بابر مرزا چغتائی

Association of Builders and Developers
August 17, 2017 6:24 pm

فرحان فیصل ۨ
کراچی سونے کی چڑیا، کراچی اے ٹی ایم، کراچی امیروں کی تجوری، کراچی غریبوں کی ماں، کراچی کو جس طرح تباہ کیا گیا اس کی مثال ایک ہونہاربہترین آئی کیو والے نوجوان کی ہیروئن کی لت کے ہاتھوں تباہی سے دی جا سکتی ہے۔رہبر و رہنما، سیاستدان و بیوروکریٹس، سادہ و ملبوس غرض ہر طاقتور کراچی سے اپنا قصاص لیتا رہا یہ جانے بغیر کہ یہ مفاد پرستوں کیلئے ایک بہترین کھیتی تیار ہو رہی ہے اور بعد میں یہ خدشہ سچ بھی ثابت ہوا ۔ہزاروں لوگوں کی خوں ریزی، خوف کا ماحول، لوٹ مار و بھتہ خوری اس کھیتی کو استعمال کر کے ہی کی گئی مگر کراچی پھر بھی غریبوں کی ماں رہا ،بدترین حالت کے باوجود کراچی کی جانب ملک بھر سے لوگوں کی آمد جاری رہی ، ایک کروڑ کا شہر گزرتے برسوں میں تین کروڑ سے تجاوز کرگیا، جب پورا شہر ہی مخصوص مفادات کے تحت چلایا جا رہا ہو تو کیسی پلاننگ اور منصوبہ بندی، نتیجہ بے ہنگم تعمیرات، انفرا اسٹرکچر تباہ،معمول کی دفتر و اسکول آمد ورفت بھی محال، ہنگامی حالات میں پورے سسٹم کا بیٹھ جانا ۔ اس صورتحال کا مطلب ایک مشکل زندگی ہے جو کراچی والے گزارتے ہیں۔ حکومت ہو یا بلڈرز کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ۔ بلڈرز کہتے ہیں کہ کھربوں روپے مختلف قسم کے آئوٹر اور انر ڈیویلپمنٹ چارجز دینے کے بعد بلڈر نے اپنے حصہ کا کام کر لیا اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پانی، بجلی، گیس ، سڑک سمیت تمام سہولیات دےکیونکہ ان چارجز کا مقصد یہی ہے، حکومت بلڈرز پر وائیلیشن اور چارجز دیر سے ادا کرنے کا الزام لگاتی ہے مگرحکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ حکومت کا کام جواز دینا نہیں مسئلہ حل کرنا ہوتا ہے۔ قصوروار جو بھی ہو اس کی حتمی سزا کراچی کے باسیوں کو مل رہی ہے اور کب تک ملے گی کوئی نہیں جانتا کیونکہ اس سے زیادہ اہم معاملات پائپ لائن میں ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگ آج بھی اس شہر کے مکینوں کےلئے سر تا پا جدوجہد بنے ہوئے ہیں، اس راہ پر خار میں ان کے پیر لہو بھی ہوئے ، دامن پر داغ بھی لگے ، عزت کو نشانہ بھی بنایا گیا مگر عزم مسلسل کامیابی کا سبب رہا ۔ یوں توبا بر مرزا چغتا ئی نامور بلڈر ہیں ، آباد کے 6برس چیئرمین رہے مگر خیالات کے باغی ہیں اپنی بلڈرز برادری کو بھی بہت سی خامیوں اور شہر کی موجودہ حالت کا ایک ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسی طرح برستے ہیں جیسے حکومت اور سرکاری اداروں پر۔ بابر مرزا چغتائی کنسٹرکشن انڈسٹری میں ترقی کا ایک استعارہ ہیں، آپ کی اس شعبے میں گرا ں قدر خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیںہیں بلکہ اس شعبے سے وابستہ افرادان کی خداداد صلاحیتوں ، لیاقت اور تجر بات سے بر سہابر س سے مستفید ہو رہے ہیں ۔بات جب بھی تعمیر اتی صنعت کی ہو گی تو یہ ممکن نہیں کہ اس میں با بر چغتا ئی کا ذکر نہ آئے اور یہ سلسلہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان سے ہونے والی نشست کا احوال قارئین کی نظر ہے۔
شہر کی موجودہ حالت پر آپ کی کیا رائے ہے اور اس کا بلڈر کس حدتک ذمہ دار ہے؟
