میٹرک سے کم توبس نہیں چلا سکتا ،پی آئی اے جہازاڑائے جا رہے ہیں،سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پائلٹس کی جعلی ڈگری کیس کی سماعت

December 28, 2018 2:16 pm

لاہور: جدت ویب ڈسیک ::سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں پی آئی اے اوردیگرایئرلائنزمیں پائلٹس کی جعلی ڈگری کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازالحسن نے ریمارکس دیے کہ میٹرک سے کم توبس نہیں چلا سکتا یہاں جہازاڑائے جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں بینچ نے پی آئی اے اوردیگرایئرلائنزمیں پائلٹس کی جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی۔
عدالت میں سماعت کے دوران سول ایوی ایشن کی جانب سےعبوری رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ7پائلٹس کی ڈگریاں جعلی پائی گئیں، 5 میٹرک انڈرمیٹرک ہیں۔
نمائندہ پی آئی اے نے بتایا کہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے 50 افسروں کومعطل کردیا، جسٹس اعجازالحسن نے ریمارکس دیے کہ میٹرک سے کم توبس نہیں چلا سکتا یہاں جہازاڑائے جا رہے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کی زندگیوں کوداؤپرلگا دیا گیا۔سپریم کورٹ نے پی آئی اے کوکنٹریکٹ پائلٹس بھرتی کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ئلٹس کے لائسنسوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کرکے رپورٹ آج جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔
یاد رہے کہ 25 دسمبر کو سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں پائلٹس کی جعلی ڈگری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جو واضح اور صاف ڈگریاں فراہم نہ کرے اسے فارغ کر دیں۔سی اے اے نےعدالت کو بتایا کہ پائلٹس، کیبن کریو کی 4321 ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا گیا، 438 ڈگریوں کی تصدیق کاعمل جاری ہے۔

متعلقہ خبریں