طاہر اے خان

July 27, 2017 7:46 pm

تخلیق کائنات قدرت کا عظیم شاہکار ہے، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر، چار الہامی کتب، غوث، قطب، ولی اور پانچ وقت مؤذن کی صدا نظام حیات کی مربوط منظم ترتیب و تشہیر اطلاق و عمل کا بین ثبوت ہے، اگرچہ خالق حقیقی تشہیری ذرائع سے ماورا ہے تاہم خوشحال معاشرتی زندگی میں مصور اور تصویر کے باہمی تعلق کا ابلاغ وجود کائنات کے رنگوں کی تجسیم کا جزو لا ینفک ہے ۔ آج کی ایڈورٹائزنگ تخلیقی اور تحقیقی پہلوئوں کی عکاس اور تشہیری تخلیق کار الہامی پیغامات کے ابلاغ کے موذن ہیں ، اشتہاریات پاکستان کا 70سالہ پیشہ ورانہ سفر ایڈور ٹائزنگ کی تاریخ کا روشن باب اور معتبر حوالوں کی پہچان ہے، اشتہاریات پاکستان کے درخشاں سفر میں انٹرفلو گروپ کے سربراہ طاہر اے خان کا نام معتبر حوالوں کی پہچان ہے نت نئے آئیڈیاز کے متلاشی ، کچھ کر گزرنے کی جستجو سے مالا مال طاہر اے خان نے تشہیری دنیا میں قدم رکھا تو انہیں یقین کامل تھا کہ ان کی شبانہ روز محنت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور رنگ لائے گی۔

طاہر اے خان ہمیشہ چیلنجز کے آرزو مند رہے ، انہوں نے تشہیری دنیا میں پر خطر اور مشکل کاموں کا بیڑہ اٹھایا۔ پاکستان میں 24گھنٹے کی نشریات کے پہلے آزاد ٹی وی چینل این ٹی ایم کو کامیابی سے ہمکنار کرکے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کیلئے سیور ریفل ٹکٹ کے ذریعے ریکارڈ فنڈ اکٹھے کئے جس کے باعث کامیاب اولمپکس کاانعقاد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافے کا باعث بنا۔

طاہر اے خان کی طبیعت میں ٹھہرائونہیں ، تھکن کا احساس نہیں، نئے تجسس اور نئی تلاش ، انہیں ہر دم متحرک رکھتی ہے، ہر بات خود مختاری کے ساتھ بلا خوف اور بلا جھجھک اور اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں۔

طاہر اے خان نے کہا کہ انٹرفلو گروپ منظم اور سائنٹیفک منصوبہ بندی کا منفرد شاہکار ہے، ہمارے تخلیق کردہ کمرشل اور اشتہارات موثر پلاننگ اور ریسرچ کی روشنی میں مارکیٹ کے ہر آن بدلتے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر تخلیق کئے جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم موثر پلاننگ اور ریسرچ کے تحت حاصل شدہ اعداد و شمار کی روشنی میں مصنوعات کی فروخت کیلئے موزوں میڈیا کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنے کلائنٹس کے منافع میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انٹر فلو گروپ کی تحقیق، تخلیق اپنے کلائنٹس کیلئے جاندار تشہیری تصورات کی بنیاد بنتی ہے۔

