ڈاکٹر ہما بقائی

October 30, 2017 7:00 pm

خاتون سمجھدار،تعلیم یافتہ،دور اندیش،ذہین،وسیع القلب،وسیع النظراورمعاملہ فہم ہو تو دنیا جنت بن جاتی ہے،ایسی خاتون گاڑی کا دوسرا پہیہ نہیں،گاڑی کی ماہر ڈرائیور ہوتی ہے۔ وہ قدم اٹھاتی ہے تو خاندان چلتا ہے،رکتی ہے تو خاندان ٹھہر جاتا ہے، وہ ترقی کرتی ہے تو خاندان ہی نہیں معاشرہ ترقی کرتا ہے،وہ اپنے آپ کو منواتی،خود کو تسلیم کراتی،اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے،وہ باتیں کرتی ہے تو باتوں سے خوشبو آتی ہے،چلتی ہے تو زمین قدم چومتی ہے،اس کا ایک صرف ایک عمل اس کو بے پناہ احترام،محبت،پیار،عقید ت اور مرتبہ دے دیتا ہے اور وہ ہے اس کا جذبۂ قربانی۔ وہ اپنے گھر،اپنے خاندان،اپنے پیاروں،اپنے عزیزوں کیلئے اپنی خواہش،اپنی انا،اپنے خوابوں اور وقت کی قربانی دیتی ہے جو ایسی مقبول ہوتی ہے کہ تمام عمر خراج پاتی ہے اور پورا خاندان اس کی خواہشات کی تکمیل کرتا اور خوابوں کو تعبیر بخشتا ہے۔کیا چھوٹا،کیا بڑا،کیا شوہر اور کیا بچے سب اس کے اشاروں کے منتظر رہتے ہیں، ایسی بلندی کے عرش بھی شرمائے،ہمالیہ جھک کر اس کے قدم چومے۔
یہ کوئی خیالی یا افسانوی یا فرضی خاتون نہیں،عملی خاتون ہیں،اپنے گھر کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے کر اپنا تن،من،خواہشات،خواب،آرزوتمنا سب کچھ اپنے گھر کے لئے تج دیا ۔
رانجھا،رانجھا کردی میں آپ ای رنجھا ہوئی  وہ ہیں اور ان کا گھر اپنی ساری محبت،الفت،پیار اپنے شوہر اور بچوں پر نچھاور کردیا، جب شوہر”تابعدار“اور بچے”سمجھدار“ہوگئے تو اپنی تعلیم کا سلسلہ وہاں سے پھر جوڑ لیا جہاں سے ٹوٹا تھا،ٹوٹا کیا تھا وقفہ آگیا تھا،گاڑی رُکی ڈرائیورنگ پھر سنبھالی اور تعلیم،میڈیا اور سماجی شعبے میں خود کو اسی طرح منوایا جیسے گھر میں منوایا تھا،گھر اور معاشرے کے مشکل میدان میں خود کو کامیاب کرنے اور منوانے والی خاتون ہیں پروفیسر ہما بقائی
ڈاکٹر ہمابقائی 10سال سےآئی بی اے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈائریکٹر پبلک افیئرز کمیونیکیشنز ہیں۔وہ انٹر نیشنل ریلیشنز میں 12سال تک کراچی یونیورسٹی میں پڑھاتی رہی ہیں ۔اس کے علاوہ اور 15سال سے میڈیا پرسن ہیں۔ڈاکٹر ہمابقائی این آئی ایم ایس کے ایئر وار کالج میں بھی وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر شامل ہیں۔وہ کارپوریٹ ٹرینر کے طورپر بھی بے پناہ شہرت رکھتی ہیں۔ڈاکٹر ہمابقائی زمانہ طالب علمی ہی سے کچھ کر گذرنے کی جستجو رکھتی ہیں اور عملی زندگی میں آکر انھوں نے اپنی اس جستجو کو مختلف جہتیں دے کر تعلیم و تدریس، میڈیا اور خواتین کے حقوق ان میں شعور و بیداری لانے کی جدوجہد شروع کی، جو اب بھی جاری ہے۔ہمارے ہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ شادی ہوجانے کے بعد بیشتر باصلاحیت خواتین بھی گھربار کے معاملات میں الجھ کر ہمیشہ کے لیے اپنے درخشاں کیریئر سے دور ہوجاتی ہیں۔ اس طرح معاشرہ ایک کثیر الجہتی ٹیلنٹیڈ شخصیت سے محروم رہ جاتا ہے۔ڈاکٹر ہما بقائی نے بھی شادی کے بعد محدود عرصے کے لیے کیریئر سے بریک لے کر گھر اور بچوں کو سنبھالااور اس کے بعد ایک بار پھر انھوں نے اپنے کام کی جانب توجہ دی۔ ایسی خواتین اور ایسے عظیم کردار ہمارے معاشرے کے لیے نہ صرف رول ماڈل ہیںبلکہ خواتین اور بچیوں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔ڈاکٹر ہمابقائی کو ان کے کاموں اور کارناموں اعتراف میں کئی ایوارڈز اور اعزازات بھی ملے ہیں۔ وہ اب بھی اسی اسپرٹ سے اپنے مختلف شعبوں سے نبھارہی ہیں۔ہم نے ماہنامہ ’’انداز جہاں ‘‘ کے لیے گذشتہ دنوں ان کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کی، جس کے دوران انھوں نے تمام موضوعات پر کھل کر گفتگو کی، جس سے ان کی دانشمندی، علم و فضل اور چیزوں کو منفرد انداز سے دیکھنے کی صلاحیت آشکار ہوتی ہے۔ڈاکٹر ہمابقائی نے اپنی زندگی کے اوراق پلٹتے ہوئے بتایا:
’’ میں نے تعلیم کے بعد اپنا کیرئیر آٹھ سال کی تاخیر سے شروع کیاتھا۔یہ تاخیر میں نے شادی، گھر اور بچوں کو سمجھدار بنانے کے باعث کی تھی۔میں سمجھتی ہوں کہ میرے وہآٹھ سال قطعی ضایع نہیں گئے اور میں نے اس عرصے میں اپنے گھر اور بچوں کو جو ٹائم دیا، وہ آج میرے کام آرہاہے۔ اب میرے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔لیکن ان کی تعلیم و تربیت کے دوران بھی، میں گھر پر فارغ بیٹھی نہیں رہی۔۔۔ بلکہ میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی تھی۔اب 22سال بعدجب میں مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے اپنا وہ وقت بہت اچھا لگتا ہے ۔اب میرا بیٹاجاب کررہا ہے، وہ شادی بھی کرچکا ہے اور میں خدا کے فضل و کرم سے دادی بھی بن چکی ہوں ‘‘۔
ڈاکٹر صاحبہ ! آج کل کی بچیوں کے حوالے سے بتائیں کہ وہ کس طرح تعلیم، گھر اور بیرونی معاملات کو دیکھتی ہیں؟
’’کراچی یونیورسٹی یا دیگر تعلیمی اداروں میں مڈل کلاس کی جو بچیاں آتی ہیں، ان کا مسئلہ پہلے تعلیم حاصل کرنا اور پھر کوئی مناسب ملازمت کا حصول ہوتا ہے۔ایسی طالبات میں سےکبھی کبھی کوئی لڑکی ایک دم گھبرائی ہوئی میرے کمرے میں آتی اور ہانپتی ہوئی بتاتی تھی:’’ میڈم!میڈم! میری نا شادی کروارہے ہیں‘‘۔وہ یہ بات اس طرح بتاتی، جیسے خدانخواستہ اس پر کوئی ظلم ڈھایا جارہاہو۔ میں انہیں سمجھاتی تھی کہ گھبرائیں نہیں ،شادی کے بعد کیرئیر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اصل زندگی شادی کے بعد ہی شروع ہوتی ہے‘‘۔
ڈاکٹر ہما بقائی نے ایک سوال کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی عمومی صورتحال کیا ہے؟کے جواب میں کہا:
