سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی۔ناروے میں قرآن پاک جلانے کی کوشش کرنیوالے پر مسلمان نوجوان کا حملہ، یہ واقعہ دراصل کیا تھا؟

November 23, 2019 2:28 pm

لاہور۔جدت ویب ڈیسک ) ناروے میں ایک مسلم نوجوان نے قرآن پاک جلانے کی مذموم کوشش ناکام بنا دی تاہم اسے پولیس نے حراست میں لے لیا، دراصل اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن مجید کی بے حرمتی کررہے تھے ۔
نجی ویب سائٹ ’پاکستان 24‘ کیلئے محمد الیاس نے لکھا کہ ”گزشتہ ہفتے کو ناروے کے جنوبی شہر کرسٹینڈ سینڈ میں قران جلانے کی مذموم کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد جذباتی نعرے اور مختلف پوسٹیں بھی سوشل میڈیا پر دیکھی گئیں، یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے اور صرف قران مجید کی بے حرمتی تک محدودنہیں، اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
کرسٹینڈ سینڈ کی آبادی تقریباً اسی ہزار ہے جس میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ واحد جامع مسجد کے علاوہ شہر کے اطراف میں کچھ مصلے بھی ہیں۔ مسلمانوں میں تیس سے زیادہ نیشنیلیٹیز کے لوگ آباد ہیں، جن میں زیادہ تعداد صومالیہ، شام، فلسطین و عراق کے مہاجرین کی ہے۔ مسلمانوں میں نوجوانوں کی قابل ذکر تعداد ہے اور ان میں سے بہت سے نوجوان یہاں کی معاشرت میں رنگے ہوئے ہیں۔ قانون کے مطابق آپ کو مذہبی آزادی ہے اور پورے ناروے میں تبلیغی جماعتیں سفر کرتی ہیں، ان کے اجتماعات ہوتے ہیں، اور یورپ کے گنے چنے ملکوں میں سے ناروے ایسا ملک ہے جو تبلیغی جماعتوں کو بلا حجت ویزے جاری کرتا ہے۔ شہر کی انتظامیہ، سیاست دانوں کی بڑی تعداد، سٹی کونسل میئر، پولیس اور باقی ادارے مسلمانوں کے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں اور ان کی ضروریات کو قانون کے مطابق پورا کرتے ہیں، مسلمانوں کو کبھی ان سے کسی بھی معاملے میں شکایت نہیں ہوئی، بلکہ جب مسلمانوں کو بڑی جگہ پر مسجد کی ضرورت پڑی تو سٹی کونسل میں دائیں بازوں کی مخالفت کے باوجود ووٹنگ کروا کے ہمارے لئے نئی مسجد کی منظوری دلوائی گئی۔
کرسٹینڈ سینڈ میں ہی مقیم محمد الیاس نے مزید لکھا کہ ایک ستاسی سالہ ملحد آرنے تھومیر نے یورپ کے باقی ملکوں کی دیکھا دیکھی کچھ سال پہلے اسلام کے خلاف ایک تنظیم بنائی، جس کا نام سیان (Stop Islmisation in norway۔ SIAN) رکھا۔ متشدد خیالات کے یہ لوگ اسلام کے خلاف مختلف فورمز میں کافی ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، اور مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کرتے ہیں جس میں اسلام کو جبر و طاقت کے زور پر پھیلایا ہوا مذہب اورمسلمانوں کوبطور دہشت گرد ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں کو معاشرے میں بہت زیادہ پذیرایی حاصل نہیں لہذا ان کے کسی مظاہرے میں قابل ذکر لوگ شامل نہیں ہوتے لیکن میڈیا ایسے لوگوں کو چٹخارے لگا کر پیش کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو کچھ حد تک کوریج مل جاتی ہے۔ ناروے میں مذہبی و اظہاررائے کی آزادی ہے، قانون تب حرکت میں آئے گا جب کوئی شخص نفرت، دہشت اور نسل پرستانہ تقریر کرے، اس کے علاوہ آزادی اظہار رائے کے نام پر جو مرضی کہے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے آرنے تھومیر نے جب مظاہرے کا اعلان کیا تو ایک صحافی نے اس مظاہرے کا عنوان دریافت کرنے کی غرض سے انٹرویو کیا، جس میں آرنے تھومیر نے اعلان کیا کہ قران کو جلائیں گے(نعوذباللہ)۔ اس بات نے شہر کے سکون میں ایک ارتعاش پیدا کردی اور فورا مسلم لیڈرز اور مسجد کمیٹی کے لوگ ایکٹو ہوگئے کہ ایسی کسی بھی انہونی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے شہر کے میئر، پولیس اور لوکل گورنمنٹ سے منسلک لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں پوری سٹی کونسل نے یک زبان کہا کہ ہم اس مظاہرے کے سخت خلاف ہیں اور ایسی کسی بھی حرکت کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حتی کہ مسلمان مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اعلان کیا کہ وہ قران کریم کو جلانے والی کسے عمل کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ اسی میٹینگ کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ قانون کے مطابق ہم مظاہرے کو نہیں روک سکتے جب تک وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے جو قابل گرفت ہو، لیکن چونکہ سیان کا یہ اعلان نفرت پھیلانے کے زمرے میں آتا تھا تو پولیس کمشنر نے کچھ پیرامیٹرز طے کروائے جس میں سیان تنظیم کو یہ کہا گیا کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن آپ قرآن کریم کو نہیں جلا سکتے اور ایسا کرنے پر قانون کی گرفت میں ہونگے۔
رپورٹ کے مطابق سیان تنظیم کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد پیش کرے کیونکہ ان کا رویہ پرتشدد اور مجموعی طرز عمل ہمارے معاشرے سے مطاقت نہیں رکھتا۔ان کایہ بھی مطالبہ رہا کہ مسلمانوں کو ناروے سے باہر نکالا جائے۔ لہذا یہ ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں، جن کا مقصد صرف اشتعال انگیزی ہے لیکن مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ اس کا جواب دیا گیا۔ شہرکے پڑھے لکھے لوگ ڈائیلاگ اور کانفرنسز میں بہت جاتے ہیں اور شہر کے سب آڈیٹوریمز میں کوئی نہ کوئی کانفرنس یا مکالمہ چل رہا ہوتا ہے۔ آرنے تھومیر نے پہلے پہل تو کوشش کی کہ اپنی نفرت انگیزباتوں کو ڈائیلاگ کی صورت میں لوگوں تک پہنچائے جس میں وہ نبیﷺ کی ذات اقدس پر بھی رکیک حملے کرتا تھا لیکن اس کی باتوں کومدلل انداز میں رد کیا گیا،جس کو پبلک نے پسند کیا اور اس کا بہت مثبت اثر ہوا۔ اسی وجہ سے مسجد میں ہر ہفتے دو ہفتے میں ایک نارویجین اسلام قبول کرتا ہے۔ آرنے تھومیر کی بے بنیاد باتوں اور نفرت پر مبنی تقریروں کی وجہ سے لوکل ادبی کونسل اور یہاں کے چرچ نے پابندی لگا دی کہ اس کو کسی تقریب میں نہیں بلانا تاکہ یہ اسلام سے متعلق اپنی نفرت کو پھیلانے کے لئے ہمارا فورم استعمال نہ کر سکے۔