طاہر اے خان نے کہا کہ بنیا دی طور پر میر اتعلق شروع ہی سے مارکیٹنگ،کمیو نیکیشن اور ایڈور ٹائزنگ سے رہا ہے ۔میں نے جولائی 1983ء میں انٹر فلو کی بنیاد رکھی ۔ اس سے پہلے میں نے مختلف اشتہا ری کمپنیوں میں کام کیا لیکن اپنا ادارہ قائم کرنے کے ساتھ ہی ہم ان خصوصی عوامل کی تلاش میں سر گرداں ہو گئے جو کسی پروڈکشن،یا میڈیا بائنگ ہائوس اور اس سے متعلقہ اداروں کیلئے جزو لا ینفک ہو تے ہیں ہماری اسی شب وروز کی جہد مسلسل کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہمارا گروپ درجنوں کمپنیوں پر مشتمل ہے اور یہ کمپنیاںایڈور ٹائزنگ میڈیا اور مارکیٹنگ سے متعلق بہترین انداز میں بین الاقوامی معیار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔جہاں تک بیٹس (BATES)کی بات ہے تو یہ اس وقت ایشیا کا ابھرتا ہو ا ستارہ ہے جو باہمی تعاون کا تصور پیش کر رہا ہے ،جبکہ انٹر فلو پا کستان میںایڈور ٹائزنگ کی ایک بھر پور قوت کا نام ہے ۔ بیٹس اور انٹرفلو کے اشتراک کے نتیجے میں دونو ں ادارے کی مشترکہ کو ششوں سے پاکستان میں اشتہا رات کامعیا ر مزید بہتر اور بلند ہونا یقینی بات ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کے اس کے نتیجے میں تحقیق وتخلیق کی جستجو کو ایک نئی مہمیز ملے گی اور تخلیق کی نئی راہیں کھلیں گی ۔یہ بات طے ہے کہ ایڈور ٹائزنگ کے شعبے میں حکمت عملی کو بڑی اہمیت حاصل ہے جبکہ تخلیق ہماری کو ششوں کے نتائج کا حرف آخر ہے ۔ یہ با ت سمجھنے کی ہے کہ ہمارے شعبے میں تخلیق سے مراد یہ ہے کہ جس کے ذریعے ہم یہ ثابت کریں کے کلائنٹس یا صارفین ہمارے شعبہ تخلیقات سے کیا توقعات رکھتے ہیں ۔ جہاں تک ہمارے گروپ کی وسعت کی بات ہے تو اس وقت ہمارے گروپ میںایک درجن سے زائد کمپنیاں کا م کررہی ہیں ۔ جن میں تین اشتہاری کمپنیاں ،مختلف بائنگ ہاوئسز، پروڈیکشن کمپنیاں اور مختلف اقسام کی ایکٹیویشن کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینما ایڈور ٹائزنگ،آئوٹ ڈوراورڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنیاں ہمارے گروپ کا حصہ ہیں۔

آپ لاہور یو نیور سٹی مینجمنٹ آف سائنس (LUMS) اور اقراء یو نیورسٹی کے بورڈ آف ایڈوائیزری میں شامل ہیں ،پاکستان میں اکیڈمک ایجو کیشن کے معیا ر کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟

طاہر اے خا ن کا کہنا تھا کہ میری نظرمیں پاکستان میں اکیڈمک ایجو کیشن کا معیار بہتری کی جانب گا مزن ہے ۔ پروفیسرطاہر کی قیادت میں ہائر ایجوکیشن نے نئے پرائیویٹ تعلیمی ادارے سے الحاق کرکے حبیب یو نیور سٹی اور کر اچی بزنس اسکول جیسے اعلیٰ معیار ی تعلیمی ادارے سے الحاق کر کے ایک بڑا اہم قدم اٹھا یااس کے نتیجے میں تدریس کے معیا ر نے ترقی کی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں یہ تعلیمی ادارے ہماری آنے والی نسلوں کیلئے معیاری اور بہتر علمی پلیٹ فارم ثابت ہونگے۔

آپ نے پاکستان میں پہلے آزاد ٹی وی چینل کی بنیاد رکھی ، یہ پر خطر اور مشکل کام تھا،یہ تجربہ کیسا رہا؟

طاہر اے خان نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ جب میں نے پرائیویٹ چینل کا آغاز کیا تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج تھاکیو نکہ یہ پا کستان کا پہلا پرائیویٹ چینل تھا۔ جہاں تک پی ٹی وی کی بات ہے تو یہ ایک قومی چینل تھا اس نے اپنے عملے کی تربیت کیلئے بہت کچھ کیا تھا۔ اس کے لئے انتہائی مہنگے ہنر مند افراد کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں لیکن بحیثیت پہلے پرائیوٹ چینل ہمیںیہ سا رے انتظامات از سرے نو کرنے تھے۔ ہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ این ٹی ایم نے بہت سارے لوگوں کو اپنی صلا حیتیں منوانے اورکا م کرنے کے مواقع فراہم کئے۔ میں اسے خوش قسمتی سمجھتاہوں کہ ان حالات کے باوجودہم نے ’’چاند گرہن ‘‘ جیسی سیریل پیش کی اورانڈین کیبل آپریٹرز ہمارے ڈرامے انڈیا میں دکھانے کیلئے اپنی تمام ترصلاحیتیں بروئے کار لاتے تھے، اب جو ہمارے ملک میں پرائیویٹ چینلز کا طوفان آیا تو اس وقت ہمارے تربیت یا فتہ ہنر مند افرادکی بڑی تعداد مارکیٹ میں پہلے سے ہی مو جو د تھی۔

