حنیف گوہر

August 17, 2017 6:55 pm

آباد پاکستان کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر حالیہ دنوں ایف پی سی سی آئی میں آباد کی نمائندگی کررہے ہیں اور ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے آباد کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں‘ پچھلے سال آباد کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے ‘ انہوں نے اپنے دور میں آباد ایسوسی ایشن کی ترقی کے لئے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ محمد حنیف گوہر نے جدت کو اپنے دیے گئے انٹرویو میں بتایا کے آباد پاکستان میں جب بحیثیت چیئرمین منتخب ہوئے تو بے پناہ مسائل میں گھرا ہوا تھا‘ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی کی ضرورت تھی‘ مستعد طبیعت ہونے کے باعث سب سے پہلے آباد کے ضروری اور چیدہ چیدہ کاموں کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا‘ میرے دور میں ایکسپو آباد جو پاکستان کی کنسٹرکشن انڈسٹری کی سب سے بڑی نمائش ہے ‘ مجھ سے پہلے سالوں میں رہنے والے چیئرمین جنید تالو کی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے عدم توجہ کا شکار تھا‘ آباد ایسوسی ایشن کی جانب سے آباد ایکسپو میں تعطل پیدا ہوگیا۔
میں نے چیئرمین بنتے ہی اس تعطل کو نہ صرف ختم کیا بلکہ آباد پلیٹ فارم سے آباد ایکسپو نمائش کو کامیاب طریقے سے کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا‘ 2016کے آباد ایکسپو دھوم دھام سے منعقد کی گئی‘ اور آباد کے الائیڈ پینل کو یہ شرف ملا‘ اس دوران ہمارے چیف پیٹرن اور موجودہ چیئرمین محسن ابوبکر شیخانی نے بھی اپنی بھرپور کوششوں سے اس نمائش کو کامیاب کرنے میں میرا بھرپور ساتھ دیا‘ 2016کی نمائش میں بلڈرز برادری نے کامیاب نمائش کی‘ اعتراف میں مجھے بے حد عزت بخشی جس پر میں تمام بلڈرز اور الائیڈ انڈسٹریز سے متصل لوگوں کا اور الائیڈ پینل کا بے حد مشکور ہوں۔
محمد حنیف گوہر نے اپنے دور میں ہونے والے بڑے بڑے کارناموں کے بارے میں بتایا جہاں میں نے آباد ایکسپو ہی نہیں کرایا وہاں اس کے تعطل کو بھی توڑ دیا‘ جس کی بدولت آباد ایکسپو 2017کا انعقاد بخیرو خوبی انجام پارہا ہے ‘ میں نے کم لاگت کے گھروں کی اسکیم متعارف کرائی‘ ایمنسٹی اسکیم کو ایڈوائزری کمیٹی اور آباد میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی‘ کم لاگت اسکیم کو متعارف کرانے کے بعد ہمیں آباد ہائوس میں غریب اور متوسط طبقے کی جانب سے پچاس ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جو اس پروجیکٹ کی کامیابی کی دلیل ہے ‘ مستقبل قریب میں امید ہے کہ کم لاگت گھروں کی اسکیم سے متعلق پروجیکٹس کی انائوسمنٹ پر 5سے 10لاکھ درخواستیں موصول ہونے کی امید رکھتے ہیں‘ کم لاگت گھریلو اسکیم سے غریب اور متوسط طبقے با آسانی مستفید ہوسکیں گے ‘ بلکہ آباد کی جانب سے بھی ان کی بھرپور امداد کی جائے گی‘ اور ہر ممکن رعایت کو ممکن بنایا جائے گا‘ جب میں نے چیئرمین کی حیثیت سے آباد میں اپنے کام کا آغاز