’’ ہمارے ہاں عورتوں نے کام بہت کرلیا ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میںخواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لیے ہمیں پورا پورا حصہ دیا جائے تاکہ ہم خواتین بھی کوری ڈور آف پاورز چلنا پھرنا شروع کریں۔ہمیں اپنے فیصلے اب خود کرنا ہیں ۔میں یہاں سوال پوچھتی ہوں کہ کیا وہ مرد جو اپنی بیوی کو گھر میں بٹھانا چاہتا ہے، کیا وہ اپنی بیٹی کو بھی گھر بیٹھائے گا ،جس کے کیریئرپر اس نے لاکھوں روپے خرچ کرکے تعلیم اور دوسری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ تمام مسائل عورت کی تعلیم سے ختم ہوجاتے ہیں اور عورت کو ان پڑھ رکھنے سے ہی تمام مسائل جڑے ہوئے ہیں۔اگر معاشرے میں تعلیم، رواداری، تحمل اور ترقی لانی ہے تو عورت کو تعلیم یافتہ بنایئے اور اسے تمام فیصلہ سازیوں میں حصہ دیجئے۔یہاں میں بتادوں کہ مجھے مردوں سے کوئی بھی ناراضگی نہیں ہے ۔کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ معاشرے کی تنگ نظری سے ہمارے مرد بھی مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ عورتوں کو گھر تک محدود رکھیں ۔میںیہاں معروف شاعرہ زہرہ نگاہ کی ایک نظم کا حوالہ دینا چاہتی ہوں،جس کا عنوان ’’ماں میں بچ گئی ‘‘ہے۔ ہمیں اپنی بچیوں کواس ’’ماں میں بچ گئی ‘‘کے سینڈروم سےنکالنا ہے ‘‘۔
آپ جوائنٹ فیملی سسٹم کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
’’ جوائنٹ فیملی سسٹم بہت غنیمت ہے ۔خاص طور پر باہر کام یا ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے یہ نظام ہمارے سماج کا بہت بڑا تحفہ ہےکیونکہ ایک خاتون جب اپنے دفتر جاتی ہے تو اس کے پیچھے اس کی ساس یا نندیں اور دیورانیاں اس کے بچوں کا خیال رکھتی ہیں، انہیں کھلاتی پلاتی ہیں۔وہ ملازمت پیشہ خاتون جب تھکی ہاری گھر آتی ہے تواسے بھی دو گھڑی آرام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ملازمت پیشہ خواتین کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جس بیٹے نے اپنی والدہ کو اپنے اسکول کی فیس دینے کے لئے لائن میں لگے دیکھا ہوگا یا جس بچے نے اپنی ماں کو بچوں کے لیے خریداری کرتے دیکھا ہوگا ،وہ گھر سے باہر نکلنے والی کسی بھی عورت کو کمتر سمجھے گا نہ اس کو کبھی غلط نظر سے دیکھے گا ۔اس تناظر میں، میں سمجھتی ہوں کہ جو مرد اپنی پڑھی لکھی خواتین کو گھر میں چھپا کر رکھتے ہیں ،وہ دراصل ان کی بے عزتی کرتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحبہ! یہ بتائیں کہ کراچی یونیورسٹی کا ماحول طالبات کے لیے کیساہے؟
’’میں کہتی ہوں کہ مڈل کلاس گھروں کی جو بچیاں پڑھنے کے لئے جامعہ کراچی اور دیگر ایسے اداروں میں آتی ہیں ، وہ اصل میں جہاد کررہی ہیں۔ کیوں کہ سب سے زیادہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کراچی یونیورسٹی میں ہوتے ہیں۔