یمنی حکومت کا باغیوں پر جعلی انخلا کا الزام، اقوامِ متحدہ کی تردید

United Nations
May 13, 2019 1:56 pm

حدیدہ جدت ویب ڈیسک :یمنی حکومت کی جانب سے باغیوں پر جعلی انخلا کا الزام لگانے کے بعد اقوامِ متحدہ âیو اینá نے کہا ہے کہ یمنی باغی بحر احمر کی اہم بندرگاہوں سے طے شدہ منصوبے کے مطابق انخلا کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حدیدہ کی بندرگاہ سرزمین عرب کے غریب ملک کے لاکھوں افراد کی زندگیوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے، جسے 4 سال سے جاری جنگ نے قحط کے دہانے پر دھکیل دیا۔گذشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے موقع پر باغیوں کی جانب سے ایک طویل عرصے پر محیط انخلا کا اعلان ہونے کے بعد یمنی حکومت نے اسے دھوکا دہی کی پالیسی قرار دیا تھا۔لیکن اقوامِ متحدہ جس کے مطابق اس کی ٹیم حدیدہ، صلیف اور راس عیسیٰ کی نگرانی کررہی ہیں، کا کہنا تھا کہ انخلا طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ کوسٹ گارڈز نے ہفتے کے روز حوثی باغیوں کا انخلا شروع ہونے کے بعد 3 مقامات کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔خیال رہے کہ حدیدہ سے انخلا اقوامِ متحدہ کی ثالثی کے باعث یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت اور ایران سے منسلک حوثی باغیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے جو گزشتہ برس دسمبر میں سویڈن میں ہوا تھا۔اس شہر کی بندرگاہ یمن میں آنے والی زیادہ تر امداد اور برآمدات کی ترسیل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے تاہم ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ انخلا حقیقی پیش رفت کا پیش خیمہ ہے۔لندن کے تھنک ٹینک کیتھم ہاؤس سے تعلق رکھنے والے یمن کے ماہر فاریہ المسلمی کا کہنا تھا کہ سویڈن معاہدے پر عملدرآمد بہت مشکل ہے کیوں کہ معاہدے کی سطور مبہم ہیں اور دونوں فریقین اپنی مرضی کے مطابق ان کی تشریح کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجموعی طور پر آئندہ آنے والے 2 ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ حقیقت میں قبضہ چھوڑ دینا ہے یا محض دھوکا۔دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے باغیوں پر الزام لگایا کہ وہ انخلا کا ڈرامہ کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو حوثی ملیشیا نے کیا وہ بارہا دہراہا جانے والا ڈرامہ ہے جس میں وہ اپنی ہی فورسز âدوسرے یونیفارم میں ملبوسá کو قبضہ دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ’دھوکا دہی کی پالیسی اپنا کر سویڈن معاہدے پر عملدرآمد سے راہِ فرار اختیار کی جارہی ہے‘۔حوثی باغیوں کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ بندرگاہیں کوسٹ گارڈز اہلکاروں کے حوالے کردی گئیں ہیں جنہوں نے 5 سال قبل باغیوں کے قبضے سے پہلے حدیدہ کا انتظام سنبھالا ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں