شاہد آفریدی

July 27, 2017 7:43 pm

مثبت سوچ اور صحت مند رویہ کا آئینہ دار، دنیائے کرکٹ کے بے تاج بادشاہ، حریف ٹیم کیلئے خوف اور دہشت کی علامت، خوش مزاج، ملنسار، درد مند انسان، حوصلہ و عزم مستقل کا احساس اور ایک انقلاب کا نام شاہد خان آفریدی ہے، شاہد خاند آفریدی کو پاک وطن کی مٹی اور سبز ہلالی پرچم سے والہانہ عشق ہے ان کے دل میں حب الوطنی کے چشمے پھوٹتے ہیں، ہاتھ میں اخوت کا پرچم، وسیع القلب ، ملک میں تنگ نظری، منافقت، تعض، جہالت اور ظلم و تشدد سے بیزار ہیں، بقول شاہد آفریدی مجھے ہر سمت سے والہانہ پیار اور بیش قیمت محبتیں ملی جو میرے لئے سرمایۂ حیات اور انمول خزانے سے کم نہیں ہیں۔

دنیائے کرکٹ میں بلند مقام اور عالمی شہرت رکھنے والے نوجوان شاہد آفریدی کو زیادہ تر لوگ ان کو کھیل کے حوالے سے ہی جانتے ہیں اورحریف ٹیم پر برتری حاصل کرنے کیلئے ان سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں خصوصاً پاک بھارت مقابلہ ہو  تو پاکستانی شائقین کی نظریں بوم بوم آفریدی پر ہی مرکوز ہوتی ہیں، پچھلے برس پاک بھارت ون ڈے میں آفریدی کے تین لگاتار چکھے کون بھول سکتا ہے جنہوں نے میچ کا پانسہ پلٹ کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کردیا  ایک موقع پر پاکستان کوچار گیندوں پر 10رنز درکار تھے، انڈین بائولر ایشونتھ کی گیند پر آفریدی نے گیند ہوا میں اچھالی تو شائقین پر سکتہ طاری ہوگیا تھا لیکن وہ چھکا تھا تین، بولوں پر6رنز کے جواب میں شائقین کے دل بیٹھے جارہے تھے لیکن آفریدی نے چھکا مار کر کھیل کا پانسہ پلٹ دیااس قومی ہیرو نے شدید دبائو کا بھرپورانداز میں مقابلہ کرکے ایسا کارنامہ انجام دیا جو قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔

شاہد آفریدی عالمی شہرت یافتہ کرکٹر ہونے کے ساتھ ایک مثبت طرز فکر رکھنے والا شخص ہے، عزت، شہرت اور دولت سے نوازے جانے والا شاہد آفریدی اپنی ذات میں بااخلاق ، صاف گو اور درد مند انسان ہے وہ اپنے مقام پر سہتے ہوئے اپنی بساط پر معاشرے کی اصلاح چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ جس قدر ممکن ہو اس کی بھلائی میں اپنا حصہ ڈالے، مذہبی احساسات اسے خیر کے کاموں کی جانب گامزن رکھتے ہیں اس مفصل انٹرویو میں ہم شاہد آفریدی کی کرکٹ کی زندگی کے علاوہ کئی پہلو دیکھنے کو سمجھنے کو ملتے ہیں۔

شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ تعلیم ہے جہاں تعلیم نہیں ہے وہاں سے ہی مختلف قسم کے مسائل جنم لیتے ہیں کیونکہ تعلیم کی بدولت ہی آدمی انسان بنتا ہے، میں بچوں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے حد درجہ خوشی ہوتی ہے، میری خواہش تو یہ ہے کہ ملک بھر میں معیاری تعلیم عام ہو اس خواہش کے تحت میں نے شاہد آفریدی فائونڈیشن کے تحت اسکول قائم کیا لیکن یہ ابتداء ہے اس سلسلے میں اللہ نے چاہا تو بہت کچھ کروں گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کھیل کے بہتر مواقع بھی ملنے چاہئیں، آج کل ہمارے یہاں اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل ضروری ہے جس سے ایک صحت مند اور مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے، بس تعلیم تجارت بن گئی ہے میرا بس چلے تو میں کھیل کے میدان کے بغیر جو اسکول ہیں ان کو بند کردوں اور اسکول کیلئے میدان کو کمپلسری قرار دیدوں ، شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کے بزرگوں کا تعلق تیرہ میدان سے تھا لیکن وہاں حالات کی خرابی کی وجہ سے ہم کوہاٹ تنگی بان منتقل ہوگئے یہ کے پی کے میں پشاور سے کافی اندر گائوں ہے یہاں تعلیم کے علاوہ بنیادی صحت کے بہت زیادہ مسائل تھے اس کیلئے میں اور میرے ساتھ جاوید آفریدی نے اپنے پیسے سے اسپتال تعمیر کیا اس اسپتال میں ایک ڈینٹل کلینک بنانے کا پروگرام بھی ہے۔

والد صاحب کے نام پر زمین تھی وہاں یہ اسپتال بنایا ہے یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے دو سال کے اندر 80ہزار سے زائد افراد یہاں سے علراج کراچکے ہیں فی الحال یہاں پر 16بستر ہیں، یہاں ایکسرے، لیبارٹری، الٹراسائونڈ مشین موجود ہیں، مقصد لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے، یہاں سب سے پہلا ڈلیوری کیس میری کزن کا ہوا، اس اسپتال کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ شہر سے بھی لوگ یہاں آتے ہیں لیکن شہر سے ڈاکٹرز یہاں آنے کو تیار نہیں ہوتے اس لئے ہم نے ان کی رہائش کا بھی اسپتال میں بندوبست کیا ہے، ابھی اس اسپتال میں خواتین کیلئے ایک سینٹر قائم کیا ہے جہاں وہ دستکاری اور میک اپ وغیرہ سیکھتی ہیں اور سکھاتی ہیں اس پروجیکٹ کیلئے میں نے کسی سے چندہ نہیں لیا میں اور جاوید آفریدی نے اپنی مدد آپ کے تحت شاہد خان آفریدی فائونڈیشن کے نام سے کام کررہے ہیں، یہاں حالات کی خرابی کا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا، یہاں اسکول، کالج اوریونیورسٹی بھی ہیں اس علاقے کی سڑک کی حالت خراب ہے پہلے بھی حکومتی لوگ آئے تھے دیکھ کر چلے گئے لیکن تاحال کام نہیں ہوا میرے خیال میں باتوں سے نہیں کام کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔

پٹھانوں کے جو پہلے لیڈر تھے باچا خان وغیرہ ان لوگوں نے بہت کام کیا، انہوں نے قوم کو صحیح ڈائریکشن دیا ان کے بعد تو صرف سیاست ہورہی ہے،شاہد آفریدی نے کہا کہ پٹھان دلیر صفت، مہمان نوازلوگ ہیں اور بنیادی طور پر امن پسند قوم ہے ۔