جب کوئی عمارت بنتی ہے تو اس سے پہلے ایک طویل پروسیجر ہوتا ہے، نقشہ سے کنکشن تک بیسیوں مرحلے ہوتے ہیں، اجازت نامہ کے بغیر کوئی تعمیراتی کام شروع نہیں ہوتا۔جب یہ سارے مراحل طے ہو جاتے ہیں اربوں کھربوں روپے کے آئوٹر اور انر ڈیولپمنٹ چارجز حکومت ہم سے جمع کر لیتی ہے،واٹر، بجلی، گیس کے کنکشن چارجز ادا کردیے جاتے ہیں تب بلڈر ان معاملات سے آزاد ہو جاتا ہے کہ اس کا انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ میں یہ ہی کردار تھا۔ اگر نقشہ غلط تھا تو منظور کیوں کیا، آپ کا ماسٹر پلان کہاں ہے ؟اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیاگیا ہے۔ اگلے دس سال بیس سال کی منصوبہ بندی کہاں ہے؟ حکومت ہمارے ڈیولپمنٹ چارجز سے تنخواہیں اور اللے تللے کرتی ہے تو اس کا چیک بلڈر کے پاس کب ہے؟انفرا اسٹرکچر پر پیسہ نہیں لگتا۔ سب لوٹ مار چل رہی ہے ، بلڈر سرکاری اور غیر سرکاری پیسے بھرتے بھرتے پریشان ہو چکا ہے، اب بہت سے بلڈر دوسرے شہروں میں کام کر رہے ہیں۔
مگر بلڈر پر نقشہ و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام تو لگتا ہے ، کیا یہ بھی صحیح نہیں؟
اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا نہیں ہوتا اور میں اسے بلڈرز کی زیادتی سمجھتا ہوں مگر اس کے ساتھ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ وائیلیشن کو روکنا کس کا کام ہے؟ 20 فیصد وا ئیلیشن کی گنجائش قانون میں موجود ہے اس سے زیادہ کی وائیلیشن کو لیگلائز کون کرتا ہے ۔ ادارے اگر خود کام نہ کریں اور اس کا الزام بلڈر کو دیں تو یہ کوئی جواز نہیں ہے ۔ میں بلڈرز پر بھی زور دیتا ہوں کہ کوالٹی کا کام کریںکیونکہ اس سے ہی ان کا نام اور ساکھ ہوگی۔
سپریم کورٹ نے واٹر کمیشن کی رپورٹ پر دو منزلہ سے زیادہ اونچی تعمیرات پر پابندی عائد کر رکھی ہے ، کنسٹرکشن انڈسٹری اس پابندی کو کیسے دیکھتی ہے؟
اس پابندی کا جواز قا بل فہم نہیں کیونکہ اگر پانی کی کمی ہے تو ہائی رائز بلڈنگز کا اس سے کیا تعلق، بلڈنگ کون سا پانی پیتی ہے، پانی تو انسان پیتے ہیں جو لوگ ہائی رائز میں نہیں رہتے تو وہ کہیں نہ کہیں تو رہتے ہیں تو پانی کا استعمال تو وہی ہے اور میں یہ بھی ماننے کو تیار نہیں کہ کراچی میں پانی کی کوئی کمی ہے ، یہ سارا کرپشن اور مس مینجمنٹ کا چکر ہے ، ہر علاقے میں ٹینکر مافیا کا راج ہے ، ان کو پانی کون دے رہا ہے؟ واٹر بورڈ کے افسران و اہلکاروں کی ملی بھگت سے پانی کا مصنوعی بحران کھڑا کیا گیا ہے اگر درست مینجمنٹ ہوتو پورے شہر میں پانی کی فراہمی با آسانی ممکن ہو سکتی ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کی دکان بند ہو جائے گی اس لئے ایسا نہیں ہونے دیا جاتا، پانی نہیں ہے تو ٹینکر مافیا کو پانی کہاں سے ملتا ہے، اس میں واٹر بورڈ ، وزرا، حکومتی عہدیدار اور دیگر متعلقہ ادارے سب شامل ہیں ، 3کروڑ آبادی کے اس شہر میں روزانہ پانی کے نام پر یہ مافیا جو لوٹ مار کر رہی ہے اس کی مالیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ، یہ ملٹی ملین ڈالر انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ لوٹ مار کا کلچر جب تک تبدیل نہیں ہو گا معاملات بہتری کی طرف مشکل جائیں گے۔واٹر بورڈ 70 برس میں پانی کی ڈسٹری بیوشن کا نظام نہیں بنا سکی۔ آپ K-4بھی لے آئیں تو گھروں تک پانی کیسے پہنچائیں گے، لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ پانی ضائع ہو رہا ہے چوری ہورہا ہے اس کا ذمہ دار بھی بلڈر ہوگیا ہے۔
