صدرالدین ہاشوانی

July 27, 2017 7:39 pm

پاکستان ہمارے بزرگوں کی بیش بہا قربانیوں کا ثمر ہے پاکستان دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہے بلند و بالابرف پوش کوہسار وں، سنگلاخ پہاڑوں اورذرخیزی پھیلاتے دریائوں، وسیع و عریض سبزہ زاروں کی یہ سرزمین ایک محنتی قوم کی ملکیت ہے ۔جو اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ مملکت خداداد پاکستان نے کچھ ایسے گوہر نایاب عظیم اور باکمال لوگ پیدا کئے ہیں جو اپنے اخلاق ،محبت ،احساس ،جذبات،رواداری اور وطن سے محبت میںہر دور میں،ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے ہیں ۔یہ لوگ اپنے رو یوں ، کردار،عملی اقدامات اور افکار کا جرأت مندی کے ساتھ اظہار کرتے ہیں ۔ہاشو گروپ آف کمپنیز اور ہاشو فائونڈیشن کے سربراہ صدر الدین ہاشوانی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے یہی لوگ ہمارے لئے عطیات خداوندی سے کم نہیں ، یہی شجر سایہ دارپاکستانی عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں ۔صدرالدین ہاشوانی نے ظلم و جبر اور استحصال کی سفاک طاقتوں کا جرأت اور بہادری سے مقابلہ کیا ۔صدر الدین ہاشوانی حب الوطنی کا ایک مینارہ ہیں۔ان کا مقصد حیات پاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور عالمی سطح پر سربلندی ہے ۔

دنیا بھر میں ہو ٹلنگ انڈسٹری کے رہنما ء کی حیثیت سے شہرہ آفاق شہرت رکھنے والے صدر الدین ہا شوانی کی ذات میں سچ گوئی رچی بسی ہے ۔وہ پاکستانی عوام کے لئے درد مند دل رکھنے والے انتہائی مخلص انسان ہیں۔فلاحی کاموں میں ان کی صاحبزادی بھی ان کی ہم قدم ہیں۔ہا شوانی صاحب ملک و قوم کی بہتری کیلئے اپنے جذباتی لگائو سے ایک لمحے کیلئے بھی غافل نہیں رہتے ۔کبھی بھی، کہیں بھی بات اگر ملکی مفاد ات کے خلاف ہو تو ان معاملات پر وہ کسی قیمت پر سمجھو تہ نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں تاخیر نہیں کر تے خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔صدرالدین ہاشوانی ذاتی ترقی پر خوش ملک میں رائج جمہوری نظام ،کرپشن اور لوٹ مار اور ملکی ترقی کے سکوت پر افسردہ ہیں۔ بقول ان کے پاکستان نے ہمیں عزت، دولت اور پہچان دی ۔آج وطن کی مٹی ہر پاکستانی سے اپنے قرض کا تقاضا کر رہی ہے ۔میںچاہتا ہوںکہ امید اور رجائیت کی وہ کرن جس سے میرامن منور ہے نوجوانوں کوایک بہتر پاکستان اور روشن مستقبل کی نوید سے ہمکنا ر کرے ۔ایک ایسا بہتر پاکستان جہاں 20کروڑ انسان عادلانہ ،صاف ستھرے اور خوشحال پاکستان کے لئے سرگرم عمل ہوں ،کیونکہ یہ ان کا استحقاق ہے ۔

ما ہنامہ’’ انداز جہاں ‘‘نے ’’ہاشوانی گروپ آف کمپنیز ‘‘اینڈ ’’ہا شو فائو نڈ یشن‘‘ کے روح رواںصدرالدین ہا شوانی سے اپنے قارئین کے لئے خصوصی بات چیت کی ہے ،جو عزم وحوصلے اور مثبت طرز فکر اور کامیاب زندگی کے زریں اصولوں کے علاوہ ان کی زندگی میں دردمندی کے احساسات کو اجا گر کرتی ہے۔