لوکل انتظامیہ اور ادبی حلقوں سے کٹنے کے بعد اس تنظیم کے پاس صرف ایک ہی آپشن رہ گیا کہ وہ پبلک مقامات پر نفرت انگیزمظاہرے کرے۔ یہ اپنے مظاہرے میں باقاعدہ کیمرے اور میڈیا کے لوگوں کو ایڈجسٹ کرتے کہ اگر کوئی مشتعل شخص ان کو زدکوب کرے تو اس کی تصاویر و ویڈیو کو وائرل کروا کر لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ لوگ ہمارے معاشرے کی روایات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے، مسلمان اکابر جن میں سب سے زیادہ متحرک جامع مسجد کمیٹی کے صدر اکمل علی کہتے تھے کہ اس کی کسی بھی غیر قانونی حرکت پر قانون خود اس کو قابو کر لے گا۔ لہذامسلمان اس کی کسی اشتعال انگیزی پر برانگیختہ نہ ہوں اور اس کے کسی مقصد کو کامیاب نہ کریں۔
محمد الیاس کے مطابق اس مظاہرے سے پہلے مسجد کی طرف سے اعلانات ہوئے کہ اگرآرنے تھومیر نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی تو اس کو ایسی کسی حرکت سے روکنے کے لئے پولیس موجود ہوگی لہذا انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اشتعال میں آ کر کوئی فرد اپنے طورپرکوئی کاروائی نہ کرے۔ ہفتے کے دن سیان کے مظاہرے میں صرف آٹھ لوگ تھے، جبکہ چار سو سے زیادہ لوگ، جن میں نارویجنز کی قابل ذکر تعداد بھی شامل تھی، اس کے مظاہرے کے خلاف موجود تھی۔ پولیس نے رکاوٹیں لگا کر راستہ بند رکھا ہوا تھا کہ لڑائی کی صورت نہ بن سکے۔ آرنے تھومیر نے تقریر کے دوران قرآن کریم کا ایک نسخہ باربی کیو گرل کے اوپر رکھا ہوا تھا، جو پولیس نے فوراً لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس دوران سیان تنظیم کے دوسرے سرکردہ رکن لارس تھورسن نے اپنی جیب سے قران کریم کے دوسرے نسخہ کو نکال کر آگ لگانے کی کوشش کی جسے پولیس نے بجھانے کی کوشش کی لیکن اسی دوران عمر دھابہ جس کو بڑی تعداد عمر الیاس لکھ رہی ہے، نے رکاوٹ عبور کی اوراور لارس تھورسن کو مارنے کی کوشش کی، لارس کو فورا سول پولیس نے اس حرکت پر گرفتار کر لیااور ہنگامہ مچ گیا، اس دھکم پیل میں مسلمان نوجوانوں نے پولیس کو بھی دھکے اور ٹھڈے مارے، کہ وہ لارس تک پہنچ سکیں۔آج ان نوجوانوں کی ویڈیو اور تصاویر پورے ناروے اور دنیامیں وائرل ہیں۔
واقعے کے بعد مسجد کمیٹی نے بہترین وکیل کا بندوبست کر لیا ہے جو لارس تھورسن کو قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔اس اندوہناک واقعے کے بعد پولیس، چرچ، انتظامیہ اور سیاست دان بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں ساتھ متفق ہیں لیکن ان سب کی سپورٹ صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی حاصل ہے لیکن اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر اس مسئلے کو خود حل کرے گے تو جو حاصل وصول ہے وہ بھی جائے گا۔ اس واقعے کے بعد مقامی چرچ کے پادری، دیگر مذاہب کے سرکردہ لوگ اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے یکجہتی کے اظہار کے لئے گزشتہ روز جمعہ کی نماز کے دوران برستی بارش میں مسجد کے باہر حلقہ بنایا اور مسلمانوں کو اپنی حمایت کا یقین دلوایا۔

Hateful conduct against Muslims has carried out in Norway

Hateful conduct against Muslims has carried out in #Norway ?It hurts billions of Muslims around the globleWe PAKISTANIS 🇵🇰 strongly condemn this act of religious discrimination#Stop_Islamophobiaجب قرآن شریف کے نسخے جلائے گئے تو ایک غیرت مند مسلمان گھائل شیر کی طرح جھپٹ پڑا

Posted by Andaz-e-Jahan on Friday, November 22, 2019

متعلقہ خبریں