ریحان مرچنٹ

January 9, 2018 1:43 pm

ریحان مرچنٹ تشہیری دنیا کا وہ پارس ہے جس کو چھو لینے والا سونا بن جاتا ہے،ایسے جوہری خال خال ہی ملتے ہیں جو خام کو تراش کر عمدہ بنائیں اور ان سے کوئی فائدہ حاصل کئے بنا ہی دوسروں کی جھولی میں ڈال دیں،انہوں نے کار آمد اور تجربہ کار فنکاروں کی ایک بڑی جماعت پیدا کی جو آج تشہیری اداروں کو سیراب کررہی ہے۔تشہیری صنعت ہر کاروبار کی ماں تصور کی جاتی ہے ۔ ایسے ماحول میں ریحان علی مرچنٹ 27برس سے ذاتی سرمایہ کاری کے ذریعے تشہیری صنعت کو کارآمد افراد فراہم کر رہے ہیں۔ مرچنٹ نےجوش،جذبے، لگن اور شعور کے ساتھ تشہیری دنیا میں قدم رکھا تو انہیں یقین کامل تھا کہ ان کی شبانہ روز محنت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور رنگ لائے گی۔خوب سے خوب تر کی تلاش ان کا روزاوّل سے مطمع نظررہا۔تشہیری صنعت میں جمود کے خلاف نئےآئیڈیاز متعارف کرائےاور بین القوامی معیار کے مطابق کلائنٹس کو سروس فراہم کرکے انڈسٹری میں جدت پیدا کرنے کی خواہش ان سے ہمیشہ نئے جہانوں کی دریافت کراتی رہی۔ مرچنٹ کی طبیعت میں بے چینی و اضطراب انہیں ہر وقت نیا کچھ کرنے پر اکساتا ہے۔وہ ہمیشہ چیلنجزاور مشکل کام کےآرزومند رہے ہیں۔مرچنٹ نے روز اوّل سے اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی تربیت کی،ان کا اپنے ساتھیوں کو اختیارات دینے کا جرأت مندانہ اندازآج بھی وہیہے، اللہ تعالی اپنے بندوں سے خوش ہو کر ان کیلئے تمام راستے آسان کردیتا ہے۔ ریحان علی مرچنٹ کو بھی اللہ تعالی نے ایسے ساتھیوں سے نوازا کہ وہ 7برس تک امریکا میں مقیم رہے اور ادارہ کامیابی سے چلتا رہا، 21ویں صدی اپنے دامن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب سمیٹ کرلائی تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ انقلاب کیا رُ خ اختیار کرے گا مگر آج یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ہے جو دنیا کا مستقبل ہی نہیں حال بھی طے کر رہی ہے۔ ہر لمحہ جہدِ نو کی تلاش میں سرگرداں اور نئے ستاروں پر کمند ڈالنے والے ریحان علی مرچنٹ کیلئے گویا یہ انقلاب ایک نئی زندگی کی نوید ثابت ہوا۔ یکسانیت کا شکار ہونا جس شخص نے سیکھا ہی نہ ہو اس کیلئے ڈیجیٹل ورلڈ ایک ایسی دنیا ہے جس میں ہر لمحہ ایک نئی جیت کا امکان ہواور سکندر اعظم کی طرح فتح کے اس متلاشی کو جیسے زندگی کا ایک نیا مقصد مل گیا۔پاکستان جیسے ملک میں ایک بڑے ایڈورٹائزنگ گروپ کا سربراہ ہونا یقیناً کسی کیلئے بھی زندگی کا حاصل ہوسکتا ہے مگر ریحان علی مرچنٹ سے مل کر ایسا لگا کہ درحقیقت ان جیسی شخصیت کیلئے یہ کوئی ایسی اچیومنٹ نہیں جس کو وہ زندگی کا فخر قرار دے سکیں۔ ڈیجیٹل ورلڈ کی وسعت اور ریحان علی مرچنٹ کی شخصیت آپس میں اس قدر مربوط نظر آتی ہے کہ لگتا ہے گویا دونوں ایک دوسرے کیلئے ہی تخلیق ہوئے ہیں۔ وہ آج کل ڈیجیٹل ورلڈ کی کون سی دنیائیں دریافت کررہے ہیں یہ جاننے کیلئے ان سے ایک تفصیلی نشست کا اہتمام کیا گیا جو ان کی مصروفیات اور انٹرویوز سے دور رہنے کی عادت کے سبب کافی کوششوں کے بعد ممکن ہوسکی۔ اس نشست کا احوال نذرِ قارئین ہے۔
