ایک مچھلی جس نے پاکستانی ماہی گیروں کو راتوں رات لکھ پتی بنا دیا

January 17, 2020 11:23 am

جدت ویب ڈیسک ::سمندر کو ماہی گیر ’بادشاہ‘ بھی کہتے ہیں بقول ان کے کہ یہ بادشاہ کے انداز میں نوازتا ہے جس سے انسان کی قسمت ہی بدل جاتی ہے۔
حال ہی میں کراچی سے تھوڑا دور بحیرہ عرب میں شکار کے دوران ماہی گیروں کے جال میں دو ایسی نایاب مچھلیاں آگئیں جنھوں نے انھیں لکھ پتی بنا دیا۔
ان ماہی گیروں کی موبائل پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو کے مطابق جیسے ہی جال کھنچتا ہے تو سندھی زبان میں ایک بزرگ ماہی گیر کی آواز آتی ہے کہ سوّا ہے سوّا۔
جیسے جیسے جال اوپر آتا ہے تو دوسری آواز آتی ہے کہ ‘ایک نہیں، دو ہیں دو۔’ مچھلیوں سے بھرا یہ جال اوپر کشتی پر پہنچتا ہے تو خوشی کے مارے ایک ماہی گیر کی چیخ نکل جاتی ہے، برف اٹھانے والی قینچی سے ان مچھلیوں کو دوسری مچھلیوں سے الگ کردیا جاتا ہے جبکہ ایک ماہی گیر خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔
ابراہیم حیدری کی جیٹی پر یہ دونوں مچھلیاں دس دس لاکھ روپے سے زائد قیمت میں فروخت ہوئیں اور فروخت کے تقریباً دو ماہ کے بعد ان مچھلیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا اور اس کے بعد میڈیا پر وائرل ہوئی۔
سوّا مچھلی کیا ہے اور قیمتی کیوں ہے؟
ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے معاون محمد معظم کے مطابق سوّا کروکر نسل سے تعلق رکھتی ہے، اس کو سندھی میں سوّا اور بلوچی میں کر کہا جاتا ہے جبکہ اس کا سائنسی نام ارگائیروسومس جیپونیکس ہے۔
اس کا سائز ڈیڑھ میٹر تک ہوسکتا ہے جبکہ وزن 30 سے 40 کلو بھی ہوسکتا ہے، یہ پورا سال ہی پکڑی جاتی ہے لیکن نومبر سے مارچ تک اس کی دستیابی آسان ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بریڈنگ سیزن ہے۔

ایک چینی ماہی گیر یلو کروکر مچھلی اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہے

چین، گولڈ فش،

کراچی فشریز میں تازہ پکڑی گئی مچھلیاں نیلامی کے لیے رکھی ہیں

متعلقہ خبریں