آج کل اشتہاری ایجنسیوں نے ڈیجیٹل اور ڈیجیٹل کریٹومیڈیا کے عنوان سے مختلف شعبے قائم کررکھے ہیں یہ با ت حیرت کی نہیں کہ دونوں شعبے ایک ہی مقصد کیلئے کا م کر ر ہے ہیں اس کا پس منظر کیا ہے؟

طاہر اے خان نے بتایا کہ اس حوالے سے دو باتیںہیںپہلی بات تو یہ کہ ہر اشتہاری ایجنسی جو تخلیقی مشتملاتcreative content) ( پیش کر تی ہیں انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مہارت ہونی چاہیے ۔دوسری بات یہ کہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کی سمجھ ہونی چاہئے کیو نکہ ان کے بارے میں تصور یہی کیاجاتا ہے وہ تخلیقی کا م کرتی ہیں۔ خواہ ان کا تعلق ڈیجیٹل میڈیا سمیت اشتہار کی کسی بھی شکل میں ہو بہر حال کسی بھی کریٹو ایجنسی کا کام یہ ہے کہ وہ تخلیقی آئیڈیا ز کا حل بھی پیش کرے اسی طرح  وہ لو گ اسپیشلسٹ ہو تے ہیں آپ کے تخلیقی آئیڈیا ز کو عملی طور پیش کرنے کا گر جانتے ہیں اسی وجہ سے تو آپ ڈیجیٹل میڈیا کہلاتے ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل مر کز اس قسم کی سہولتیں فراہم کر تا ہے جب کہ انٹر فلو کے تخلیق کارتخلیقی حل پیش کرتے ہیں ڈیجیٹل مرکز اس تخلیق کو عملی شکل دیتا ہے اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ ہر اشتہاری ایجنسی ڈیجیٹل میڈیا کے طور پر کا م کرتی ہے، یہ دور ڈیجیٹل میڈیا کے سیلاب کا دور ہے اس لئے ہر ایجنسی اس دوڑ میں شریک ہو نا چاہتی ہے۔

آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے فروغ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟

طاہر اے خان کا کہنا تھا کہ یہ با ت درست ہے کہ آج کل کلائنٹس ڈیجیٹل میڈیا کے لئے بھا ری بجٹ مختص کر رہے ہیں کلا ئنٹس اور اشتہاری ایجنسیاں دونوں کی سوچ یہی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا مطلوبہ تشہیری مقاصد کے حصول کا سب سے مو ثر ذریعہ ہے یہ بات بھی درست ہے کہ کلائنٹس اوراشتہاری ایجنسیاںٹی وی کمرشل اور پرنٹ میڈیا کے اشتہارات کے لئے باہمی طور پر ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیںلیکن میں سمجھتا ہوں کے ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے یہ صو رتحال صرف پا کستان ہی میں نہیںدنیا بھر میں ہے بر طانیہ میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر بھا ری سرمایہ کا ری کی گئی ہے جبکہ پا کستان میں ملٹی نیشنل کمپنیاں یہی کچھ کررہی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ پا کستان میں ڈیجیٹل میڈیا کا ایک بڑا سیلاب آنیوالا ہے لیکن یہ صورتحال ہماری اس سے واقفیت سے بھی مشروط ہے۔

عوامی خدمت کے حوالے سے آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیںہے ا س حوالے سے اپنے بارے میں کچھ ہمیں بھی بتائیں؟

طاہر اے خان نے بتایا کہ ملک وقوم کے مفاد میں کی جانے والی ہر کوششوں میں شریک ہونے کی خواہش رکھتا ہوںاس کے لئے میں نہ صرف اپنی ذاتی حیثیت میں رہ کر کا م کرتاہوں بلکہ میرا دارہ اور میری اہلیہ بھی پیش پیش رہتی ہیں میں مختلف تعلیمی اداروں کے انتظامی بورڈ میں شامل ہوں اس کے علاوہ دیگر مثبت معاشرتی مقاصدمیں بھی حصہ لیتا ہوں اور اپنا زیادہ وقت ان ہی کا موں پر صرف کرتاہوںفاطمید فائونڈیشن کا پر انا ٹرسٹی ہوں اس ضمن میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ریٹائرڈ جنرل اور سابق گورنرسندھ معین الدین حیدر کی قیا دت میں فاطمید فائو نڈیشن بہت زیا دہ فعال رہا اس کے علا وہ ہماری دوسری آرگنائزیشن پا نی کے حوالے سے بہت کام کررہی ہے میری اہلیہ سیما طاہر اس کے لئے بہت زیادہ کا م کر رہی ہیں کیو نکہ ہم سمجھتے ہیںیہ ملک کا انتہائی اہم مسئلہ ہے، ہمارا پا کستان جہاں پہلے اضافی پانی ہواکرتا تھا آج قلت آب جیسی صورتحال سے دوچارہے جبکہ قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہو نے کے اندیشے بھی سر منڈلا رہے ہیں۔

بحیثیت منتظم اعلیٰ اپنے مینجمنٹ اسٹائل کے بارے میںطاہر اے خان کا کہنا تھا کہ میر اطریقہ کا ر یہ ہے کہ میں نے اپنے گروپ کی تمام کمپنیوں کو چیف ایگزیکٹوافسران کی سر براہی میں مکمل طور پر بااختیار کر رکھا ہے اور کمپنیوں کے تمام معاملات کے وہ ذمہ دار ہیں جہاں تک میری ذمہ داری کی بات ہے تو میں انہیں گائیڈ لا ئن دیتا ہوں اور جہاں رہنمائی کی ضرور ت پیش آتی ہے وہاں ان کی رہنمائی کر تا ہوں، سی ای اوز سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے منیجر ز کو فری ہینڈ دیںتاکہ فیصلہ سا زی کا مر حلہ تیز رفتار ،لچکدار اورحقائق پر مبنی ہو۔

آپ کس قسم کی علا قائی تر قی کو ضروری سمجھتے ہیں جس کا مثبت اثر ہماری تشہیری صنعت پر پڑے؟

طاہر اے خان نے کہا کہ اگر آپ ایشین اور سائوتھ ایشن ریجن کی بات کررہے ہیں تومیں یہ کہوں گا کہ دنیا کے اس حصے میں مارکیٹوں کی بھرمار ہے اوردنیا کے دیگر حصوں کی نسبتاً یہ مار کیٹیںبہت تیزی سے پھیلتی چلی جا ئیں گی۔جب مارکیٹیں تیزی سے بڑھیں گی توکمیو نیکشن بھی ہوگی اس کے لئے ہمیں بھی تیاری کر نے کی ضرورت ہوگی ،اپنے آپ کو موثر بنا نے کیلئے ہمیں کمیونیکیشن کی مہا رت میں اضافہ کرنا ہوگا میں یہ بھی سمجھتاہوں کہ اس صورتحال کے پیش نظر ہمیں آئندہ برسوں میں ایڈور ٹائز نگ کی مہا رت میں حددرجہ اضافہ کر نے کی ضرورت پیش آئے گی۔

اشتہارات کے شعبے میں بیرونی ممالک کی شرکت کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

طاہر اے خان نے کہا کہ کسی بھی مقامی صنعت میں غیر ملکی شمولیت انتہائی مفیدثابت ہو تی ہے اس سے مقامی صنعت کوما رکیٹنگ اور کمیونیکیشن کے جدید تقاضوں سے آگہی حاصل ہوتی ہے، میری نظر میں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو تا ہے کہ عوام کو تر بیت کے مواقع حاصل ہو تے ہیں اور یہ مارکیٹوں میں غیر ملکی سرمایہ کا ری کا در کھولنے کا مو جب ہو تی ہے ،اپنی شناخت یعنی برانڈ کے سا تھ کا م کرنے والی ایجنسیاں ایسی مارکیٹوں کے با رے میں جا ننا چاہتی ہیں جیسے پا کستان ،اگر آپ کو اس کا موقع ملتا ہے تویقینا آپ سرمایہ کا ری کی حوصلہ افزائی کریں گے اس لئے میں اسے پاکستانی ایڈورٹائزنگ صنعت کیلئے ایک مثبت آغاز تصور کر تا ہو ں جس کا مجموعی نتیجہ ہماری معیشت پر پڑے گا ۔