ریحان علی مرچنٹ کے کیریئر کے ابتدائی دور کا ذکر کیا جائے تو اس وقت انڈسٹری میںایک جمود طاری تھا ، کام ہو رہا تھا، اشتہار بن رہے تھے ،کمپینز چل رہی تھیں مگر کچھ نیا نہیں تھا، وہی سب کچھ رواں دواں تھا جو برسوں سے جاری تھا، پھر انڈسٹری میں ریسرچ کی بنیاد پر کام کا آغاز ہوااور یہ آئیڈیا لے کر آنے والے ریحان علی مرچنٹ  ہی تھے۔ اپنے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے ریحان بتاتے ہیں کہ جب میں نے تشہیری صنعت میں قدم رکھا تب یہاں ریسرچ وپلاننگ کا فقدان تھا ریسرچ کی روشنی میں میڈیا پلاننگ اور بائنگ پاکستان میں نیا آئیڈیا تھا اگرچہ پوری دنیا میں کر یٹو ا یجنسیاں ا لگ الگ اپنا کام کرتی تھیں ،ہم نے پاکستان میں میڈیا پلاننگ اور بائنگ کا آئیڈیا متعارف کرواتے ہوئےاس کام کی داغ بیل ڈالی اور پاکستان میں سروے کمپنیوں، اشتہارات ، پلاننگ اور بائنگ کو جدید سائنٹیفک خطوط پر استوار کرنے کی سعی کی جس کے بہترین نتائج سا منے آئے اور آج پاکستانی کلائنٹس میڈیابائنگ کی ا ہمیت اور افادیت کو سمجھ کر اپنے اداروں کو مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماراگروپ مکمل طور پر جدید خطوط پر ا ستوار منظم ادارہ ہے جو اپنے کلائنٹس کو بہترین ریسرچ کی روشنی میں بین الاقوا می معیار کی خدمات فراہم کررہا ہے۔ ریسرچ کے ذریعے ایسے چونکا د ینے والے نتائج سامنے آتے ہیں جن کی بدولت جاندار تشہیری تصو رات کی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ہم نے ابتدا سے تمام تر تشہیری حکمت عملی کی بنیاد ریسرچ اور سروے پر رکھی۔اس سے مصنو عات کے خریداروں میں یقین اور اعتماد کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔ مرچنٹ نے کہا کہ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ اپنے کلائنٹس کو پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی سروس فراہم کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم کا تجربہ ایک طویل عرصے پر محیط ہے،فن تشہیر کی بین الاقوامی سطح پر پلاننگ، بائنگ اور مختلف شعبہ جات پر عبور اور تنظیمی قابلیتوں اور رفقاء کار کی انتھک محنت کے سبب MHLموثر کارکردگی کا نشان بن چکا ہے۔
پاکستان ریحان علی مرچنٹ کی پہلی محبت ہے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوری دنیا گھومی اور بہت سا وقت بیرون ملک گزارا مگر جہاں بھی گیا اپنے ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کی ،وطن کی مٹی کی خوشبو ہمیشہ میرے ساتھ رہی، پاکستان ہی ہماری پہچان ہے اوراس کے مثبت امیج کیلئے کام کرنا ہم سب کا بنیادی فرض ہے۔ اس قوم کے معماروں اور نوجوانوں کیلئے مستقبل کی راہیں آسان کرنے کیلئے ہر ممکن کام کر رہا ہوں۔ پاکستان کی عزت سے ہی ہماری عزت ہے ، دولت کبھی معیار عزت نہیں ہوسکتی۔
