محسن شیخانی

Chairman ABAD
August 17, 2017 7:29 pm

کراچی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے بھی تیزی سے قائم ہوتی ہوئی کچی آبادیوں نے دنیا کے ایک سو بارہ ممالک سے زیادہ آبادی کے اس شہر کیلئے تباہ کن مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ حکومت سندھ کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے کراچی میں روزانہ 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ افراد آکر بستے ہیںجس کی وجہ سے شہر میں پانی ودیگر مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ یہ اعتراف حقیقت حال سے آگاہی کی حد تک تو درست ہے مگر سوال یہ ہے کہ حکومت اس صورتحال سے کس طرح ڈیل کر رہی ہے بظاہر کوئی ایسی پالیسیز نظر نہیں آتیں جن سے اس سنگین مسئلہ کی حکومتی توجہ ظاہر ہوتی ہو۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز آف پاکستان (آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی معروف بلڈر ابوبکر شیخانی کے صاحبزادے ہیں ، ان کا شمار ’’آباد‘‘ کی نوجوان قیادت میں کیا جاتا ہے اور انہوں نے بلڈرز ور ڈیویلپرز کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بہت جدوجہد کی ہے ۔ اس حوالے سے وہ اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں ، انہوں نے تعمیراتی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بہت زیادہ کاوشیں کی ہیں۔ محسن شیخانی حنا ہاؤسنگ پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ہیں اور انہوں نے متعدد بہترین رہائشی پروجیکٹس تعمیر کیے ہیں۔ روزنامہ جدت نے محسن شیخانی سے پاکستان میں کنسٹرکشن انڈسٹری اور ہائوسنگ کے مسائل پر خصوصی بات چیت کی جس کا احوال قارئین کی نذر ہے ۔

 

سب سے پہلے تو آباد ایکسپو کیلئے انٹرنیشنل ایکسپو کا اعزاز حاصل ہو نے پر مبارکباد، اس نمائش کا آئیڈیا اور کامیابی کے پیچھے کیا سوچ رہی اور ایکسپو 2017کتنی کامیاب رہی؟
شکریہ، 2000 سے پہلے کی دنیا اور آج میں زمیں آسمان کا فرق ہے ، تب گرائونڈ پلس فور کی عمارت ہائی رائز سمجھی جاتی تھی، ملک کی سب سے اونچی عمارت22منزلہ حبیب بنک پلازہ تھا، اب 40اور50منزلہ عمارتیں عام بن رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی تبدیل ہو گئی ہے زمانہ کے ساتھ چلنے کیلئے اس ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ۔ بین الاقوامی تجربات و ٹیکنالوجی کا حصول، تعمیراتی صنعت کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور لوگوں کیلئے معیاری اور سستی رہائش پیش کرنا آباد ایکسپو کی بنیاد رہا اور ان نمائشوں کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی کا حصول آباد کی کامیابی ہے ۔ انفرا اسٹرکچر کی ترقی اور معیاری رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ” آباد انٹرنیشنل ایکسپو 2017 ” کا انعقاد کیا گیا ہے ، 12 سے 14 اگست تک کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی ای نمائش میں 24ممالک سے 50 کمپنیاں شریک ہوئیں۔ تعمیرات کے اس عالمی میلے سے عالمی کمپنیوں کے ساتھ 5 سوارب روپے کے ایم او یو سائن ہوئے ۔جس کے نتیجے میں پاکستان کی تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا اور اس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے تعمیراتی شعبے سے وابستہ 6لاکھ افراد اس چوتھی آباد ایکسپو2017میں شرکت کی ۔یکسپو کے دوران کراچی میں لو کاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا افتتاح کیا گیاجس کے تحت 15 سے 21 لاکھ روپے میں معیاری گھر فراہم کیا جائے گا ۔کیونکہ اپنا گھر ہر شہری کا بنیاد ی حق ہے اور اپنا گھر رکھنے والے شہری ملک سے بھی محبت کرنے لگتے ہیں،اپنا گھر نہ ہونے سے ان میں مایوسی پائی جاتی ہے ،حکومت وقت کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو رہائشی سہولت فراہم کرے ۔ ہر پاکستانی کو گھر فراہم کرنا آباد کا خواب ہے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے آباد نے اسلام آباد میں لوکاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا اجرا کیا ہے جس کے تحت 15 سے 19 لاکھ روپے میں میں 5 مرلے پر مشتمل معیاری گھر فراہم کیا جائے گا۔چیئرمین آباد نے کہا کہ شہری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور شہروں کو ترقی دینے کے لیے ماسٹر پلان بنایا جائے ۔عوام کی بھرپور شرکت پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میںدو منزلہ سے زیادہ اونچی تعمیرات پر پابندی کو آباد کیسے دیکھتا ہے ؟
کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرات پر پابندی کے باعث کراچی میں کم از کم 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری رک گئی ہے ۔ پاکستان میں 12 ملین گھروں کی قلت ہے جن کی تعمیر پر180 ارب ڈالر لگیں گے یعنی یہ کم از کم مزید 180 ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے ۔ ملکی معشیت کی ترقی کا بیشتر انحصار تعمیراتی شعبے پر ہوتا ہے ، 72ے زائد صنعتیں کنسٹرکشن انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ بیسیوں لاکھ لوگ ان صنعتوں سے وانستہ ہیں لہذا یہ صرف ایک انڈسٹری کا نہیں بلکہ ان لاکھوں لوگوں کے گھروں کے چولہوں کا مسئلہ ہے ۔ سپریم کورٹ یقینا اس نکتہ پر بھی غور کر رہی ہوگی کہ کھربوں روپے کے ڈیویلپمنٹ چارجز جو بلڈرز سے وصول کیے جاتے ہیں کہاں جاتے ہیں؟ ایک ہزار گز کے کمرشل پلاٹ کے ڈیویلپمنٹ چارجز 4کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں تو اگر حکومت اتنا پیسہ لے کر بھی پانی و دیگر یوٹیلیٹیز نہیں دے سکتی تو ذمہ دار اسے ہونا چاہیے نہ کہ انڈسٹری تباہ کر دی جائے ۔ آباد اور اس ک ممبر بلڈرز خود اس صورتحال سے پریشان ہیں یہ تو مارے بھی اور رونے بھی نہ دے والی سچویشن ہے ۔ مستحکم معیشت کے حامل ممالک میں گھروں کی تعمیر کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ اپنے شہریوں کو معیاری اور کم لاگت رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے بلڈرز اور ڈیولپرز کو مراعاتی پیکج دیے جاتے ہیں۔لیکن یہ انتہائی افسوسنا ک امر ہے کہ پاکستان میں وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔پاکستان میں تعمیراتی صنعت کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ،،مراعاتی پیکج دینا تو دور کی بات تعمیراتی صنعت کی ترقی میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔SBCA, K-Electric اور KW&SB کے پالیسی ساز کون ہیں اور پالیسی سازی کیسے ہوتی ہے ، جب تک تعمیرات سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے طویل المدتی پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں مسائل حل نہیں ہوں گے ، ایڈہاک ازم نے سب کچھ تباہ کیا ہے ۔ پوش علاقوں پر عائد ٹیکسوں کا اطلاق پورے ملک پر کرکے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ تباہ کردی گئی،ایچ بی ایف سی کے قرضہ جات کو بھی سیاسی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، کم لاگت مکانات کیلئے زمین فراہم کی جائے ۔
پراپرٹی ویلیوایشن کے حوالے سے سرکاری پالیسیکس حد تک کامیاب رہی اور تعمیراتی صنعت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ؟
جائیداد کی فیئرمارکیٹ ویلیو کے حوالے سے نئے اقدامات عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائیداد کی فیئر مارکیٹ ویلیو اور حقیقی مارکیٹ ویلیو میں بہت زیادہ فرق تھا ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے اور یہ فرق گذشتہ 65 سال سے چلا آرہا ہے ۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ جائیداد کی خریدوفروخت حقیقی ویلیو کے مطابق ہونی چاہیے لیکن ان تمام اقدامات کو مرحلہ وار کرنے کی ضرورت ہے ایک دن میں آپ تمام چیزوں کو یکدم بدل نہیں سکتے ہیں ان میں بتدریج تبدیلی لائی جانی چاہیے ۔ حکومت نے دیکھا کہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ بہت اچھی جارہی ہے صرف ڈیفنس اور کلفٹن جیسے پوش رہائشی علاقوں کا تناسب صرف5 تا 7 فیصد ہے ۔ حکومت نے جو نئے ٹیکس مذکورہ پوش علاقوں پر عائد کئے انہی ٹیکسوں کا اطلاق پورے پاکستان پر بھی کردیا جس کی وجہ سے حکومت نے پورے ملک کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانی ، پاکستان میں پیسہ اس لیے بھیج رہے ہیں تھے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے حالات بتدریج خراب ہوتے جارہے ہیں ، دہشتگردی کی وجہ سے بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی کی عزت و تکریم میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور آنے والے وقتوں میں انہیں اپنے ملک میں آنا پڑے گا جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم افراد پیسہ اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ جن ممالک میں پاکستانی کام کررہے ہیں وہاں کے سخت قوانین کی وجہ انہیں یکمشت پیسہ بھیجنے میں پہلے ہی شدید پریشانی کا سامنا ہے ، اگر ان کو ہم اپنے ملک میں بھی ڈرا دیں گے کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا تو وہ بھاگ جائیں گے اور یقیناًدوسرے آپشنز پر غور کریں گے ۔ بالعموم پاکستان اور بالخصوص کراچی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا برا حال تھا کیونکہ یہاں اغوائ
برائے تاوان، بھتہ اور امن و امان کے مسائل عروج پر تھے ۔ آج سے دو سال قبل آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کی وجہ سے ملک بھر میں اور خصوصاً کراچی میں امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے ، جس میں حکومت کی پالیسیوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ بلکہ یہ فوج اور رینجرز کی وجہ سے ممکن ہوا یہی وجہ تھی کہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں بھی بہتری آئی لوگوں نے سکون کا سانس لیا ، لیکن حکومت نے مذکورہ نئے ٹیکسوں کا اطلاق کر کے لوگوں کو دوبارہ پریشانی میں مبتلا کردیا۔ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان سے سرمائے کا انخلائ
ہوا جو لوگ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے بیرون ملک ریئل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرنی شروع کردی جس کی وجہ سے وہاں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار مستحکم ہوا اور جائیدادوں کی ویلیو میں بھی واضح اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ دبئی اور یوکے میں پراپرٹی پر ٹیکسوں کا اطلاق 2 تا 5 فیصد کے تناسب سے کیا جاتا ہے جو یہاں پر عائد کردہ ٹیکسوں سے بہت زیادہ کم ہے اس لیے لوگ یو کے ، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں جائیدادیں خریدتے ہیں۔
کم آمدنی والے طبقہ کیلئے آباد کے پاس کیا ہے ؟
آبادکم آمدنی والے طبقے کو رہائشی سہولت دینے کے لیے آباد گذشتہ 4 برسوں سے کم لاگت گھروں کے لیے جدوجہد کررہا ہے ،لیکن نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں آباد کی مدد کی۔ اسلام آباد میں لو کاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا اجرا آباد کا نمایاں کارنامہ ہے جس کے تحت اپنا گھر نہ رکھنے والے اسلام آباد کے رہائشیوں کو 15 سے 19 لاکھ روپے میں 120 گز کا معیاری گھر فراہم کیا جائے گا۔آباد کراچی،پشاور اور لاہور میں بھی کم لاگت گھروں کے اسکیمیں شروع کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزارت ہائوسنگ اس سلسلے میں آباد کی کوئی مدد نہیں کررہی،آباد نے بارہا حکومت سے رعایتی اسکیموں کے لیے اراضی کے حصول ،انفرا اسٹرکچر کی فراہمی میں رعایت کی اپیلیں کی لیکن ان پر حکومت کی جانب سے کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب آباد نے سیلف سٹی طرز پر کا کا فیصلہ کیا ہے اور ان اسکیمزکے لیے آباد خود زمین خریدے گا۔
سیلف سٹی کی نوعیت اور خصوصیات کیا ہوں گی؟