دین اسلام کے حوالے سے شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ اسلام میرے لئے سب کچھ ہے کیونکہ دینی تعلیمات پر عمل کرکے ہی آپ اپنے اور پورے معاشرے کیلئے ایک مفید انسان بن سکتے ہیں اور اس پر عمل کئے بغیر کوئی شخص مکمل انسان نہیں بن سکتا، میری کوشش ہوتی ہے کہ پنجگانہ نبماز پڑھوں مگر چار ہی نماز پڑھ پاتا ہوں بد قسمتی سے ہمارے بعض علماء نے آسان اور عام فہم دین کو مشکل بنادیا، ایک سانحہ یہ بھی ہوا کہ ہمارے وہ بزرگ جو علاقے میں امن و امان اور انصاف قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے انہیں دھماکوں اور حملوں میں ماردیا گیامیں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ فوج کی کوششوں سے تیرہ کے حالات بہت بہتر ہوگئے ہیں اب وہاں بد امنی نہیں ہے لیکن دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کیلئے حصول معاش کے وسائل بہت کم ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگ وہ کام کرتے ہیں جو غلط ہے مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جب آپ کو روزگار کے وسائل نہیں ملیں گے تو پھر آپ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں میں تو فوج سے ہی اپیل کروں گا کہ وہ تیرہ میں لوگوں کو حصول معاش کے وسائل کیلئے کام کرے بہر حال علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو جاا ہے جن کی کوششوں سے علاقے میں امن و امان کا مسئلہ حل ہوچکا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہم پیار محبت والے لوگ ہیں او رامن و آشتی کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ کرکٹر نہ بنتے تو کیا بنتے کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ میں آرمی میں ہوتا مجھے اس کا بہت شوق تھا اگر ایک ڈیڑھ سال کے اندر کرکٹ میں مقام نہ بناپاتا تو پھر آرمی میں جاتا ، میرے چچا کرنل آفریدی ابھی ریٹائر ہوئے 19بلوچ رجمنٹ میں تھے، ایس ایس جی کمانڈوز میں جاتا ، اس وقت دنیا میں اس کے مقابلے میں کہیں کمانڈوز نہیں، جنرل راحیل شریف سے دو تین مرتبہ ملاقات کا موقع ملا، بھرپور پرسنالٹی کے مالک ہیں، پرویز مشرف سے بھی ملاقات ہوئی، دونوں میں ایک چیز قدر مشترک یہ دیکھیں کہ وہ ملک و قوم کیلئے کام کرنے والے لوگوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں، ان کی عزت افزائی کرتے ہیں، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بطور صدر پرویز مشرف نے جو تین چار سال گزار وہ بہت زبردست تھے وہ سیاستدان تو تھے نہیں اس لئے حقیقت میں سیاستدانوں نے ان کو استعمال کیا، راحیل شریف صاحب کو اللہ نے جو عزت دی ہے اگر وہ الیکشن بھی لڑیں تو عوام ان کو ووٹ  دیں گے مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ملک کو مختلف بحرانوں سے نکالنے کے جس مشن پر کام کررہے ہیں اسے کامیابی سے ہمکنار کرکے ہی چھوڑیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہوئے بغیر پاک بھارت مسائل حل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود نواز شریف، پرویز مشرف کے دور حکومت میں سرحد پر اکا دکا واقعات کے باوجود مجموعی طور پر دونوں ملکوں میں تعلقات کسی حد تک بہتر ہی رہے لیکن مودی کی حکومت کے آنے کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات بری طرح خراب ہوئے، مودی کا اگر ماضی دیکھیں تو وہ پورے کا پورا مسلم دشمنی پر مبنی ہے ان حالات میں بھی میں نے کہا کہ پاکستان امن پسندوں کا ملک ہے جو حالات میں مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں اس کے انتہا پسندانہ اقدامات کی کیا ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود میں پڑھے لکھے بھارتیوں کی جانب سے جو کمنٹس آئے وہ میرے لئے افسوسناک تھا، بھارت میں مودی سرکار کے آنے سے دو طرفہ تعلقات بہت متاثر ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کراچی سیٹل ہونے میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہمارے کافی رشتہ دار یہاں پہلے سے ہی موجود تھے پھر ہمارے نانا، دادا نے تین تین چار چار شادیاں کیں، سب کی اولادیں ہیں۔