KESCکی پرائیویٹائزیشن کے بعدK-Electric کے قیام سے سروس بہتر ہونے کی امید تھی ،کیا بلڈرزکی پریشانیاں کچھ کم ہوئیں ؟
قطعی نہیں ، K-Electric تو چند لوگوں کو نوازنے اور باقی قوم کو پریشان کرنے کا دھندا ہے، ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ کنکشن کے لئے ، پی ایم ٹی کے لئے بھاری فیسیں اور رشوت لی جاتی ہے اور پھر اس پی ایم ٹی سے مزید کنکشن بھی دیے جاتے ہیں ، یہ وہی مثال ہے کہ میں دو کلو دودھ لگائوں تو دودھ والا مجھے کہے کہ اس کو دودھ کا ڈبہ بھی خرید کر دوں ۔ پھر سیلف فنانس کے تحت کے الیکٹرک کے ٹھیکیداروں سے ہی آلات و دیگر اشیا خریدنی پڑتی ہیں جو ایک روپے کی چیز چار روپے کی دیتا ہے۔ اس ساری کارروائی کو حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ آباد ایک پلیٹ فارم ہے اپنی سی ساری کوشش کرتے ہیں مگر یہ مافیا بہت طاقتور ہے اور اربوں کھربوں کی لوٹ مار جاری ہے، یہ تو وزیر اعلی گورنر کی نہیں سنتے نہ میٹنگ پر آتے ہیں۔ جب تک طاقتور کو سزا نہیں ملے گی مایوسی پھیلتی رہے گی۔
شہر میں چائنہ کٹنگ کا بڑا شہرہ رہا ، بلڈرز اس کام میں کس حد ملوث رہے؟
میں چیلنج کرتا ہوں کہ پورے شہر میں ایک بھی پراجیکٹ دکھا دیں جو چائنہ کٹنگ کی زمین پر بنا ہو، یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ ایسی زمین کا نقشہ یا اپروول ہو ہی نہیں سکتا، چائنہ کٹنگ تو سرکاری سطح پر ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ شہر کے اندر بھی اور شہر کے باہر بھی ہزاروں ایکڑ کٹنگ کی نظر ہوگئی۔ اب کراچی سے حیدرآباد تک کوئی زمین نہیں بچی۔ اس میں سب ملوث ہیں۔ میں چائنہ کٹنگ کے خلاف کب سے بول رہا ہوں جو آواز بلند کرتا ہے اس کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا ہے تو ہر سطح پر ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔40برس تک اس شہر کی نمائندگی رکھنے والوں نے اس شہر کے ساتھ کیا کیا ، کون سا مسئلہ حل کیا، تعلیم، صحت یا اسمال انڈسٹریز کے لئے کیا کیا، نوجوانوں کو کیا ماحول دیا ، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں بنایا ۔ شہر کا وہ حال ہو گیا کہ پہلے بلڈر دبئی بھاگااب اسلام آباد و لاہور میں پراجیکٹس بنا رہا ہے۔
کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کے معاملات سے بلڈرز سب سے زیادہ پریشان رہتے ہیں ، آپ ان مسائل کا حل کن اقدامات کو سمجھتے ہیں؟
سندھ بلڈنگ کنٹرول ہو یا کے ڈی اے یا کوئی اور سرکاری ادارہ ، معاملات کرپشن کے گرد ہی گھومتے ہیں، بلڈرز کی فائل پر کاردکردگی اور نتائج بھی افسران کی مرضی پر منحصر ہوتے ہیں، جیسے ٹریفک والا گاڑی روک لے تو چالان کی کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈ یا بنا ہی لیتا ہے اسی طرح نقشہ سے لے کر یوٹیلیٹی کنکشنز تک سارے مراحل مختلف مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں اگر مروجہ طریقہ کار کو مدنظر نہ رکھا جائے تو۔ کوئی بھی کاروباری شخص خواہ کسی بھی کاروبار سے اس کا تعلق ہو اپنی فائلیں غیر معینہ مدت تک رکنا برداشت نہیں کرسکتا اور یہ حقیقت ادارے بھی جانتے ہیںاور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اداروں میں نااہل افراد کی سیاسی بنیادوں پر بھرتی نے پورا نظام تباہ کر دیا ہے۔ نیچے سے اوپر تک سب صرف پیسہ بنانے کیلئے بٹھائے گئے ہیں ۔ کبھی یہ سوچا گیا کہ گزشتہ 10برس میں اسکروٹنی فیس اور ڈیویلپمنٹ چارجز کتنے گنا بڑھ ا دیے گئے ہیں ۔ اس کا برہ راست اثر پراپرٹی کی قیمتوں پر پڑا ۔ بلڈرز پر وائیلیشن کا الزام لگانے والے یہ کب سوچیں گے کہ اس کو وائیلیشن پر مجبور کون کرتا ہے۔ اندھا دھند اور من چاہی رشوتیں وصول کرنے والے SBCA اور KDAکے افسران ہی بلڈر کو اس پر مجبور کرتے ہیں۔ جب کسی عمارت کو ڈیمولش ہوتے دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے یہ قومی سرمایہ ہوتا ہے جس آپ تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب بلڈنگ بن رہی ہوتی ہے تو SBCAکہاں ہوتی ہے۔ تب تو ان کے اہلکار افسران کے نام پر رشوت سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ انفرا اسٹرکچر پر پیسہ نہیں لگاتے، دیویلپمنٹ چارجز کی مد میں آنے والے کھربوں روپے کہاں جا رہے ہیں؟ ایک لاکھ اسکوائر فٹ کی اسکروٹنی فیس 50لاکھ تک پہنچا دی ہے جبکہ درجنوں مزید فیسز اور چارجز الگ ہیں۔ کوئی بلڈر اگر نقشہ کے بغیر بلڈنگ بنا تا ہے تو اس کو قصور وار کہا جا سکتا ہے مگر یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔ جب تک سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ختم کر کے اہل لوگوں کو میرٹ پر نہیں لائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ایسو سی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے زیر اہتمام آباد ایکسپو ایک تسلسل سے منعقد کی جا رہی ہے، آپ اس ایونٹ کو کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے کس طرح فائدہ مند دیکھتے ہیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ آباد ایکسپو سے بہت سارے فوائد حاصل ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی ہوں گے، نمائش میں غیر ملکی اداروں اور افراد سے پاکستا ن کا عالمی سطح پر ایک مثبت امیج ابھر ے گا ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں اس سے حکومتی سطح پر تعمیراتی سیکٹر کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور اس شعبے کی سرگرمیوں میں ندرت اور جدت آئے گی ۔چو نکہ تعمیراتی سیکٹر جسے ہم مد ر آف انڈسٹریز بھی کہتے ہیں یہ 60 سے زائد دیگر شعبوں کا احاطہ بھی کرتی ہے مثلا ً سنیٹری ، ٹائلز، سیمنٹ ،لکٹر ی کی صنعت ،کلر ، فرنیچر وغیرہ وغیر ہ جس کے ذریعے روزگار کے وسیع مواقع میسر آتے ہیں۔ نمائش میں غیر ملکی ماہرین اور مقامی تعمیر ات کے مابین ملاقاتیں اور خیالات کے تبادلے سے ہم ایک دوسرے سے فائد ہ اٹھارہے ہیں جس کے نتیجے میں نت نئے تعمیراتی منصوبوں کی نئی راہیں کھلتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آباد یکسپو 2016ء کی طرح 2017 کا ایونٹ بھی بہت کامیاب رہے گااور اس سے تعمیر ات کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری بھی پاکستا ن میں آئے گی۔ میں اس موقع پر ہر حکومت سے بھی بھر پور تعاون کی امید رکھتاہوں زراعت کے بعد تعمیراتی سیکٹر دوسرا اہم شعبہ ہے جو بے روزگار ی کی شرح کم کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکتا ہے ۔
کنسٹرکشن انڈسٹری کو صنعت کادرجہ دینے سے لے کر حکومتی پالیسیوں میں کس نوعیت کے اقدامات کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے فائدہ مند ہو سکتے ہیں؟