مائنڈ شیئر میں اپنے شیئر کے بارے میں کچھ بتا نا پسند کریں گے ؟

طاہر اے خان نے بتایا کہ مائنڈشیئر اور انٹر فلو مشترکہ طور پر کا م کررہے ہیں اور ان کے شیئر برابر ہیں دونوں کمپنیاں ہی اپنے کا م میں بھر پور تجربہ رکھتی ہیں اور دونوں ہی کمپنیاں پروفیشنل بنیا دوں پر منظم ہیں اس کا ثبوت صنعت میں ہم پر کیا جانے والااعتماد ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کا سب سے بڑا میڈیا بائنگ اور پلاننگ ہا ئوس ہے۔

آپ نے تو زندگی میں کئی مہمات سر کیں یہ بتائیں اپنے تجا رتی اہداف کیسے حاصل کرتے ہیں ؟

اس پر طاہر اے خان کا کہنا تھا کہ گروپ میں شامل تمام کمپنیاں سال کے آغاز میں اپنا سالانہ پلان مرتب کرتی ہیں، کمپنی کی مینجمنٹ کی جانب سے اس کی حتمی منظوری کے بعد انہیں اہداف حاصل کرنے کے لئے آزادانہ ماحول فراہم کردیا جاتاہے۔ تاہم کمپنی کی ضروریات جاننے اورکارکردگی کو جا نچنے کیلئے ہر تین ما ہ بعدجائزہ لیا جاتا ہے اس طرح گروپ ہر مرحلے پر کمپنیوں کی کا رکر دگی سے آگاہ رہتا ہے، بطور انٹر فلو گروپ ہم ان کمپنیوں کو ما نیٹر کرتے ہیں ہم ان کمپنیوں کو کا م کرنے کیلئے آزاد رکھتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا پا بند رکھتے ہیں کہ وہ سالانہ بزنس پلان کی حدود میں رہ کر کا م کریں جس کی منظوری دی گئی ہے ۔

کیا میڈیا بائنگ ہائو سز کی کا رکردگی عالمی معیار کے مطابق ہے ؟

طاہر اے خان کا کہنا تھا کہ انٹر نیشنل اورہماری دیگر کمپنیوں کے آپر یشن کا طریقہ کاروہی ہے جو پوری دنیا میںرائج ہے ہم پاکستان میںبہتر طور پر اسی معیا ر کے مطابق بہترین اندا ز میں کا م کر ر ہے ہیں اسی طرح پاکستان میں قائم چند انٹر نیشنل کمپنیاں بھی ٹھیک ہمارے انداز میں ہی کام کررہی ہیں ایسے ہی جیسے دنیا بھر میں ہو رہاہے جس کی بنیا د پیشہ ورانہ اصول ،اعلیٰ تخلیقی صلا حیتیں اور دیانت داری ہے۔

آپ کی سحر انگیز شخصیت قوم کے معماروں کے لئے ایک ایسا چمکتا، دمکتا اور مہکتا سمندر ہے جس سے جتنی آگہی حاصل ہوگی اتنی ہی یہ خوشبو پھیلتی چلی جائے گی، قوم کے نام کیا پیغام دیں گے؟

طاہر اے خان نے کہا کہ پا کستان میں مواقع حاصل کرنے کے بے پناہ وسائل ہیںہم بحیثیت پا کستانی ترقی کی نئی منازل کے قریب کھڑے ہیں خصوصاً ملک میں امن وامان کی بہتر صورتحال نے ہر پا کستانی کو پر اُمید کردیا ہے ۔ ہمیں تابناک مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے خصو صاً اس ماحول میں ہمارے نوجوانوں کو ترقی کے بلند مقام پر پہنچنے میں کو ئی رکا وٹ نہیں،مملکت خدادادِ پاکستان میں ہمارے پا س بھر پور انسانی وسائل،ٹیلنٹ اور قابلیت مو جو د ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اور حکومت ایک وژن پر کام کریں اور وہ یہ ہے کہ ان وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرکے اقوام عالم میں پاکستان کو ایک مستحکم اور فلا حی ریا ست بنانے کے خواب کو پورا کرسکیں۔

متعلقہ خبریں