ریحان علی مرچنٹ کی انفرادیت اپنے ادارے کو کاروباری سے زیادہ تربیتی مرکز بنانا ہے جہاں مختلف سطح پر تربیت کے ذریعے لوگوں کی صلاحیتیں بڑھا نے اور ابھارنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیںتاکہ وہ انڈسٹری کیلئےاپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کام کرسکیں۔ انہوں نے 27سالہ کیریئر میں اسی پالیسی کی بدولت تشہیری صنعت کو بیش بہا ہیرے دیئے جو آج نہ صرف ملکی تشہیری صنعت بلکہ بیرون ملک بھی ملٹی نیشنل اداروں میں میڈیا و ایڈورٹائزنگ کی مرکزی پوزیشنز پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس سوال پر کہ آپ جب لوگوں کو ٹرینڈ کرتے ہیں اور وہ جلد ہی دوسرے اداروں میں چلے جاتے ہیں تو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک کامیابی کا بنیادی جزو ہی ایک اچھی ٹیم تیار کرنا اور ڈیٹا پر کام کرنا ہے،مجھے فخر ہے کہ میں ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب رہا ہوں جو کامیابی سے ایجنسی چلا رہی ہے اور مجھے موقع ملا کہ میں نئی مارکیٹس دریافت کروں ، ڈیٹا پر کام کروں اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کی صلاحیتیں ابھارنے اور بڑھانے کی طرف توجہ دے سکوں۔ میں نے خود کو روزمرہ کے بزنس معاملات سے آگے بڑھا لیا ہے اورسات سال سے باہر ہوں۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوںجو آج بھی کمپنی کے چیک سائن کرتے ہیں جبکہمجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے آخری چیک کبسائن کیا تھا۔ پاکستان میں تشہیری صنعت کا فروغ ،تحقیق ، تخلیق اور معیار ہمارا مشن ہے۔چیلنجز کا آرزومند، مضطرب طبیعت ، نئی دنیائوں کی تلاش اور کچھ کرنے کیلگن میری پہچان رہی ہے۔ ہم لوگوں کوانٹری لیول سے ٹرینڈ کرتے ہیں جس کے بعد دیگر تربیتی مراحل آتے ہیںاور جہاں تک لوگوں کے سیکھ کر چلے جانے کا معاملہ ہے تو اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا،اس سے جانے والوں کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ سال دو سال میں سوائے بنیادی باتوں کے کوئی کچھ نہیں سیکھ پاتا۔ میں نے ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں 27 اورمیڈیا انڈسٹری میں 20سال گزاردیئے ہیں مگر آج بھی سیکھنے کے مرحلے میں ہوں۔ ہمارے یہاں جو لوگ اپنا تسلسل برقرار رکھتے ہیںوہ کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔میں محض اس وجہ سےانڈسٹری میں انویسٹ کرنا ختم نہیں کرسکتا کہ میں اکیلا ایسا کر رہا ہوں۔ میں نے ہمیشہپڑھے لکھے اور قابل افرادی قوت کی پائپ لائن تیار کی ہے اوررواں سال بھی ایک بڑی ٹیم تیاری کرنے کا ارادہ ہے۔ایڈ ایجنسی میں وہ لوگ ترقی کرتے ہیں جنہوں نے پانچ سال مستقبل مزاجی کے ساتھ کام کیا ہو۔مختلف ایجنسیوں میں سرکردہ حیثیت میں کام کرنے والے بیشتر افراد نے ہمارے ادارے سے ہی تشہیری صنعت کے اسرار و رموز سے واقفیت حاصل کی اور آج دیگر تشہیری اداروں کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ FMCGاداروں کیلئے کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں ۔ گروپ ایم،یونی لیور،پیپسی، کوکا کولا،گوگل اور فیس بک سمیت بہت سی کمپنیوں کو ہمارا شکرگزار ہونا چاہیے کہ ہم نے انہیں انتہائی تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کی۔تشہیری صنعت میں کام کرنے والی دیگر بڑی کمپنیوں کو بھی یہکام کرنا چاہئے تھا مگر وہ نہیں کررہی ہیں۔ ہم ایساآج سے نہیں 30 سال سے کررہے ہیں۔ایسی کئی مثالیں ہیں ، میں صرف ایک مثال دیتا ہوں ،گوگل پاکستان کی ٹیمصرف 6 لوگوں پر مشتمل ہے جن میں سے تین ہمارے گروپ کےتربیت یافتہ ہیں۔
