پابندیوں کے حوالے سے امریکا کا مواخذہ کیا جائے ، ایران کا اقوام متحدہ پر زور

Iran and United Nations
November 7, 2018 11:55 pm

نیویارک جدت ویب ڈیسک :اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب غلام علی خسرو نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو سرکاری طور پر ایک تحریری خط بھیجا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق خط میں ایرانی مندوب کی جانب سے باور کرایا گیا کہ تہران پر دوبارہ سے پابندیوں کا عائد کیا جانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ، ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن کے خلاف اجتماعی سطح پر اقدام کیا جائے۔خط میں بتایا گیا ہے کہ 6 اگست 2018ئ کو امریکا کے صدر نے ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13846 جاری کیا۔ اس کے تحت ایران پر دوبارہ پابندیوں کا دسرا مرحلہ مسلط کیا گیا جو 5 نومبر 2018ئ سے نافذ العمل ہوا ہے۔یاد رہے کہ دوسرے مرحلے کی ان پابندیوں میں تہران کے دو اہم سیکٹروں یعنی تیل اور بینکنگ کو ہدف بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 700 ایرانی شخصیات اور ادارے بھی ان پابندیوں کی لپیٹ میں آئے ہیں۔خط کے مطابق یہ وہ پابندیاں ہیں جن کو امریکا نے سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 â2015ئá پر عمل کرتے ہوئے 16 جنوری 2016ئ کو تہران پر سے اٹھایا تھا اور یہ عہد کیا تھا کہ انہیں دوبارہ عائد نہیں کیا جائے گا۔خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں جوہری پروگرام سے متعلق وعدوں کو پورا کیا۔ تاہم امریکا نے دانستہ طور پر سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 â2015ئ á کی خلاف ورزی کی اور جانب دارانہ فیصلہ کرتے ہوئے پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔ واشنگٹن نے دوسرے ممالک کو بھی اپنی روش پر چلنے کے لیے مجبور کیا۔ اس طرح امریکا نے نہ صرف سلامتی کونسل کی قرار داد کی دھجیاں بکھیریں بلکہ وہ دیگر ممالک کو بھی اس قرار داد کی خلاف ورزی پر مجبور کر رہا ہے جس پر عمل کرنا اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق لازم ہے۔ایرانی مندوب خسرو کے خط میں امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ خسرو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ امریکا کی جانب سے مسلط کی جانے والی پابندیوں پر اقوام متحدہ کے متن اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اجتماعی صورت میں جواب دیا جائے۔یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے پیر کے روز اضافی پابندیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ ان پابندیوں میں تہران کے جوہری پروگرام پر قیود شامل ہیں تا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جا سکے۔دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے اعلان کیا کہ ان کا ملک تیل فروخت کرے گا اور پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا۔ اقتصادی عہدے داروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے روحانی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت حالتِ جنگ میں ہے اور تہران کے حوالے سے امریکا کے انتہائی اقدامات کے ساتھ مشرق وسطی میں کشیدگی جنم لے رہی ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اقتصادی جنگ کی پوزیشن میں ہیں اور ہمیں بدمعاش قوت کا سامنا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ امریکا کی تاریخ میں کوئی ایسا شخص وہائٹ ہاؤس میں داخل ہوا ہو جس نے اس حد تک قانون اور بین الاقوامی سمجھوتوں کی دھجیاں بکھیری ہوں۔

متعلقہ خبریں