چیونٹی پر تحقیق کے حیران کن نتائج ۔ سائنسی ماہرین

April 12, 2020 2:16 am

ویب ڈیسک  ::برلن: فرانس کے سائنسی ماہرین نے چیونٹی پر تحقیق کی جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔

غیرملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹولوس کے ماہرین نے چیونٹی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا۔ مطالعے کے دوران چیونٹی کی ویڈیوز ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹی وہ کیڑا ہے جو معصوم ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو اپنی معصومیت سے پاگل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیونٹی خطروں سے نہ صرف سیکھتی ہیں بلکہ وہ کوئی بھی خطرناک کام کرنے سے گریز کرتی ہیں، جیسے وہ اگر ایک جگہ سے گزریں اور انہیں خطرہ محسوس ہو تو دوبارہ یہاں کا رخ نہیں کرتیں۔

ماہرین نے چیوٹی کو بہترین راستہ تلاش کرنے والا کیڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے پنجوں اور ڈنک کی مدد سے راستہ تلاش کرتی ہیں اور جاتے وقت واپسی کی نشانی بھی لگا کر جاتی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیونٹی کی ذہانت بھی کمال ہے وہ ہر چیز کو یاد رکھتی ہیں اور اسی کی مدد سے اپنے دیگر ساتھیوں کی بھی مدد کرتی ہیں، وہ اگر ایک راستے پر چل رہی ہوں تو خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے تبدیل کرلیتی ہیں

جرمنی کے تحقیقی ماہرین نے دنیا کی تیز رفتار چیونٹی تلاش کرلی جو ایک سیکنڈ میں 855 ملی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی کے ماہرین تیز رفتاری سے چلنے والے حشرات الارض اور کیڑے مکوڑوں کی تلاش میں تھے، اسی دوران انہیں صحرا میں سلور چیونٹی نظر آئی۔

ماہرین کے مطابق گاٹاگلیپس بمبی سینا نامی اس چیونٹی کا کوئی مدمقابل نہیں کیونکہ یہ ایک سیکنڈ میں 855 ملی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق چیونٹی ایک سیکنڈ میں تقریباً 34 انچ آگے بھاگتی ہے، یہ بظاہر معمولی فاصلہ ہے مگر بمبی سینا کے لحاظ سے زیادہ ہے کیونکہ یہ  جسم سے 108 گناہ دور  کی مسافت بنتی ہے۔

ماہرین نے اس حوالے سے تقابلی رپورٹ بھی جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر یوسین بولٹ اسی تناسب سے دوڑے تو وہ 60 منٹ میں 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق سلور چیونٹی کروڑوں سالوں سے صحرا میں موجود ہے اور اس نے یہیں برق رفتاری سے دوڑنا سیکھا۔

ماہرین کے مطابق ریگستان میں گرمی کی شدت کے باوجود گلیپس کو سورج کی تپش متاثر نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ وہ دن میں بھی دوڑتی نظر آتی ہے، لمبی ٹانگوں کی بدولت چیونٹی کا جسم گرم ریت پر نہیں لگتا اور قدرتی طور پر اس میں ایسا پروٹین پایا جاتا ہے جو گرمی برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ چیونٹیاں دن میں گھر سے نکلتے وقت چھوٹا راستہ اختیار کرتی ہیں تاکہ جلدی واپسی ہو، وہ سارا دن بل سے باہر آنا جانا لگاتی ہیں اور رات میں بالکل نظر نہیں آتیں۔

New research solves enigma in ant communication | School of Life ...

 

متعلقہ خبریں