مولانا فضل الرحمن کا ملین مارچ ، اربوں روپے کہاں سے آئے؟ لوگ سوچنے پر مجبور

October 8, 2019 9:26 pm

لاہور: مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے لیے ملین مارچ کا اعلان کیا ہے اور اس بات کا عزم کا اظہار کیا ہےکہ اس مارچ میں لگ بھگ 15 لاکھ لوگ شرکت کریں‌گے ، مولانا فضل الرحمن ایک ملین یعنی 10 لاکھ لوگوں کو جمع کرتے ہیں‌ تو پھر ان کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے،
مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کی اندر کی کہانی پاکستان کے معروف اینکر ، صحافی کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں افشاں کردی ہے، مبشر لقمان نے یوٹیوب پر سیر حاصل، حقائق پر مبنی اور مدلل گفتگو کرے مولانا کے لئے کئی سوالات چھوڑ دیئے ہیں جن کے جوابات شاید وہ زندگی بھر نہ دے سکیں
مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھاناپینا، آمدورفت کے لیے ہزاروں گاڑیوں کا استعمال اورپھر دس لاکھ لوگوں کو قضائے حاجت کے لیے ٹائلٹس کی فراہمی بنیادی مسائل اور جزیات میں سے ہیں‌،
معروف اینکر مبشر لقمان نے بڑی ہی تفصیل سے اور دلیل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک ایک آدمی کے ایک وقت کے کھانے پر کم از کم 60 روپے خرچ آئیں‌تو ایک وقت کے کھانے پر 60 ملین یعنی پاکستانی 6 کروڑ روپے خرچ آئیں‌گے ، یہ ایک وقت کاکھانا ہے جب دن میں‌تین مرتبہ کھانا کھائیں‌گے تو پھر کم از کم اس کی لاگت 180 ملین روپے یعنی ایک دن 18 کروڑ روپے خرچ آئیں‌گے
مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے لیے ایک مہینے کا پروگرام پہلے مرحلے میں تشکیل دیا ہے، اور ایک مہینے کے کھانے پر جو کم از کم خرچ ہوگا اس کی کل لاگت 5 ارب اور 40 کروڑ بنتی ہے ،مبشر لقمان نے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ملین مارچ کے شرکاء کو یقینا پانی کی بھی ضرورت ہوگی ، اس کے علاوہ کھاناپکانے کےلیے ایندھن ، گیس، اور گیس سلینڈر ، چولہوں‌کی بھی ضرورت ہوتی ہے، پھر ان سارے معاملات کو انجام تک پہنچانے کے لیے مزدوروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، چلو وہ سب فی الحال حساب میں نہیں‌لاتے مگر یہ تو حقیقت ہے کہ ایک گیس سلینڈر کی قیمت 6 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے اور پھر دس لاکھ لوگوں کے لیے کم از کم 50 ہزار سلینڈر کی ضرورت ہوگی جن کی کم از کم قیمت 30 کروڑ روپے کا خرچہ آئے گا
گیس چولہے کتنی تعداد میں منگوائے جائیں گے ان کی تعداد بھی ہزاروں میں‌ہے ، یقینا ان کی تیاری کےلیے مولانا فضل الرحمن نے آرڈر دے رکھے ہوں‌گے اور اس کی صیح تعداد مولانا صاحب ہی بہتر جانتے ہیں‌
سنیئر اینکر مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی اندورنی کہانی بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ مولانا کا یہ دعویٰ ہےکہ وہ دس لاکھ سے زائد لوگوں کو اسلام آباد لے کر جائیں گے ، جس کے لیے ٹرانسپورٹرز سے بات چیت چل رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق 25 ہزار بسوں‌سے بات چیت چل رہی ہے کہ وہ اسلام آباد تک چھوڑنے اور پھر لینے کے لیے جائیں گے ، یہ تو وہ ٹرانسپورٹیشن ہے جو عام شرکاء کے لیے ہے مگر قائدین جمعیت کے لیے پرتعیش گاڑیاں بھی منگوائی جارہی ہیں‌جن کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ان کی قیمت کون اداکرے گا
مبشر لقمان نے بڑے ہی معاشی ماہر کی طرح ان گاڑیوں‌پرہونے والے اخرات کا تخمینہ لگایاہے جس کےمطابق اسلام آباد جانے کے لیے یک طرفہ ایک بس کم از کم 15 ہزارروپے کرایہ مانگ رہے ہیں‌ اور اگر کم از کم کرائے اور گاڑیوں کی تعداد کے حساب سے تخمیہ لگایا جائے تو یہ کل قیمت 37کروڑ 50لاکھ بنتی ہے،اور جب یہی مظاہرین واپس اپنے گھروں‌کو لوٹیں‌گے تو یہ کل رقم 75کروڑ تک جا پہنچتی ہے،
بڑے ہی خوبصورت انداز سے نقشہ کھینچتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ یہ طئے ہے کہ ایک ملین یعنی دس لوگوں کو اسلام آباد بلاتےہیں‌تو یقیقنا تین وقت کھانا کھانے کےبعد قضائے حاجت ، وضو اور طہارت کے لیے کم از کم 2 لاکھ طہارت خانوں کی ضرورت ہے اس کے بغیر گزارہ نہیں‌ہوسکتا ، ایک طہارت خانے پر کم از کم خرچ 20 ہزارروپے آئے گا ، یو دولاکھ طہارت خانوں پر کل آنے والی لاگت کا تخمیینہ 4 ارب روپے بنتاہے ، مبشر لقمان یہ سارے اعدادوشمار بیان کرکے بڑی حیرانگی سے پوچھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انتی خطیر رقم کہاں سے مل رہی ہے یہ ہے اصل سوال جو قوم ضرور پوچھے گی
مبشر لقمان نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توقع یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں‌شرکت کرنے والے شرکاء روزانہ کم از کم 2 لاکھ کلوگرام فضلہ پاخانے کی شکل میں اسلام آباد میں‌ پیدا کریں‌گے یا اور عارضی طہارت خانوں میں بہائیں گے ، جبکہ جس جگہ یہ مارچ ہوگا وہاں تو کوئی سیوریج سسٹم نہیں‌ہے،تو پھر یہ گندگی کے ڈھیر جب اسلام آباد کی مضافات میں لگیں‌گے تو پھر کیا بیتے گی راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں پر اور ماحول پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوں گے اس کے بارے میں تو اب کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے

سنیئر اینکر نے بڑے مناست انداز میں تصویر کھینچتے ہوئے منظر بیان کیا ہے اور اس مارچ کے دیگر لوازمات پر بھی روشنی ڈالی ہے، مبشر لقمان حقائق کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ اس مارچ کے شرکاء کے لیے روشنیوں کا بھی اہتمام کرنا ہے ، جس کے لیے بڑی بڑی لائٹیں‌اور جنریٹرز کی بھی ضرورت پڑے گی ،مولانا فضل الرحمن کے لیے تیار خصوصی کنٹینر کو تو خصوصی طور پر ان لوازمات کی ضرورت ہوگی ، اب اس کے بعد اس صورت حال یعنی بجلی ، لائیٹوں ، روشنیوں اور جنریٹرز پر کروڑوں روپے خرچ آئیں‌گے وہ کون ادا کرے گا
مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے محتاط تخمینے لگا کر جو حقائق قوم کے سامنے پیش کیئے وہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ، اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں‌مبشر لقمان نے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق مولانا کے اس مارچ پر مجموعی طور پر 10 ارب روپے خرچ آئیں‌گے ، ان اعدادوشمار کے بعد اب ہر ذی شعور یہ تو ضرور سوچنے پر مجبور ہوگا کہ آخر اتنی خطیر رقم مولانا کو کون دے رہا ہے ، آخر کوئی تو ہےجو مولانافضل الرحمن کو سپورٹ کررہاہے ، قوم ضرور پوچھے گی کی اتنی خطیر رقم کی منی ٹریل دی جائے ، قوم حساب مانگے گی اور ادارے حساب کتاب لگا کر حقیقت قوم کے سامنے رکھیں‌گے پھر سب حقیقتیں کھل جائیں‌گی کہ پاکستان میں‌ آزادی مارچ کے نام پر مذہبی انتہا پسندوں‌ کو اربوں روپے جہاں جہاں سے آتی ہیں‌

متعلقہ خبریں