صدر الدین ہا شوانی نے کہا کہ بحیثیت پا کستانی ہمیںیہ بات سوچنی چاہئے بلکہ اپنا محاسبہ بھی کرنا چاہیے کہ ہم نے جن لو گوں کو منتخب کیا وہ حق حکمرانی رکھتے بھی ہیں یا نہیں ؟کیوں کہ پا کستان کسی ایک شخص کی جا گیر نہیں ہے ۔یہ ملک ،یہاں بسنے والے20کروڑپاکستانیوں  کا ہے اس پر سب کا برابر حق ہے ۔ہمارے یہاں جس طرز حکمرانی کا نا م جمہوریت ہے وہ تجارت کی شکل اختیا ر کر چکی ہے۔ حکمران کرسی حا صل کرنے کیلئے کروڑوں خرچ کرتے ہیں اور اربوں کماتے ہیں ۔اور ملک دن بدن آئی ایم ایف ،ورلڈبینک ،ایشین بینک کے قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جارہا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ملک کو 14,15  صوبوں میںتقسیم کردیا جائے لیکن یہ تقسیم لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر ہو نی چاہیے اور ان صوبوں کو حکمرانی کے اختیارات دینے چا ہئیں ملک میں رائج موجود ہ سسٹم ناکام ہوچکا ہے۔ آئین کے مطابق سسٹم میںاصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

صدرالدین ہا شوانی نے کہاکہ اس کرپٹ نظام اور حکمرانوں کے خلاف حق اور سچ کی بات کریں تو آپ کو سچ بولنے کی پاداش میں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ میں نے ایک کتاب لکھی (the truth prevails)جس میں نے اس وقت کی حکومت اور سابقہ حکومتوں کا موازنہ کیا ۔جس پر مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملیںاور مجبوراًمجھے فیملی کے ساتھ ملک چھوڑنا پڑا ، یہ میرے سچ بولنے کی سزا تھی۔ بات یہ ہے کہ اگر خطرات آپ کی ذات تک محدود ہوں تو آپ اپنے یقین تک تو اس کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن با ت آپ کے گھرانے تک جانے کا اندیشہ ہوتو پھر سو چنا پڑتا ہے ۔میں نے 6 سال اس ملک کے حکمرانوں کے باعث جلا وطنی میں گزارے اور وہیں سے بیٹھ کر اپنا کاروبار دیکھتا رہا ۔یہ بتانا ضروری سمجھتاہوں کہ اگر میں چاہتاتو وہاں اپنا مکان لے سکتا تھا لیکن میں نے یہ عرصہ کرائے کے مکان پرگذارا ،میرا ایمان ہے کہ پا کستان میرا وطن ہے میں نے پاکستان میں جنم لیا اور زندگی کی آخری سانس بھی یہیں لوں گا پاکستان نے مجھے سب کچھ دیااور آج میں جو کچھ بھی ہوں پاکستان کی بدولت ہوں ۔ مجھے افسوس ا س بات کا ہے کہ پاکستان میں میرے نہ ہونے سے ہاشوفائونڈیشن کا رفاہی کا م متاثر ہوا بہرحال میری بیٹی اب اس پر تیزی سے کام کررہی ہے جو زر کثیر سے ہاشو فائونڈیشن کے کام کو از سرے نو دیکھے گی اور فعال کرے گی ۔

صدرالدین ہاشوانی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا انحصار تعلیم اور صحت کے مضبوط ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنی ہی فکر کی اور کبھی عوامی مفادات کے با رے میں نہیں سوچا ،آپ خو د دیکھیں ہمارے یہاںنظام تعلیم کہاں کھڑا ہے ؟ صحت کے شعبے میں آپ نے کون سے کا رنا مے انجام دیئے ہیں ؟ ہما رے یہا ں تعلیم یافتہ اور ہنر مند نو جوانوں کی جو کھیپ تیا ر ہو رہی ہے ہم انہیں کہا ں ایڈ جسٹ کریں گے ؟اس کیلئے ہم نے کون سے اقدامات کئے ہیں ؟لا زمی بات ہے کا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا جب ان نو جوانو ں کو اپنے ملک میں کام کرنے کے مواقع میسر نہیں آئیں گے تو ہمارایہ قیمتی اثاثہ دیگر ممالک کا رخ کرے گااور ہم ان کی اعلیٰ صلاحیتوں سے استعفادہ  حاصل نہیں کر سکیں گے ۔