وفاقی اور صوبائی حکومت کی الگ الگ اور متضاد پالیساں اسے صنعت کا درجہ دینے میں خود سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔اسے تعمیراتی صنعت کا درجہ دینے کی کاغذی باتیں اور سہو لیات دینے کے محض دعوے کرنے اور وعدے سے کرنے سے کام نہیں چل سکتا۔ معاملہ یہ ہے کہ معاملات کو سرخ فیتے کی نذر کرنے والی بیور کریسی کا رویہ جب تک تبدیل نہیں ہوگا تب تک بات نہیں بنے گی ۔حکومتی پالیسوں کا معاملہ یہ ہے کہ ہر سال تبدیل ہو جاتی ہیں جس سے غیر یقینی صورتحال کا پیدا ہونا ایک فطر ی عمل ہے یہ ایسی صورتحال ہے جس میں رہ کر کوئی بھی بلڈر غیر یقینی کا شکار رہتا ہے اور حکومتی پالیسی کے بارے میں اعتماد نہیں رکھ سکتا جس کی وجہ سے سرمایہ کا ری کرنے کا معاملہ رسک لینے والی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اداروں میں آج بھی سیاسی اثر ورسوخ جار ی ہے اورخوش آمد یوں کی بھر مار ہے۔ میر ٹ کو برقرار رکھنے کی روش تقریبا ختم ہو چکی ہے افسران کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح سیاسی فیکٹر سے ملتے ہیں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لئے بجلی گیس اور پانی کے کنکشن بنیادی لوازمات ہیں ان کے بغیر کوئی بھی منصو بہ مکمل نہیں ہو سکتا ۔ تو بنیادی بات یہ ہے کہ معاملات کو شفاف اور واضح کرنا ہوگا ورنہ یہ صورتحال بہت عرصہ نہیں چل سکتی۔
سندھ میں سالانہ قریبا 100پراجیکٹ لانچ ہوتے ہیں جن میں سے 85 کراچی میں ہوتے ہیں کیا یہ اس شہر کے انفرا اسٹرکچر اوروسائل کے ساتھ زیادتی نہیں؟
کراچی اور حیدرآباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کا شدید دبائو ہے ملک کے مختلف حصوں سے یہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جو یہاں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ لازمی بات ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں مکانا ت کی ضرورت ہے اور وہ کیسے پوری کی جائیگی، ٹیکسز کی بھر ماراور وسائل کی عدم فراہمی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک ممکن نظرنہیں آتا اور اس صوتحال کو حوصلہ افزاء قرار نہیں دے سکتے ۔ چھوٹے شہروں میں روزگار کے مواقع پیدا کر کے آبادی کے دبائو کو روکا جاسکتا ہے ۔ زراعت کو صنعت کی حیثیت دینا ہوگی، کراچی پاکستان کا حصہ ہے ، اس سے باہر نہیں ، یہاں پورے ملک سے لوگ آتے ہیں، ہر صوبہ کے ارکان اسمبلی ، وزرا اور اعلی عہدیداروں کے گھر یہاں ہیں میں یہ کہتا ہوں کہ جب یہاں کے وسائل استعمال کرتے ہیں تو یہاں کیلئے آواز بھی اٹھائیں۔ میں کراچی سے نہیں ہوں مگر اب یہ میرا اور میرے بچوں کا شہر ہے اس لئے میں یہاں کی سہولتوں کیلئے آواز اٹھاتا ہوں اور ایسا کرتا رہوں گا۔
جائداد کی خرید و فروخت اور ان کے کمرشلائزڈ پر لاگو حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے دہرے ٹیکسز کا نظا م جو خصوصا ً آپ کے شعبہ تعمیرات کے حوالے سے ہے اسے آپ کیسا دیکھتے ہیں؟
جہاں تک ٹیکسز کے موجودہ نظام کی بات ہے تو میں اسے ظالمانہ سمجھتا ہوں ۔اس نظام میں بہت اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ یہ قابل عمل ہو سکے ۔یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ بھار ی قرضے معاف کروانے والے آج قوم سے ٹیکس وصولی کے قوانین بنا رہے ہوں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ60 کروڑ روپے کے بڑے قرضے معاف کروانے والوں پر نیب ہاتھ کیوں نہیں ڈالتا جبکہ ایک کروڑ کے نادہند ہ کو پکڑ ا جاتا ہے لیکن 60کروڑکے قرضے معاف کروانے والوںکو کو ئی نہیں پوچھتا یہ صورتحال قطعی طورپر غیر منصفانہ اور قومی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس کا تدارک ہونا چاہئے۔ جہاں تک تعمیر اتی صنعت کی بات ہے صوبائی اور وفاقی ٹیکسز کے شکنجے میں جکڑ ی ہوئی تعمیراتی سمیت تعمیراتی صنعت سمیت ملکی معیشت کو تبا ہ کردے گی اور سچی بات تو یہ ہے کہ لو گ اس پالیسی سے خوفزدہ ہو کر بھاگ رہے ہیں کسی بھی تعمیراتی شعبے کے ساڑھے بار ہ فیصد بلڈر ز جی ایس ٹی جمع کرواتے ہیں جو اپنے الا ٹیز سے نہیں لیتے اس کے بعد پلا ٹ کمر شل کرنے کی بھی فیس 60سے70فیصد چوڑائی والے پلاٹ پر 80لاکھ روپے فیس وصول کی جاتی ہے ان ادائیگیوں کے باوجود انفرسٹرکچرناپید ہو تا ہے اور انفراسٹرکچر کے بغیر یعنی بجلی پانی سڑک کے بغیر کوئی تعمیر اتی منصوبہ تیار رنہیں کیا جاسکتا جبکہ پرو جیکٹ کے لئے بجلی کی فراہمی کے لئے پی ایم ٹی نصب کر انا بھی بلڈر ز کی ذمہ د اری ہے ،اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والا دہر اٹیکس نظام سے تعمیراتی صنعت کا بھٹہ بیٹھ جائیگا۔ صوبائی ٹیکسز کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسز موت سے ڈرا کر بخار دینے والی بات ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ارباب اختیار کی نظر میں تعمیرا تی صنعت اس وقت غریب کی گا ئے بن کر رہ گئی ہے جس کوچارے کا بند وبست تو بلڈرکرتا ہے اور اس کا دودھ ٹیکس کی صورت میں حکومت لے جاتی ہے یہ ہی وہ تکلیف دہ صورتحال ہے جس کے نتیجے میں کئی بلڈر ز بیرون ملک رخصت ہوگئے ہیں اورکئی پر تول رہے ہیں۔ ون کیٹیگری کے پلاٹ پر صوبا ئی حکومت 40ہزار روپے اسکو ائر فٹ جبکہ وفاقی حکومت ایک لاکھ روپے ٹیکس کی شکل میں لے رہی ہے ، پرو جیکٹ کے آغاز سے قبل 75روپے فی فٹ ایڈوانس ٹیکس کی شکل میں ادا کرنے کی شرط اہم ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس ریفنڈ ایبل نہیں ہے اب اگر کسی وجہ سے پرو جیکٹ ختم ہو جاتاہے یا تیار نہیں ہو پاتا تو آپ کا ایڈوانس ٹیکس ضائع ہوجا تا یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی بلڈروفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے لاگو کردہ دہرے بھاری ٹیکسز ادا کر کے بلڈر کوئی کمرشل پلاٹ خرید کر اپنے پر وجیکٹ کا آغاز کرکے ایڈوانس ٹیکس بھی ادا کردیتا ہے تو دوسرے دن ٹیکس ریکور ی ٹیم اس کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ بلڈر کو جکڑ دینے کا ایک منظم اور غیر منصفانہ منصوبہ ہے۔ پر وجیکٹ کی تعمیر کے لئے ہا ئوس پلاننگ فنانس کارپوریشن HBFکی اپنی پالیسی ہے وہ قرضے دینے یا نہ دینے کے معاملے میں آزاد ہیں جبکہ کمرشل بینک تعمیر اتی صنعت کے لئے قرضے نہیں دیتے اب آپ اندازہ لگا ئیں کہ ایسی صورتحال میں بلڈر کیا کرے؟وہ بند گلی میں کھڑ ا ہے پر فیشنلز اور بلڈرز پر اپرٹی کا دہر نظام تعمیرا تی صنعت کو بر باد کر کے رکھ دیگا ۔میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اور وفاقی حکومت دونوں ملکی اہم ترین تعمیراتی صنعت کو زیادہ سے زیادہ ترجیحات دیں کیونکہ تعمیراتی صنعت واحد شعبہ نہیں بلکہ اس سے وابستہ دیگر 62صنعتوں کا بھی مستقبل اس سے وابستہ ہے ۔اگر یہ صنعت تباہ ہوئی تودیگر الائڈ انڈسٹریز اور ان سے وابستہ صنعتکاروںکا انجام بھی مختلف نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں