مریم مشتاق

July 27, 2017 7:42 pm

’’میں نے بچپن سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ آرٹ یا مصوری کو بھی چلایا ۔ یوں سمجھ لیں کہ اتنا شوق پڑھائی کا نہ تھا ، جتنا مصوری کا رہا ۔بہت چھوٹی عمر سے آرٹ کی کلاسز بھی لیتی رہی ہوں ۔ گھر میں بھی اس شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر آرٹ این کرافٹ کی Hobbyمیں مصروف رہا کرتی تھی ۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں (Crafts)وغیرہ بنانا ، ڈیکوریٹ کرنا اور پینٹ کرنا مجھے اچھا لگتا تھا ۔ اس لیے جب موقعہ ملا توکراچی اسکول  آف آرٹ سے چار سالہ ڈپلومہ کیا اور اس کے بعد گرافک ڈیزائننگ کی جانب رخ کیا ہے ‘‘۔

یہ آپ کا ابتدائی شوق تھا ؟

’’مصوری ؟ نہیں۔۔۔ نہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر اسکلپچر کا شوق تھا بلکہ اسے آپ جنون کہہ سکتے ہیں۔ اس کی ابتدا میں نے پلاسٹک آف پیرس سے کی ، پھر جب ہاتھ کچھ بہتر ہوا تو فائبر پر کام کیا ۔ اس کے بعد دوسرے ہارڈ مٹیریل پر کام شروع کیا ۔ حتیٰ کہ لوہے، تانبے وغیرہ سے فن پارے تخلیق کرنے کے  لیے ویلڈنگ کا کام بھی کیا ۔ لوک ورثہ اسلام آباد میں کافی کام سیکھا اور کیا ہے ۔ وہاں سکھانے والے لوگ بے حد پروفیشنل ہیں، اس لیے کام سیکھنے اور کرنے کا بہت لطف آیا ۔ ساتھ ہی آرٹ سے متعلق مختلف ورکشاپس میں بھی شمولیت اختیار کی‘‘ ۔

تو اس طرح آپ مختلف میڈیمز میں کام کرتی آرہی ہیں ؟

’’جی ہاں ، آئل پینٹنگز کیں ، واٹر کلرمیں ہاتھ صاف کیا اور کچھ کام ایکر ملک میں بھی کیا ہے ‘‘۔

ان سب کو ایک ساتھ چلانا اور سنبھالنا مشکل نہیں ہوتا ؟

’’شروع شروع میں ہوتا ہے لیکن جب ہم زیادہ کام کرنے لگتے ہیں، عادی ہو جاتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔ آئل پینٹنگز کافی نازک اور پیچیدہ کام ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ،لیکن پریکٹس سے انسان پرفیکٹ ہو جاتا ہے ۔ میں یہاں خدانخواستہ اپنے پرفیکٹ ہونے کا دعویٰ قطعی نہیں کررہی  ہوں ، مگر یہ بتانا چاہتی ہوں کہ مشق کرتے رہنے سے کوئی بھی آرٹ فارم آپ کے کنٹرول سے باہر نہیں جاتا ۔ مجھے ایبسٹریکٹ بھی بہت اٹریکٹ کرتا ہے ‘‘۔

مگر ہمارے ہاں تجریدی فن پارے کو سمجھنا کافی مشکل نہیںہے؟ ۔

’’جی ہاں ، بالکل مگر جو مصوری کے شائقین ہیں ، وہ اس سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں ‘‘۔

پینٹنگز میں کوئی خاص موضوع ہوتا ہے ؟جیسے لینڈ اسکیپ ، اسٹل لائف، بچے ، جانور یا بوڑھے لوگ وغیرہ؟

’’گھوڑے۔Horsesمجھے یہ جانور بہت Fascinateکرتا ہے ۔ اس کی اینا ٹومی ، اس کی فزیکل بیوٹی بہت اچھی لگتی ہے ۔ اس لیے میں Horsesکو بہت پینٹ کرتی رہتی ہوں ‘‘۔

ہمارے ایک مصور دوست مومن الرحیم بھی یہی کرتے ہیں ۔ کراچی میں ہوتے ہیں ۔ ان کابھی خاص موضوع بھی گھوڑے ، ان کی مومنٹ ، تحّرک اور دوڑا نہیں متاثر کرتی ہے ۔ افغان کھیل بزکشی کی بھی وہ شاندار پینٹنگز پیش کرچکے ہیں۔