آپ نے کتنی شادیاں کی ہیں کے جواب میں شاہد آفریدی نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں نے ایک ہی شادی کی، بزرگوں کے زمانے کی خواتین خاموش رہتی تھیں، ہمارے دور کی عورتیں اسٹار پلس والی ہیں جہاں تک دوسری شادی کی بات ہے تو اس میں اب آپ چاہ ہی سکتے ہیں اور سوچ ہی سکتے ہیں عمل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔80ء میں کراچی میں پلا بڑا، تعلیم بھی کراچی ہی میں حاصل کی، فیڈرل بی ایریا میں رہتا تھا وہاں اردو اسپیکنگ بہت زیادہ ہیں ہم پیار محبت سے رہتے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا، بہت سے لوگ میرے گھر آتے اور میرے والد سے دعائیں کراتے تھے، میں نے وہیں سے کھیل کا آغاز کیا، آج تک مجھے کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ پٹھان اپنے صوبہ سرحد میں جائو نہ کسی پٹھان کو یہ کہتے سنا کہ تم اردو اسپیکنگ ہو ہندوستان جائو، بیچ میں بعض عناصر ایسے ہوتے ہیں جو حالات خراب کرنا چاہتے ہیں حالات خراب کرنے کیلئے آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں لوگوں کو آپس میں لڑاسکتے ہیں اپنے مفاد کیلئے بیرونی اشارے پر بھی ایسا کیا جاسکتا ہے ، جہاں اچھے لوگ ہوتے ہیں وہاں برے لوگ بھی ہوتے ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں بعض لوگوں نے اپنے مقاصد کیلئے کراچی کے حالات کو خراب کیا۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کی بات ہے تو محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد پارٹی میں وہ رونق وہ بات نظر نہیں آتی، بی بی نے برے حالات کا بھرپور مقابلہ کیا، پاکستان آنے کا ان کا فیصلہ بھی بہت اہم تھا، بلاول بھٹو سے بھی ایک دو بار ملاقات ہوئی ہے وہ اچھا اور باصلاحیت نوجوان ہے مگر انسان کی اصل صلاحیتیں اس وقت سامنے آتی ہیں جب وہ ڈکٹیشن کے بجائے اپنی شخصی صلاحیتوں سے کام لے ابھی بلاول کے پاس کام کرنے کا موقع ہے، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی جگہ نئے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو لانے کا فیصلہ میرے خیال میں اچھا ہے اس عہدے کیلئے نئے خون کی ضرورت تھی۔

ہمارے یہاں ایک عجیب چلن یہ ہے کہ اگر آپ فوج کی تعریف کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم مارشل لاء کے حامی ہو اگر کسی سے پی پی یا پی ایم ایل یا کسی سیاسی جماعت کی بات کی جائے تو آپ پر اینٹی فوج کا الزام لگایا جاتا ہے میں سمجھتا ہوں خہ ہمارے سیاستدان حالات کو اس نہج پر کیوں پہنچا دیتے ہیں کہ ملک میں مارشل لاء کالگانا ناگزیر ہوجاتا ہے تو ان حالات کے ذمہ دار تو سیاستدان ہی ہوتے ہیں پچھلے الیکشن سے پہلے زرداری، پرویز مشرف اور نواز شریف کی حکومتوں کا موازنہ آپ کیسے کریں گے؟

الیکشن سے ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم نواز شریف کے گھر ان سے ملنے گیا تھا، ملاقات کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ تم اپنے بلے پر شیر کا اسٹیکر لگالو، جنرل پرویز مشرف اور راحیل شریف سے ملاقات ہوئی ان کی شخصیت متاثر کن تھی، زرداری صاحب کا اپنا اسٹائل ہے مسکراتے ہوئے مصافحہ کرتے ہیں آگے بڑھ جاتے ہیں، بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی ہو ہمیں اس کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ملک کا سربراہ ہے اختلافات ہوسکتے ہیں یہ کوئی بات نہیںہے۔

عمران خان کی سیاست دو چیزوں پر ہے، عمران بھائی کی شخصیت کرپشن سے پاک ہے، انہوں نے اس بات کا ہمیشہ سے بڑا خیال رکھا بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ ان کا وولٹ بھی کھلوالیں تو سو دو سو روپے ملیں گے، دوسری بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنا جانتا ہے، عمران بھائی کے پاس ایک اچھا موقع ہے عوام ان کے ساتھ ہیں جہاں تک ان کی پارٹی کے رہنمائوں کو پارٹی پالیسی کے مطابق کام کرنا چاہئے۔

