سوشل میڈیا کا محاذ…. پاکستان کے نام

August 27, 2019 4:08 pm

جدت ویب ڈیسک ::ہائبرڈ وار میں پاکستان نے انڈیا کو زبردست طریقے سے پچھاڑ دیا ہے۔ اس کا ثبوت انڈین میڈیا پر سنائی دینے والی چیخیں ہیں۔ کہیں وہ حمزہ علی عباسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور کہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ایک ایک ٹویٹ پر پورے پورے پروگرام کرتے نظر آتے ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ انڈیا کا ریٹائرڈ لفٹینٹ جنرل عطا حسنین بھی آئی ایس پی آر کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
جس طرح آئی ایس پی آر نے نوجوان نسل کو متحد کیا اور سوشل میڈیا پر انڈین پروپیگینڈے کا جواب دیااور ملک کے طول ارض کے تمام نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دشمن کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا کے ٹویٹر صارفیںن صدر پاکستان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے ٹویٹر اکاونٹ کو رپورٹ کر رہے ہیں۔
انڈین یقینا آئے روز کشمیر کے متعلق ٹویٹر ٹرینڈ سے بہت پریشان ہیں۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی پاکستانی کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں تو کچھ انڈین ان کو مصروف کرنے کے لیے جواب میں موضوع سے ہٹ کر یو ٹیوب لنک شعیر کرتے ہیں اور بحث پر لے آتے ہیں تا کہ وہ ٹویٹر صارف ٹرینڈ پر کام جاری نہ رکھ سکے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے ایسے ٹویٹر صارفین کے فالورز بہت کم ہوتے پیں یعنی وہ “را” کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کو جواب نہیں آتا تو گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ اسی طرح باقی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔
چند روز پہلے انڈیا نے سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پروپیگینڈا کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ جس میں انڈیا کی ٹی وی چینل اور ٹویٹر ٹرینڈ پیش پیش تھے۔
اس کا مقصد پاکستانی عوام کا مورال گرانا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج جو کی مثبت چل رہی ہے اس کو گرایا جائے۔ مگر اس ٹرینڈ کے چلتے ہی حکومت پاکستان کی طرف سے اس پروپیگینڈے کو ناکام کر دیا گیا اور ہمارے ٹی وی چینل نے بھی بھر جواب دیا۔
یہاں سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کے سوشل میڈیا محاز سے کس قدر بوکھلایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی ہائبرڈ وار کو ہم سب پاکستانیو کو سمجھنا چاہئیے۔ اس محاز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ آپ کی ہر پوسٹ ، ہر ٹویٹ انڈیا کو گولی کی طرح لگتا ہے۔ لہزا ہر محب وطن پاکستانی کو اس محاذ پر پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آنا چاہئیے۔
حکومت پاکستان نے کشمیر میڈیا سیل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو یقینا انڈیا کے لیے بہت بری خبر ہے۔
پاکستان کی ہائیبرڈ وار میں کامیابی اپنی جگہ مگر ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ بھی کافی حد تک جانب دار ثابت ہوئی ہے۔
ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں اکاونٹ بند کئے گئے۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس مسئلہ پر آواز اٹھانے کی ہامی بھری۔
یقینا اس محاز کو مزید موثر بنانے کے لیے پاکستان کو ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہئیے۔ اور کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بننا چاہئیے۔ تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے۔

متعلقہ خبریں