’’ہاں نا۔۔۔ گھوڑے کو آپ دوڑتے ہوئے دیکھیں ، رکے ہوئے دیکھیں ۔۔۔ وہ آپ کو ہر پوز میں اٹریکٹ کرتا ہے ۔ اس کی باڈی کی بیوٹی، اس کی اسکن ، ایّال مجھے اچھی لگتی ہے ۔ horsesکو پینٹ کرنے کے دوران میں نے اس پر ریسرچ بھی کی ہے کہ ہم سے پہلے ماسٹرز (کلاسک مصوروں) نے اس کو کس طرح پینٹ کیا ہے ؟ اس کی باڈی کی بیوٹی کو انہوں نے کس طرح پیش کیا ہے ۔ پھر یہ بھی سرچ کیا کہ آج کل دنیا میں مصور اس موضوع پر کس طرح کام کررہے ہیں ؟ یہ سب دیکھ کر میں نے کوشش کی کہ میں اپنی راہ نکالوں ، کلرز، اسٹروکس، برتائو اور پیشکش میں اپنی انفرادیت دکھانے کی کوشش کروں تا کہ جو شائقین اس طرح کی پینٹنگز دیکھتے رہتے ہیں ، وہ بھی Appericiate کرسکیں کہ ہاں ، یہ کام پہلے دیکھے ہوئے کاموں سے کافی الگ دکھائی دیتا ہے ۔ یہی میری کامیابی ہوگی ‘‘۔

اسی ریفرنس میں آپ سے پوچھونگا کہ آپ کو اپنے سے پہلے والے آرٹسٹوں میں کس کا کام پسند آتا ہے ؟۔

’’مجھے اے کیو عارف کا کام بہت اچھا لگتا ہے ۔ ان کے ہاں رنگوں کا استعمال ، ان کا برتائو مجھے بہت بھاتا ہے ۔ میں بھی ان طرح کا کام کرنا چاہتی ہوں ۔ اس کے لیے میری کوشش ہوگی کہ میں خود کو مزید پالش کروں ۔۔۔ کچھ اور سیکھوں پھر کسی طرح اس طرف آئونگی ۔ اس کے لیے باہر جاکر بھی سیکھنا پڑا تو میں جائونگی کیونکہ جب تک آپ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے خود کو تکلیف نہ دیں ، سیکھنے کے عمل سے Proper نہ گزریں ، تب تک کامیابی کا حصول دشوار ہوتا ہے‘‘ ۔

آج سے پانچ سال بعدآپ خود کو As a Artistکہاں دیکھتی ہیں ؟

’’کم سے کم موجودہ پوزیشن پر تو نہیں ‘‘، ہنستے ہوئے مریم مشتاق بتاتی ہیں: ’’انشاء اللہ آج سے پانچ سال بعد میں خود ملکی سطح پر جانی پہچانی آرٹسٹ کے طور پر دیکھتی ہوں ۔اس کے علاوہ خطے کے دوسرے ملکوں، خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں بھی میرا فن جانا پہچانا جائے ۔۔۔ یہ میری خواہش بھی ہے ، ارادہ بھی ۔۔۔ اور اس کے لیے میں کوشش بھی کررہی ہوں ‘‘۔

اب تک میڈیا کو آپ نے نظر انداز کیا ہے حالانکہ آپ کا کام دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کو تو میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت ہونا چاہیے تھا ؟

’’مجھے اسکرین پر آنا کبھی پسند نہیں رہا ۔ میں سمجھتی ہوں کہ میری شکل کے بجائے میرا کام اسکرین پر دکھایا جائے ۔ میں خود کو ڈسپلے کرنے کے برعکس Behind the screenرہنا پسند کرتی ہوں ۔ ابھی پچھلے دنوں چند فیملی فرینڈز جو الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہیں، ان کے اصرار پر میں نے کچھ ٹی وی پروگراموں میں بطور مہمان شرکت کی ہے ۔ وہ بھی ان کا کہنا تھا کہ جب فن کی دنیا میں موجود ہیں تو شائقین کو پتہ بھی چلنے دیں کہ مریم مشتاق ایک آرٹسٹ ہیں ، جن کا کام ہر طبقے میں سراہا جاتا ہے ‘‘۔

اس سے کیا Responseملا ؟

’’مجھے بہت اچھا  Responseملا ہے ۔ کافی اداروں کی جانب سے فن پارے خریدے جانے اور ڈسپلے کرنے کی Offersملی ہیں ۔ مجھے اچھا لگا ہے ۔ اس سے پہلے صادقین گیلری میں میرے فن پارے ڈسپلے رہے ہیں اور کئی نمائشوں میں بھی میری پینٹنگز کو نمایاں ڈسپلے ملا ہے ۔ میرا زیادہ تر کام Commisioned workہے ۔ یعنی فرمائش یا آرڈر پر کام کرکے دیتی ہوں ۔ اس کے لیے کافی کلائنٹس موجود ہیں ، جن کا کام مسلسل کرتے رہنا پڑتا ہے‘‘ ۔