جن یوٹیلیٹیز کی عدم فراہمی کے باعث ہمارا کسٹمر پریشان ہوتا ہے ان کیلئے اب ہم نے حکومت کی طرف نہ دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیلف سٹی میں پانی و بجلی کا بندوبست آباد اورپراجیکٹ بلڈرخود کرے گا ہم نے اس ضمن میں حکومت کو بہت سی تجاویز دیں مگر معاملات زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے لہذا ہم نے اب اپنے طور پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے جلد اچھی خبریں ملیں گی۔
عام آدمی کیلئے مکان بنانا آج کے دور میں انتہائی مشکل ہو گیا ہے ، ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اس ضمن میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے ؟
پالیسیوں میں عدم تسلسل نے ہر ادارے کا بیڑا غرق اور سرمایہ کاروں کا اعتماد تباہ کردیا ہے یہ صورتحال تب ہی بہتر ہوگی جب پالیسی سازوں کی ترجیح ملک اور یہاں کا غریب باشندہ ہوگا، رہائشی منصوبوں کو آسان قرضہ جات کی فراہمی کے لیے ہائوس بلڈنگ فنانس کمپنی کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید مالیاتی شعبے قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس تعمیراتی صنعت کو سہولتوں کی فراہمی مین مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔ ہائوسنگ فنانس انتہائی کم شرح سود پر آسان طریقہ کار سے ملنا چاہیے کیونکہ اصل ضمانت تو مکان ہوتا ہے ۔ آپ اس سے اتنے کاغذ مانگتے ہیں ، بھاری انٹرسٹ ریٹ لگاتے ہیں پھر بھی 10میں سے 2کیس منظور کرتے ہیں تو یہ حوصلہ افزا صورتحال نہیں۔
کم آمدنی والے طبقہ کے لئے آباد حکومت سے کیا چاہتا ہے ؟
ہم چاہتے ہیں کہ لوکاسٹ ہائوسنگ کے سلسلے میں آباد کی مدد کی جائے ، آباد کو اسکیم کے لیے مفت اراضی،انفرا اسٹرکچر فراہم کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کااپنا گھر ہونے کا خواب پورا ہوسکے ۔ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے نجی شعبوں با لخصوص تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا تو کجا الٹا اس کے راستے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں،کثیر المنزلہ عمارتوں کو گیس کنکشنز پر پابندی ہٹانے میں ہمیں کئی برس لگ گئے ، کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے آئے روز کثیرالمنزلہ عمارتوں کو پانی کنکشنز پر پابندی کا اعلان اب تو معمول بن گیا ہے ،کراچی میں پانی بحران پر واٹر کمیشن کو جان بوجھ کر غلط استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں معزز سپریم کورٹ نے کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرات پر پابندی لگادی ۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں سے بلڈرز کو کیا شکایات ہیں؟
وفاقی حکومت کے دہرے ویلیو ایشن کے نفاذ سے ملک کی تعمیراتی صنعت کو شدید نقصان ہورہا ہے ۔ اس دہرے نظام کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیوں میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث ڈیویلپرز کو 100 ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے تعمیر کردہ رہائش منصوبے ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اگر ویلیو ایشن کے اس دہرے نظام کو مؤخر نہ کیا گیا تو ایسوسی ایشن کے ممبران اپنا کاروبار بند کردیں گے اور ایف بی آر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ دوسری جانب ایس بی سی اے انفراسٹرکچر کے نام پر گذشتہ 3 سالوں سے بیٹرمنٹ چارجز وصول کررہا ہے جس کی مالیت اب تک 6 ارب روپے ہوچکی ہے لیکن ان چارجز کو کہیں بھی انفراسٹرکچر کیلئے استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ ڈیویلپرز اپنی رہائشی اسکیموں میں خود پیسے لگا کر یہ کام کررہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بیٹرمنٹ چارجز میں کئی گناہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے کئی تعمیراتی منصوبے التوائ
