بیگم کلثوم نواز کی زندگی پر ایک نظر۔۔۔۔

Begum Kalsoom Nawaz and Nawaz Sharif
September 11, 2018 4:24 pm

کراچی جدت ویب ڈیسک : ایک وقت تھا کہ جب لاہور کو مسلم لیگ ن کا قلعہ سمجھا جاتا ہے لیکن کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود شریف فیملی کی کسی خاتون نے انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ بیگم کلثوم نوازشریف فیملی کی واحد خاتون ہیں جو اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے انتخابی عمل سے گزر رہی ہیں۔ بیگم کلثوم نواز مشہور زمانہ گاما پہلوان کی پوتی ہیں‘بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ئ کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔ انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ئ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ئ میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے ‘دو اپریل 1971ئ کو بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا‘نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسمائ نواز ہیں‘نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ئ کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ئ تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997ئ کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں‘ 12 اکتوبر 1999ئ کو جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا ‘نواز شریف سے عہدہ چھینا تو جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے ۔ امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999ئ میں مسلم لیگ ن کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔ وہ 2002ئ میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں‘جون 2013ئ میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ئ تک ہی رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو مسلم لیگ ن نے نوازشریف کی اہلیہ کو میدان میں اتار دیا۔ بیگم کلثوم نواز علیل ہونے کے باعث 17 اگست کو لندن روانہ ہوئیں جس کے باعث این اے 120 سے انتخابی مہم چلانے کا بیڑہ بیٹی مریم نواز نے اٹھایا۔اس کے بعد پانامہ اسکینڈل میں نواز شریف اور ان کے داماد کیپٹن صفدر اور بیٹی مریم نواز کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا اور اسی دوران بیگم کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں انتقال کرگئیں۔

متعلقہ خبریں