یہ واقعات کسی ایک دو بچیوں کے ساتھ نہیں بلکہ سیکڑوں لڑکیوں کے ساتھ ہوچکے ہیں اوراب بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن بہت کم بچیاں ایسی با ہمت ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو اپنے گھروالوں یا دوسروں تک پہنچاتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جامعات کے اندر طاقت ور لوگوں کا گٹھ جوڑ ہے جو لڑکیوں کو ہراساں کررہے ہیں اور ان کا استحصال بھی کررہے ہیں۔ اس کے لئے والدین، سوشل ورکرز،سول سوسائٹی اور میڈیا کو جہاد کرنا چاہئے ۔کیوں کہ جن بچیوں نے جائز شکایت بھی کی ہے توکیس الٹا ان کے گلے میں ڈال دیا گیا ۔متاثرہ بچیوں میں سے 80فیصد لڑکیاں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں اپنے گھر پر نہیں بتاتیں اور نتیجے میں سزا بھی ان کو ملتی ہے ۔‘‘
ڈاکٹر ہما بقائی نے ملک میں رائج دوہرے تعلیمی نظام کی مذمت کرتے ہوئے کہا :’’ ہمارے فیصلہ ساز آخرکس طرح ٹاٹ اسکول کے پڑھے ہوئے بچے اور گرامر اسکول کے طالب علم کا آپس میں ایک ہی معیار کا مقابلہ کروا تے ہیںاور اس مقابلے کے نتائج پر انھیں ملازمت دیتے ہیں؟ہمارا مطالبہ ہے کہ دیہی اور شہری طلبہ کے لیے مقابلے کے امتحانات، ان کی تعلیمی استعداد اور قابلیت کے مطابق الگ الگ منعقد کیے جائیں۔مجھے دکھ ہے کہ ہماری پاکستانی تعلیمی اسناد کی وقعت ، کاغذ کے اس ٹکڑے جتنی بھی نہیں ہے، جس پر وہ ڈگری چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ہم بحیثیت قوم اس غفلت کا نتیجہ بہت بری طرح بھگتیںگے۔ یہ ملک کی جنگ ہے جو ہمیں لڑنا ہے۔اور یہ بھی بتادوں کہ آج کل کی جنگیں روایتی نہیں ہوتیں۔یہ تعلیم ،معیشت،سیاست اور دانش کے میدان میں لڑی جارہی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں اصلی ایمرجنسی نافذ کریں اور خدا کے واسطے دشمن کے بچے کو پڑھانے کے بجائے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں‘‘۔
اس کامطلب ہے کہ ہماری سرکاری جامعات کی صورتحال ٹھیک نہیں؟
’’میں نے خودتنگ آکر کراچی یونیورسٹی چھوڑی تھی۔ وہاں بہت بڑے مسائل ہیں، جنہیں حل ہونا چاہئے۔ پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں کا ماحول اگر اچھا ہوجائے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی کیوں کہ نجی تعلیمی ادارے کتنے طلبہ کو کھپا سکتے ہیں ؟اس طرح اگر سرکاری ادارے بھی مہنگی تعلیم بیچیں گے تو مڈل کلاس کے بچے محروم رہ جائیں گے۔ صحت اورپانی کی طرح تعلیم بھی انسانی ضرورت ہے، اس لئے تعلیم کو قابل فروخت چیز یعنی Comodify نہ بنایا جائے ‘‘۔
آپ چونکہ میڈیا پرسن بھی ہیں اور آجکل ہمارے ہاں میڈیا کا طوطی ہی بول رہا ہے۔اس حوالے سے آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
’’ملک میں روایتی میڈیا نے قابل تعریف کردار ادا نہیں کیا ،اس لئے اب سوشل میڈیا بہت تیزی سے آگے آرہاہے۔نصف درجن سے زائد ایجوکیشنل گروپ میڈیا میں آگئے ہیں کیوں کہ وہ تعلیم سے کمائے ہوئے اربوں روپے کے منافع کو تحفظ دینا چاہتے ہیں ۔یہ میڈیا گروپ بزنس کے لحاظ سےنقصان میں جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں چلایا جارہاہے۔ حکومتی کنٹرول پی ٹی وی کی حد تک تھا، اب ہر چینل آزاد ہوچکا ہے ۔شام کو جب ہم پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ کون سا اینکر پرسن کون سی بات، کس وجہ سے کرے گا۔۔۔ اور کون کس کی زبان بول رہاہے؟ افسوناک صورتحال یہ ہے کہ میڈیا ریگیولیٹرز اور خود میڈیا اپنی تباہی آپ لارہاہے۔ لوگ اسے روکنے کے بجائے اس کا حصہ بن گئے ہیں۔ عوام اگر روکنے پر آئیں تو معاملہ بہتر کیا جاسکتا ہے یا پھر متبادل میڈیا کام کرسکتا ہے ۔سوشل میڈیا ہر کسی کو ایکسپوز کررہاہے۔جو خبر عام ہونے کا آج سے چند سال پہلے تصور بھی نہیں تھا ،وہ آج منٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتی ہے۔حالات اتنے خراب ہیں کہ ہمارے لوگ صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث مررہے ہیں ۔اگر گرمی ہو، تب بھی لوگ مرتے ہیں، سردی ہو ،تب بھی بیچارے مرجاتے ہیں اور جب بارش ہو ،تب بھی عام آدمی مرتا ہے۔ ان کے مقابلے میں ہمارے حکمران زکام کا علاج بھی لندن جاکر کراتے ہیں ۔میرا سوال ہے کہ حکمرانوں نے اپنے ملک میں ایک بھی اچھا اسپتال کیوں نہیں قائم کیا، جہاں ان کا اپنا علاج بھی ہوسکتاہو؟ ایسے ماحول میں عمران خان جیسے لوگوں سے کچھ امید نظر آتی ہے کیوں کہ انہوں نے جو نوجوانوں کی فورس جمع کی ہے ،وہ اگر پریشر گروپ کے طور پر کام کرے گی تو حکومت مجبور ہوکر عوامی بھلائی کی طرف متوجہ ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کو بھی سسٹم سے اچھے لوگ نہیں مل پائے۔ پیسے کی سیاست عمران کا بھی مسئلہ ہے لیکن انہوں نے کم سے کم ایسے سوالات اٹھا دیئے ہیں جو آسانی سے ختم نہیں ہوسکتے ۔نوجوان نسل کو سیاست میں اسٹیک ہولڈر کے طور پر شامل کیا جانا چاہئے‘‘۔
پہلے پڑھے لکھے لوگ سیاست میں آنے سے کتراتے تھے مگر اب پی ٹی آئی میں بیشتر پڑھے لکھے لوگ شامل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ اچھے اداروں کی پڑھی لکھی لڑکیاں بھی سیاست میں آرہی ہیں جو مفادات کی سیاست پر سوال اٹھا رہی ہیںمگربحیثیت قوم ہم گروی ہیں۔ میں ماہر معیشت نہیں ہوں لیکن مجھے پتہ ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمیں جوقرضے دیئے ہیں ،ان کی قیمت ہم ادا کریں گے اور ہمارے پاس ملک کی سالمیت سمیت ادائیگی کے لئے بہت کچھ ہے۔ نیوکلیئر ویپنز بنانے کی قیمت تو ہمیں لازما ادا کرنا ہوگی۔ اس حوالے سے بھی ہماری نوجوان نسل ہماری آخری امید ہے لیکن افسوس کہ ہم ان میں سرمایہ کاری نہیں کررہے ہیں۔ہمیں مہنگی یونیورسٹیاں بنانے کے بجائے ووکیشنل تعلیم کے ادارے قائم کرنا چاہئیں، جہاں غریب بچوں کو بھی ہنر سکھا کر پیٹ پالنے کے لائق بنایا جاسکے۔ میری زندگی کی بڑی خواہش ہے کہ اللہ مجھے تعلیم کے حوالے سے آزادی سے فیصلہ سازی کرنے کا موقع عطا کرے۔ یہ میرا خواب بھی میری خواہش بھی

متعلقہ خبریں