دنیا تیزی سے سمٹتی جا رہی ہے، دیدہ ور لوگوں کو آنے والا کل آج ہی نظر آجاتا ہے،#AOTF “ایجنسی آف دی فیوچر” کا شہرہ آج تشہیری صنعت میں ہر جگہ پایا جاتا ہے مگر یہ ہے کیا ؟اس کے بارے میں تسلی بخش معلومات کا فقدان نظر آتا ہے۔ مرچنٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ہی اس حوالے سے فعال ترین پروفیشنل کی شناخت بنا چکے ہیں۔#AOTF کے بارے میں اپنی معلومات شیئر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کا بڑا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ ڈیجیٹل،ورچوئل،آرٹیفیشل انٹیلی جنس،آن لائن یہ بزنس ماڈل بننے جارہا ہے مگر یہ اتنا سادہ بھی نہیں کہ چند الفاظ میں سمٹ جائے ، اس کے لئے بہت پڑھنے، سیکھنے کی ضرورت ہے اور میں نے معلومات کوکبھی خود تک محدود نہیں رکھا کہ میری زندگی کا یہ اصول ہی نہیں ہے ، میری تیز ترین ٹیم سیکھ رہی ہے اور آئندہ دو برس میں آپ کو انڈسٹری میں بڑی بنیادی تبدیلیاں نظر آئیں گی ، آپ کو بہترین اور وقت کا ہم رکاب ہونا ہوگا ورنہ بڑے بڑے اداروں کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ #AOTF کے علاوہ ہمارے ہاں ایک اور بہت بڑا مینجمنٹ کا اصول ہے اور وہGo Failکہلاتا ہےجس کا اطلاق ہر کاروبار اور ہر شخص پر ہوتا ہےخواہ آپ ایڈمنسٹریشن میںکام کرتے ہوںیاآپریشنز وپلاننگ آپ کا شعبہ ہو۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ اب مستقبل ڈیجیٹل کا ہی ہے۔ ڈیجیٹل کا مطلب ہے کہ آپ اپنے موبائل فون پر انٹر نیٹ استعمال کرتے ہوئے مختلف سائٹس وزٹ کررہےہوتےہیں اور بہ یک وقت fhmpaksitan.com کی سائٹ پر جاتے ہیں پھر crickinfo.com کی سائٹ پر جاتے ہیں تو مجھے یہ پتا چل جائے گا کہ اس یوزر کو کرکٹ میںاور فیشن برانڈز میں بھی دلچسپی ہے۔ یوزر کی عمر، جنس اور دلچسپیاں معلوم ہوجاتی ہیں۔ اب اگر مجھے کوئی اس قسم کی اشتہاری مہم چلانی ہوگی جس کا تعلق کرکٹ یا فیشن برانڈز میں دلچسپی رکھنے والے لوگوںسےہے تو میں اس جگہ پر اشتہار لگائوں گا۔میرے پاس یہ ڈیٹا گوگل اورtelcoسے آرہا ہے۔پورے ملک میں ساڑھے چارکروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور یہ تمام لوگ اگر ہر روز دس ویب سائٹس پر بھی چلے جاتے ہیں تو یہ 45کروڑسائٹس اور کوکیز ہوئیں۔ ان کا پروسیس کسیسافٹ ویئر کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کیلئے کانفیڈنس لیول 80فیصد درست ہونا ضروری ہے کیونکہ اس سے کم میں کام ممکن نہیں اور ایسا تبھی ممکن ہے جب ڈیٹا کو پرکھنےکی صلاحیت ہوگی۔ ہم نے اپنے ایک کلائنٹ کو ڈیجیٹل کمپین بنا کر دی مگر اس کی بائنگ ایجنسی اس کمپین کو ایگزیکیوٹ نہ کرسکی کیونکہ وہ ایڈ ورڈز میں ہی کام کر رہی تھی جبکہ ڈیجیٹل میں نتائج کیلئے یہ کافی نہیں۔اس کیلئےڈبل کلک بڈ منیجرDBMاہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں تین ایجنسیاں ڈبل کلک بڈ منیجرDBMاستعمال کر رہی ہیں جن میں سے ایک ہمارے پاس ہے۔ دیگر تمام ایجنسیاں ایڈورڈز میں کام کررہی ہیں۔ جو آڈینس میںDBMمیں ڈال کر حاصل کرسکتا ہوں وہ میں ایڈ ورڈز میں نہیں کرسکتا۔ ہم نےDBMمیں اپنی آڈینس بنائی ہے اور ہم وہ آڈینس حاصل کرتے ہیں جو ایڈورڈز میں نظر ہی نہیں آسکتی ہیں۔ہم بوب لیسرز کے ساتھ ایک ہیDSPپر آنے کا آپشن استعمال کرسکتے تھے لیکن ہم نے DMPحاصل کرنے کیلئےڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچ کئے تاکہ کلائنٹس کو ان کی مرضی کے نتائج دے سکیں۔ ہم نے ہی پاکستان میںDBMکا سیٹ اپ کرایا ورنہ تو پاکستان میں سیٹ اپ ہی نہیں تھا، ابھی بھی سپورٹ نہیں ہورہا ہے کیونکہ ابھی تو DBM میں انوینٹری ہی نہیں ہے جو خریدی جائے۔ اس انوینٹری کو سیٹ اپ کرنے کیلئے گوگل نے تھرڈ پارٹی اپوائنٹ کی ہے اورہم اس تھرڈ پارٹی کو ویب سائٹس بھی بتا رہے ہیں۔ آپ جس فیوچر کی بات کررہے ہیں تو ابھی تو لوگوں یہ بھی نہیں پتا کہ وہ فیوچر کیا ہے؟ اور ہم اس فیوچر کو پاکستان کیلئےتعمیر کررہے ہیں۔ آج سے تین سال کے بعد جو لوگ ایجنسیز میں بیٹھیں گے اور DBMمیں جاکر کام کریں گے تو ان کو بہت ساری انوینٹری دستیاب ہوگی ان کو نہیں پتا ہوگا کہ یہ انوینٹری کہاں سے آئی ؟ اس کا فائدہ پوری انڈسٹری کو ہوگا اور مجھے اس کی بڑی خوشی ہوگی۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں دنیا کے ہر آن بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوگا ، ڈیجیٹل میڈیا بڑی تیزی سے تشہیری دنیا میں داخل ہورہا ہے۔ دوسرا ایشو یہ ہے کہ ابھی ویب سائٹس ہی دستیاب نہیں ہیں، اردومواد دستیاب نہیں ہے۔ میں چاہتا تھاکہ 100دنوں میں 100ویب سائٹس رجسٹرڈ ہوں تو کم از کم آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاسDBM پر 100ویب سائٹس ہیں لیکن ان 100سےکچھ نہیں ہونامجھے2020 تک دس ہزار ویب سائٹس چاہئیں تبکام کا مزا آئے گا۔اردو کا موادنہ ہونا ایک بڑا ایشو ہے انگریزی کی آڈینس محدود ہے،جب تک اردومواد نہیں ڈالیں گےتو اس ملک کی 70فیصد آڈینس کو تو سمجھ میں ہی نہیں آئے گا۔ دوسرا ویب سائٹس موبائل پر استعمال کے حساب سےاپ ڈیٹ کریں کیونکہ ہمارےملک کا 70فیصد انٹرنیٹ ٹریفک موبائل پر ہے۔ جب میرے پاس اتنا سارا ڈیٹاآجائے گاتو مجھے ایک آرٹیفیشل انٹیلی جنس پلیٹ فارم چاہئے جو آڈینس کو امپریشن ڈیلیور کرے۔ہم امریکا کی سطح کا کام کر رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ وہ کام کیا ہے جو کسی دوسرے نے نہیںکیا اور آج ہمیں یہ پتا ہے کل ایجنسی کا مستقبل کیا ہے۔ 2018اس سے کہیں مختلف ہوگا جو کچھ آپ نے 2017ء میں دیکھا تھا۔ اب کیسے مختلف ہوگا اور کتنا مختلف ہوگا؟میں اس کے اگلے مرحلے پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔
ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مرچنٹ نے بتایا کہ اس وقت ڈیجیٹل پر کام کرنے کا جو مزہ آرہا ہے،و ہ پی این جی،کوکا کولاوغیرہ پر نہیں آرہا۔ ہم برائٹو پینٹس کے لئےبہت زبردست اورمزے کی کمپین کررہے ہیں،اسٹائلو شوز،نیشنل فوڈ کے لئے یعنی ہم گرائونڈ بریکنگ چیزیں کررہے ہیں اور یہ وہ کلائنٹس ہیں جو کہتے ہیں کہ آئیں کچھ نیا کریں۔ بطور بزنس لیڈر اور بزنس منیجر ہمارا کام اتنا واضح ہونا چاہئے کہ پتا ہو کہ ہو کیا رہا ہے اور انہی خطوط پر کمپنی کو چلنا چاہئے۔ برائٹو کو ہم نے 2010کے کرکٹ میںچلایا تھا ان کا بزنس سات سالوںمیں کئی گنا ہوچکا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب اور انڈسٹری میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالےسے سوال کے جواب میں انہوں نے گزشتہ 40برس کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ 1980سے 2000تک تقریباً بیس سال میں بہت بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کے حوالے سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں،موبائل فون آگیا،تیز رفتار جہاز بن گئے۔ 2000سے2017 تک کا دورانیہ اس ٹیکنالوجی کو ہر انڈسٹری کے لحاظ سے مربوط کرنے کا رہا اور یہ دور 2020 تک جاری رہے گا،یہ ساری تبدیلیاں مکمل ہوجانے کے بعد مشین کا کام شروع ہوجائے گا۔ پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن ، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسو سی ایشن کو اس وقت رہنما کردار ادا کرنا چاہیے ،ان آرگنائزیشنز کی قیادت ہر آن بدلتے تقاضوں کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی آگاہ ہے ،مرچنٹ نے زور دے کر کہا کہ ہم بدلتے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کریں ،ہمیں خود کو زمانے کا ہم رکاب بنانا ہوگابصورت دیگر اخبارات ہوں، الیکٹرانک میڈیا ہو یا دیگر ایڈورٹائزنگ کے شعبے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوں گے۔ حکومت کا بھی یہی رویہ ہےکہ وہ خود کوبدلتے وقت کے ساتھ بدلنا نہیں چاہتے جس کا سب سے زیادہ نقصان بھی خود حکومت کو ہی ہورہا ہے ۔
ڈیجیٹل کے موجودہ اور مستقبل قریب کے چیلنجز اور اردو مواد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انڈسٹری کہیں اور جارہی ہے، آپ کو ابھی اس کا اسکیل اس لئے نظر نہیں آرہا کہ دو سال کی کہانی ابھی باقی ہےاس کی بڑی سادہ وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ابھی بھی ڈیجیٹل کا مواد اردو میں دستیاب نہیں ہے۔ آپ اردو میں لے آئیں پھر نتائج دیکھیں۔ یوٹیوب کے ماہانہ وزیٹرز گوگل اور فیس بک سے اس لئے زیادہ ہیںکیونکہ یوٹیوب پر اردو کامواد دستیاب ہے۔ آپ اردو میں کوئی لفظ لکھتے ہیں وہ سرچ ہوجاتا ہے اور اس ویڈیو کے ٹیگز آجاتے ہیں جبکہ بڑے اردو اخبارات کی فائلز بھیPDFفارمیٹ میں ہیں،یہ ادارے اپنا اردوڈیٹا درست کرلیں تو ان کےپاس اتنا ٹریفک ہو کہ100فیصد منافع خودکماسکتے ہیں۔
ریحان علی مرچنٹ سےاس مختصر ملاقات نے سوچ کے ان گنت دریچے واکردیے اور یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر حکومت ، ایسو سی ایشنز اور انڈسٹری مشترکہ طور پر اس مشن کو اپنا لیں تو ہم کس قدر جلد اور تیزرفتاری سے ترقی کا ہدف حاصل کر سکتے ہیںساتھ ہی ریحان علی مرچنٹ کی شخصیت کا رتبہ و عزت دل میں کئی گنا بڑھ گئی کہ جس پودے کو سینچنےکی تمام تر محنت وہ تنہا کر رہے ہیں اس کا پھل پوری انڈسٹری کھائے گی جس کا لامحالہ فائدہ پاکستان کو ہوگا۔

متعلقہ خبریں