اپنی آنے والی کسی ایگزیبیشن سے متعلق بتائیں ؟

’’اس ماہ دبئی اور دوسری خلیجی ریاستوں میں میرے کام کی نمائش ہوئی ہے ۔ جہاں پینٹنگز ، مکس میڈیا اسکلپچرز لے کرگئی تھی ، اللہ پاک نے امید سے بڑھ کر عزّت بخشی ،اچھا دورہ رہا‘‘ ۔

یہ بتائیں کہ اس فیلڈ میں آنے کے لیے گھر سے کس نے سپورٹ کیا ؟

’’امی نے ۔۔۔ اگر امی سپورٹ نا کرتی تو یہ سب ممکن نہ ہوتا ۔ شروع شروع میں تو وہ چاہتی تھیں کہ میں ڈاکٹر و غیرہ بن جائوں لیکن میں زبردستی اس فیلڈ میں گھس گئی ۔ جب امی نے دیکھا کہ میرا شوق ہی نہیں، جنون ہے تو پھر وہ بھی سپورٹ کرنے لگیں ۔ میں آگے بڑھی اور کامیابیاں ملنے لگیں تو پھر ابو نے بھی خوشی کا اظہار کیا ۔ اور اب امی ابو دونوں خوش ہیں میری کامیابیوں سے اور دونوں ہی مجھے آگے بڑھاتے ہیں ۔ مکمل سپورٹ کرتے ہیں‘‘ ۔

آپ یہ بتائیں کہ خود آپ اپنے فن کو As a criticکیسے دیکھتی ہیں ؟

’’میں تو جب بھی اپنے کسی فن پارے کو دیکھتی ہوں تو مجھے کوئی نہ کوئی گنجائش نظر آتی ہے کہ اس کو اس طرح کرلیتی یا اس جگہ پر یوں کرتی تو اور زیادہ بہتر ہو جاتی۔ اس طرح ہر بار مجھے اپنے کام میں بہتری کی نئی گنجائش نظر آجاتی ہے ۔میں اپنے کام سے کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتی ۔ اس حساب سے جب اپنے ہم عمر آرٹسٹس کا کام دیکھتی ہوں تو اس پر بھی مجھے کئی پہلو سے بہتری لانے کے آئیڈیاز سوجھتے ہیں ۔ ایک بات جو عجیب محسوس ہوتی ہے کہ میرا کام دوسرے لوگوں ، یہاں تک ہم عمر آرٹسٹوں کو بہت پسند آتا ہے مگر مجھے ہر بار اپنے کام میں کوئی نہ کوئی کمی محسوس ہوتی ہے‘‘ ۔

رنگوں میں آپ کی Choiceکیا ہوتی ہے ؟ زندگی کو ہلکے اور شوخ رنگوں میں دیکھتی ہوں یا پھر      یاسیت کے گہرے رنگوں کو برتنا پسند کرتی ہیں ؟

’’مجھے اپنے طور پر تو Vibrantکلرز پسند ہیں ۔ ویسے کسی ایک رنگ کی بات کی جائے تو مجھے نیلا (Blue)رنگ بہت پسند ہے۔ یہ مجھے بہت Fascinateکرتا ہے ۔ میں تقریباً ہر پینٹنگ میں اس کو استعمال کرتی ہوں‘‘۔

اس وقت زیادہ تر کس طرح کا کام کررہی ہیں ؟

’’زیادہ تر آج کل پورٹریٹس میں کام کرتی ہوں ۔ لوگوں کی Demandsپر ان کے یا ان کے لیے کسی اور کے پورٹریٹس بناتی ہوں ۔ اس طرح میرا کام عام گھروں تک بھی پہنچ رہا ہے اور شائقین فن کا حلقہ بھی بہت وسیع ہوتا جارہا ہے‘‘ ۔

کچھ آرٹسٹ اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ٹریننگ مراکز میں دوسروں کو سکھاتے ہیں ۔ آپ اس طرح کی کوئی سرگرمی کرتی ہیں ؟

’’میں کچھ ایسے بچوں بچیوں کو سپورٹ کررہی ہوں جو اس فن کی جانب آنا چاہتے ہیں مگر غربت کی وجہ سے Affordنہیں کرپاتے ۔ ایسے چند بچے اور بچیاں میرے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ جن کو میں کلرز ، برش اور کوچنگ فراہم کررہی ہوں اور اس کا رزلٹ بہت اچھا نکل رہا ہے ۔ ہمارے بچوں بچیوں میں ٹیلنٹ بہت ہے مگر معاشی اور معاشی دبائو کی وجہ سے ان کو مواقع نہیں ملتے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں ۔ ایسے ہی طبقے سے میں نئے آرٹسٹ Exploreکرکے انہیں آگے بڑھانا چاہتی ہوں‘‘۔

Best Of Luckمریم!

’’آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ سے میرے آرٹ سے متعلق گفتگو کے لیے وقت نکالا ‘‘۔

متعلقہ خبریں