیر اعظم عمران خان کے اپنے پارلیمان میں خطاب کے بعد، کیا امریکی وزیر خارجہ نے بھارت اور پاکستان کے اپنے ہم منصبوں سے رابطہ کیا ہے۔مورگن اورٹیگس نے کہا کہ آسیان کی تنظیم کے اجلاس میں جین شنکر سے ملاقات ہوئی، مائیک پومپیو نے کئی ٹیلی فون کالز کی ہیں، وہ اپنے ہم منصبوں سے روزانہ کی بنیاد پر بات کرتے ہیں اور یہ کہ بھارت اور پاکستان سے ہمارے کئی رابطے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں