گوادر کے لوگ آج بھی اپنے آباؤ اجداد سے سیکھے ہوئے طریقے سےکشتی سازی میں مصروف

November 5, 2018 6:01 pm

گوادر: جدت ویب ڈسیک ::دنیا بھر میں جہاں کشتی سازی ایک جدید صنعت کا رخ اختیار کرچکی وہیں گوادر کے کشتی ساز آج بھی اپنے آباؤ اجداد سے سیکھے ہوئے طریقے پر کشتی سازی میں مصروف ہیں۔
گوادر میں موجود کشتی سازی کی صنعت آج بھی جدید ٹیکنالوجی سے دوراور مشکلات کا شکارہے ، ایک بڑی کشتی کی تعمیر میں سال بھرکا وقت صرف ہوتا ہے۔ کشتی کی تعمیر میں عموماً پارٹیکا ، بلاو ٔاور برما ٹیک کی لکڑی کا استعمال کیاجاتا ہے۔ سمندر کی موجوں کامقابلہ کرتی کشتیاں ہنرمندوں کی مہارت اورثقافت کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کے پیچھے ان کشتیوں کو بنانے والوں کی غربت کی داستاں چھپی ہوئی ہے۔
سارا دن سخت گرمی میں محنت کرنے والا ایک ماہر کاریگر بمشکل اپنی محنت کے عوض بارہ سے تیرہ سو روپے تک حاصل کرپاتا ہے۔ مقامی ہنر مند یہ کشتیاں اپنے آباؤ اجداد سے سیکھے ہوئے طریقے کے مطابق بناتے چلے آرہے ہیں اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے سبب آج بھی قدیم ذرائع حرفت پر قناعت کرنے پر مجبور ہیں۔
عبد الصمد نامی کشتی ساز نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک وقت اور محنت طلب کام ہے ، اس میں کاریگر کو شدید جسمانی مشقت انجام دینا ہوتی ہے۔ ایک کشتی کی سیٹنگ میں ہی صرف تین سے چار مہینے صرف ہوتے ہیں۔کشتی سازی کے لیے لکڑی کے بڑے ٹکڑوں کو تختوں کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے اس کے بعد انہیں انتہائی مشقت سے چھیل کر ہموار اور پالش کے لائق بنایا جاتا ہے ۔ جس کے بعد ان تختوں کو کشتی کی شکل میں جوڑنے کا مرحلہ آتا ہے جو بذاتِ خود ایک مشقت طلب کام ہے۔ ان سارے مراحل سے گزر کر ایک کشتی پانی کی لہروں کا سینہ چیر کر مچھیروں کا رزق تلاش کرنے کے قابل ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب ایک بار کسی کشتی کو بنانے کے لیے لکڑیاں تیار کرلی جاتی ہیں تو پھر اسے بنانے کا عمل شروع ہوتا ہے جو کہ کشتی کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔ چھوٹی کشتی کی تیاری میں مجموعی طور پر پانچ سے چھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے تو بڑی کشتی کی تعمیر میں کم از کم ایک سال کا عرصہ لگتا ہے۔

Related image

Image result for wood bought making in gwadar

Related image

متعلقہ خبریں