کیا تو بے پناہ مسائل کا سامنا تھا‘ خصوصی طور پر پروجیکٹس میں گیس کنکشنز اور بجلی کی پی ایم ٹیز کے مسائل زیادہ تھے ‘ اُس وقت میں نے اعلی حکام کے ساتھ صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مذاکرات کے ساتھ بلڈرز کے پروجیکٹس میں گیس کنکشنز اور بجلی کی فرامی کو بحال کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کیا‘ جس سے بلڈرز کے اندر احساس محرومی نے دم توڑ دیا اور انہوں نے نئی جہت کے ساتھ اپنا کام شروع کیا‘ اس بنیاد پر بجلی اور گیسکی عدم فراہمی کی وجہ سے لاکھوں الاٹیز کے مسائل نے جنم لے لیا تھا‘ یہ مسئلہ حل ہونے تک ان الاٹیز کو گھروں کے قبضے مل گئے اور انہوں نے آباد کے الائیڈ پینل کا شکریہ ادا کیا‘ آباد بلڈنگ کا ڈھانچہ اگر آپ ماضی میں دیکھتے تو یہاں پر بے تحاشہ کام کروانے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی‘ میں نے آباد ہائوس کو نئے سرے سے جدید خطوط پر استوار کیا‘ آباد ہائوس کو میڈیا سیل کے قیام کا خواب بھی میرے دور میں شروع ہوا‘ اللہ کے فضل و کرم سے بلڈرز اور الائیڈ انڈسٹریز کے بے پناہ اعتماد کی وجہ سے میں نے دن رات انتھک محبت آباد کی ترقی اور کامرانی کے لئے کام کیا‘ کیونکہ میں خود ایک بلڈر ہوں اور گوہر بلڈر اینڈ ڈیولپرز کے نام سے اپنے پروجیکٹس بھی کئی سالوں سے بنا رہا ہوں‘ لہٰذا مجھے پتہ تھا کے ایک بلڈر کو کن مسائل کا سامنا کر پڑ سکتا ہے اور وہ کن مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے ‘ میں نے اولین بنیادوں پر چیئرمین آباد بننے کے بعد ان کے نہ صرف مسائل کو حل کیا بلکہ ان کے جائز اور حل طلب مسائل کو فی الفور حل کیا‘ ہم نے الائیڈ پینل کے پلیٹ فارم پر رہتے ہوئے پروگریسیو پینل کے حفیظ الرحمن بٹ اور بابر مرزا چغتائی کے پینل کو شکست دی‘ آباد کو پہلی مرتبہ انٹر نیشنل آئی ایس او سرٹیفائیڈ کروایا‘ آباد ہائوس کے اندر مسجد کے قیام ‘ آباد ہائوس میں گارڈن کی تزئین و آرائش کرائی‘ آباد نے 17بلڈرز کو نمائندگی دلائی‘ جو کئی سالوں سے نمائندگی کے حصول کے لئے پریشان تھے ‘ ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے آباد کو سرگرم کرنے میں بھی بے پناہ کاوش کی‘ کیونکہ میں ایف پی سی سی آئی میں بے حد سرگرم رہا اور آج بھی ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے آباد کی نمائندگی کررہا ہوں‘ حنیف گوہر کے مطابق چائنہ کٹنگ کی مخالفت سب سے پہلے انہوں نے بطور چیئرمین آباد کی اور آباد کے ممبران کو چائنہ کٹنگ سے دور رہنے کی ہدایت کی‘ جبکہ چائنہ کٹنگ کے عناصر کو بے نقاب کرنے میں حکومت کا بے حد ساتھ دیا‘ آج جب کہ چائنہ کٹنگ کا قلعہ قمع ہوچکا ہے اور کئی ملوث کردار سزا کے مرتکب ہوچکے ہیں‘ بلڈرز انڈسٹری میں سب سے زیادہ کڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دار اپنے آپ کو آباد کا ممبر بن جانے کے بعد بے حد محفوظ تصور کرتا ہے ‘ کیونکہ آباد پلیٹ فارم اپنے ہر ممبر کو آسانی فراہم کرتا ہے ‘ اور ان کے لئے دن رات کوشاں رہتا ہے ۔

 

متعلقہ خبریں