کا شکار ہوگئے ہیں۔ ڈی سی نظام میں بہتری لانے کے بعد اس کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے کراچی ، لاہور اور وفاقی چیمبر آف کامرس سے بھی رابطے کئے ہیں ۔ جب ویلیو ایشن کا یہ نیا نظام متعارف کروایا جارہا تھا ، ’’آباد‘‘ کے وفد نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی اور اس نظام کے نقائص کے بارے میں انہیں آگاہ کیا تھا ، ہم نے پہلے بھی اس نظام کی مخالفت کی تھی اور اب بھی اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ ایچ بی ایف سی کے قرضہ جات کو بھی سیاسی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو اس ادارے سے بلاامتیاز قرضے ملنے چاہئیں اور اس ادارے کو سیاست چمکانے کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ہماری انڈسٹری کے حوالے سے ہی ہے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے ۔ اپنے کاروبار کے حوالے سے ہمارا واسطہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے رہتا ہے ۔ ہمارا ان سے یہ اختلاف ہوتا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ وہ ایسی پالیسیاں متعارف کروائیں جن میں کرپشن کا عنصر غالب نہ ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ پورا پیٹ بھر کر کھارہے ہوں تو آپ ٹیکس دینے کے قابل ہونگے اور اگر آپ اپنا آدھا پیٹ بھر رہے ہوں تو پھر ٹیکس کیسے ادا کرسکتے ہیں۔ تعمیراتی صنعت دراصل ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن ہماری حکومت اس بات کو سمجھنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے بہتر مستقبل کیلئے تعمیراتی صنعت کو فری ہینڈ دیا جائے اس کے علاوہ کچی آبادیوں کو بڑھنے سے روکا جائے اور اس کی جگہ لوگوں کو فلیٹ اسکیم دی جائے اور اس حوالے سے باہمی مشاورت سے 50 تا 100 سال کا ماسٹر پلان مرتب کیا جائے ۔ کراچی ڈیویلپمٹ اتھارٹی نے ابتدائ
میں اچھی رہائشی اسکیمیں متعارف کروائیں یعنی ہر طبقے کے لیے رہائشی اسکیم متعارف کروائی اور بڑی منصوبہ بندی سے ان پر عملدرآمد کروایا جو ایک اچھی پیشرفت تھی اسی لیے آج سے 12 تا 18 سال قبل کچی آبادیوں کی تعداد صرف 17 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 50 فیصد ہوچکی ہے ان کچی آبادیوں کو سیاسی طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں تحفط دیا جاتا ہے اور ملک میں دہشتگردی کی جڑیں انہیں کچی آبادیوں میں پنپتی ہیں جن ممالک میں کچی بستیاں 70فیصد سے بڑھ جائیں تو وہاں خانہ جنگی کی صورتحال ہوجاتی ہے اس خطرناک صورتحال کا ادراک نہیں کیا جارہا۔ اگر بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ان کچی آبادیوں کو رہائشی اسکیموں میں تبدیل کردیا جائے تو امن و امان کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔
ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف پاکستان کے معاشی اقدامات تعریف کرتے ہیں اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
اگر کوئی ملک آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے مطابق چلتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں اُس ملک کا مفاد ہو نہ ہو لیکن آئی ایم ایف کا مفاد بہرحال ہوتا ہے ۔ لیکن بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے ملک یا گھر کو اپنے حساب سے چلانا ہے کسی اور کے حساب سے نہیں چلانا ہے ۔ آئی ایم ایف ایک طرح کا فنانسر ہے وہ ہمیشہ چاہے گا کہ اس کا پیسہ کس طرح محفوظ رہے ، اس کو اس سے غرص نہیں ہے کہ قرض لینے والے ملک کے مفاد میں کیا ہے ۔ میں یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن چیزوں کو دکھایا جاتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے ۔ میرے خیال میں بہت زیادہ شرح سود پر قرضے حاصل کیے جارہے ہیں ، جو ملکی مفاد میں نہیں۔ اس وقت ہم اپنے ملک کے اثاثہ جات کی گارنٹیاں دے رہے ہیں اور اداروں کو گروی رکھتے جارہے ہیں۔ اس طرح سی پیک بھی قرضے لے کر تعمیر کی جارہی ہے جس کو ہم نے واپس کرنا ہے ۔ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے انہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ قرضوں کا تمام پیسہ عوام کے ٹیکسوں سے ہی واپس کیا جاتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام معاشی و اقتصادی معاملات میں شفافیت اور وطن پرستی کا عنصر شامل ہونا چاہیے ۔

 

متعلقہ خبریں