انتخابی مہم اور انتخابی نظام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ دھاندلی کا ایک مضبو ط اور منظم سسٹم ہے جس میں ایک شخص قبل از وقت بتا سکتا ہے کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گااور پانچ سال کیلئے حکمرانی کا حق کس کے حصے میں آئیگا ۔ہما رے یہاں جمہوریت کی شکل میں صلاحیتوں اور وسائل کابے دریغ زیاںہوتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں بد قسمتی سے جاگیر دارانہ نظام آج بھی زندہ اور قائم ہے ایسے الیکشن جس کے نتائج سے ہر شخص پہلے سے ہی آگاہ ہو بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ جس الیکشن کے نتائج پہلے سے ہی مرتب کر لئے جائیں ایسا نظام سرمائے اور وقت کازیاں ہے صدرالدین ہاشوانی نے زور دیکر کہا کہ پاکستان میں جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے ہمارے یہاں سیاست ایک

منا فع بخش کا روبار بن چکی ہے ۔ سیا ست کے اس کا روبارمیں لو گ ننگے پائوں آتے ہیں اور ارب پتی بن جا تے ہیں اس بارے میں آپ کو اپنی ایک مثال بتاتا ہوں 1977کی بات ہے الیکشن میں میرا عزیز اُمید وار تھا میں اس کے لئے اپنا ووٹ کا سٹ کرنے گارڈن کراچی کے علاقے میںواقع پولنگ اسٹیشن گیا وہاں طویل قطار لگی ہوئی تھی خیر میں بھی لا ئن میں کھڑا ہو گیا لیکن جب میری باری آئی توپولنگ افسر نے بتایا کہ آپ کا ووٹ تو کا سٹ ہو چکا ہے اس کے بعد میں کبھی و وٹ ڈالنے نہیں گیا ہاشوانی صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری سسٹم بنیا دی طور پر ایک ایسا دھوکا ہے جس میں حکومت ملک اور عوام کے سا تھ فراڈ کر تی ہے اور اس کیلئے اپنا کھیل کھیلتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں جمہوریت ایسی طرز حکمرانی کا نام ہے جوعوام کیلئے ،عوام کے ذریعے اور عوام کی ہو تی ہے لیکن ہمارے یہاں یہ چند رئیس شخصیا ت اور خا ندانو ں کی میراث بنی ہوئی ہے جو اس سے پو را پورا فائدہ اٹھا تے ہیں ۔اپنی جیبیں بھر تے ہیںان کی تمام تر توجہ اپنی جا ئیدادیں بڑھا نے پر مرکو ز ہو تی ہے ۔

صدرالدین ہاشوانی نے کہا پاکستان کے حالات ساز گار ،حکمرانوں کے عزائم مخلصانہ اور اقدامات عوام دوست اور ریاست نواز ہوتے توا س مملکت کے عوام کی زندگی دیگر ترقی یافتہ مما لک کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسودہ اور خوشحال ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی بھی صورتحال خوشگوار نہیں رہی اور اسکی بنیادی وجہ کرپشن ہے انہوں نے کہاکہ میرا ایمان ہے کسی بھی ملک کی ترقی خوشحالی کا انحصار شفافیت پر ہوتا ہے۔شفافیت ہی کی کوکھ سے تعلیم ،صحت ، ترقی اورخوشحالی کے فروغ کے مواقع جنم لیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاستدان موت کو بھول چکے ہیں ان کے دل سے اللہ پر یقین بھی ختم ہو چکا ہے اور خوف خدا نام کی کوئی چیز ان کے پا س باقی نہیں رہی کیونکہ اگر ان کے دل میں اللہ اور موت کا یقین ہو تا تو یہ عوامی خدمت کو اپنا شعار بناتے ۔

ایک سوال کے جواب میں صدرالدین ہا شوانی نے کہا کہ بحالت مجبوری مجھے 6سال بچوں کے سا تھ دبئی میں رہنا پڑا لیکن میرا دل پاکستان میں لگا ہوا تھا۔ دبئی میں قیام کے دوران میںکئی مرتبہ پا کستان آیا اور اپنے ہی ہو ٹل میں ٹھہرا بہر حال میں مستقل طور پر پا کستان آگیا ہوں انہوں نے بتایا کہ ان کے پا کستان میں قیام کے دوران میر پور آزاد کشمیر کے کمشنر صاحب نے مجھ سے میر پور میں ایک ہو ٹل کی تعمیر کی درخواست کی تھی جس پر میں نے ہوٹل کی تعمیر کا کا م شروع کیا تھا لیکن پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی حکو مت کی جانب سے اچانک تعمیر کا کام رکوادیا گیا ایسا اس وقت کیا گیا جب ہوٹل کی نہ صرف بیسمنٹ مکمل ہو چکی تھی بلکہ تعمیر کا کا م آخری مراحل میں تھا جس کے نتیجے میں دوسال تک ہو ٹل کا کام رکا رہا۔ ہا شوانی نے کہا کہ میں نے زندگی میں ہمیشہ سچ بولا ہے اور آخری سانس تک اپنے اس اصول پر کا ر بند رہوں گا ۔ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیںڈرتا ،بچپن میں ماں کی طرف سے سچ مجھے وراثت میں ملا اور بچپن ہی سے سچ بولنا میری سرزشت میں شامل ہے ۔چاہے کوئی میری تعریف کرے یا برائی کرے میری زندگی کا ایک یہ بھی اصول رہا ہے کہ میں نے دولتمند اور با اثر افراد کے مقابلے میں ہمیشہ غریب لو گوں کا سا تھ دیا ہے اوردیتا رہوںگا۔