یہ بات درست ہے کہ ہمارے بزرگ سیاستدانوں مثلاً باچا خان اور دیگر نے قوم کی صحیح رہنمائوں کی اس کے بعد تو پختونوں کے نام پر سیاست ہوتی رہی کس نے بھی اپنی قوم کیلئے کوئی صحیح گائڈ لائن نہیں دی، پختونوں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں مگر ان کے پاس کوئی رہنما نہیں جو ان کیلئے بہتر سمت کا تعین کرے۔

اگر آپ کو تحریک انصاف، پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ میں سے کسی جماعت کی جانب سے شمولیت کی دعوت ملی تو آپ کس کی طرف جائیں گے؟

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ فی الحال کرکٹ کی نیٹ پریکٹس کو ہی ترجیح دوں گا کیونکہ سیاست میں ابھی جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرا دل بھی سیاست کرنے کو بہت چاہتا ہے لیکن خاندان کے بزرگ منع کرتے ہیں بعض فیصلے آپ اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور بعض فیصلے صلاح و مشورے سے کئے جاتے ہیں، میرے سیاست میں آنے کا فیصلہ بھی اسی نوعیت کا ہے بس یہ تو نہیں کہتا کہ سیاست میں کبھی قدم نہیں رکھوں گا لیکن فی الحال ارادہ نہیں ویسے بھی دیکھا جائے تو اصل چیز خدمت ہی ہے اور میں خدمت کرنا چاہتا ہوں اسی مقصد کے تحت شاہد آفریدی فائونڈیشن کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبے میں کام کررہا ہوں، پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا دنیا بھر میں سیاست کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہی ہوتا ہے جو میں کررہاہوں۔

راحیل شریف نے شاہد آفریدی کرکٹ اسٹیڈیم کاا فتتاح کیا

آرمی چیف نے اسٹار کرکٹر کو گرم جوشی سے گلے لگایا، بیش قیمت گولڈ پسٹل تحفے میں دیدی

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے نام پر کرکٹ اسٹیڈیم کے افتتاح کیا اس موقع پر اسٹار کرکٹر بھی موجود تھے ، راحیل شریف نے شاہد آفریدی سے مصافحہ کیا اور گرم جوشی سے گلے لگایا ،جنرل راحیل شریف نے شاہد خان آفریدی کو بیش قیمت گولڈ پسٹل تحفے میں دی، کرکٹ اسٹیڈیم کے افتتاح کے بعد آرمی چیف نے قبائلی عمائدین سے خطاب کیا اور کہا کہ پاک فوج کے جوان بھارتی فوج کو سبق سکھا سکتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی پاک آرمی دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے جس نے دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کیلئے دفن کردیا ہے، انہوان نے کہا کہ اپنے دور میں پاک فوج کا مورال بلند کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان رشتہ برقرار رہے، انہوں نے قبائلی عمائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور قبائلی عمائدین نے ملک کر دہشت گردی کو ختم کیا، عوام کی حمایت سے انسداد دہشت گردی آپریشنز کا مرحلہ مؤثر اور منفرد انداز میں مکمل کرلیا ہے، استحکام اور آبادکاری آپریشن سے ترقی کو مزید تقویت ملے گی، انہوں نے کہا کہ وہ پاک آرمی کو خدا حافظ کہہ کر اختیارات سونپ دیئے مگر میرا جینا اور مرنا ملک کیلئے ہےاور میں نے اپنی زندگی شہداء کے لواحقین کیلئے وقف کردی ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر شاہد خان آفریدی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف میرے اور پورے پاکستان کے ہیرو ہیں اور میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ خبریں