ایک سوال کے جواب میں ہا شوانی صاحب نے بتایا کہ پاکستان میں مستقل سکونت کے بعدحیدر آباد ،ملتان اور میر پور خاص میں چار نئے ہوٹل بنانے کا منصوبہ بنا یا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں ایسا کیوںنہ کروںیہ دولت میں نے پا کستان سے کمائی ہے اسے پا کستان میں بہتری پر ہی خرچ کروں گا میں نے اپنا سب کچھ پا کستان کیلئے وقف کیا ہے اور ایسا کر کے ہی میںاپنے ضمیر کے سامنے سر خرو ہو سکتا ہوں

ملک میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جناب صدر الدین ہاشوانی کا کہناتھا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ حکومت بجلی ، گیس اور تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے موجو د قدرتی وسائل سے استعفادہ کیو ں نہیں کرتی ۔آخر حکو مت ان لا زمی اور بنیا دی اشیا ء کے حصول کیلئے برآمدات پر انحصار کیوں کئے ہوئے ہے ۔حالانکہ پا کستان کی سر زمین لامحدود قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔پاکستان اللہ کی جانب سے ہمیں دیا گیا ایسا تحفہ ہے جس میں چار خو بصور ت موسم ہیں ۔اس کے علاوہ شفاف چشمے،نہری نظام اور دریا ہیں ہمارے پا س سمندر اور ساحل ہے ،دنیا کے دو بلندترین پہا ڑ کے ٹو اور ہمالیہ پاکستان میں ہیں اور محنت و مشقت کرنے والی جفا کش قوم ہے لیکن با ت یہ ہے کہ ہم کر کیا سکتے ہیں ؟ہم تو صرف کہہ ہی سکتے ہیں کیوں کے ہم نے خو د ایسے نہ اہل لوگوں کو منتخب کیا جو صرف اقتدار کے مزے لو ٹ رہے ہیں ۔

ہا شوانی صاحب نے کہا کہ سیاست دانوں سے تنگ ،دہشت گردی کرپشن ،لوٹ مار ،بے روزگار ی اور مصائب کے ڈھیر پر بیٹھی قوم کے لئے پاک فو ج امید کی آخری کرن ہے پاک فوج ہی ملک میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے اور کر رہی ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس ضمن میں ایسے کئی انقلابی اقدامات کئے ہیں جن پر میں ان کو سیلوٹ کر تا ہوں انہوں نے نظام کو منظم اور موثر بنانے کے لئے جو قدم اٹھایا ہے فوج ہی وہ واحداورمنظم ادارہ ہے جس کے پا س ذرائع اور عمل در آمد کرنے کیلئے افواج پا کستان کی صورت میں با ہمت اور با عمل افراد پر مشتمل ٹیم مو جو د ہے اگر ہمارا عدالتی نظام بھی فوج کی طرح مظبوط اور مو ثر ہوجائے تو پاکستان ترقی کی منازل بڑی تیز ی سے طے کر سکتا ہے ۔

نو جو انوں کیلئے اپنے پیغام میں ہا شوانی صاحب کا کہناتھا کہ آج کی نوجوان نسل پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔مو جو دہ صورتحال میں کسی مرحلے پر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہو تا ہے کہ ہماری نو جو ان نسل اس قدر ذہین اور طاقتور ہے مگر بد قسمتی سے انہیں اپنے جو ہر دکھا نے کے مواقع میسر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے پاک فوج کے سربرا ہ جنرل راحیل شریف نے روشن پاکستان کی بنیاد ر کھ دی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کا مستقبل تابنا ک ہے ۔

متعلقہ خبریں