‘ریپ ملزمان کو پھانسی دینے کے بجائے ان کے اعضا کاٹے جائیں، بشریٰ انصاری

September 14, 2020 11:46 am

ویب ڈیسک :: چند روز قبل صوبہ پنجاب میں موٹروے پر رات گئے مدد کی منتظر خاتون کو بچوں کے سامنے 2 ملزمان کی جانب سے ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنائے جانے پر ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کرنے سمیت ملزمان کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ زیادہ تر افراد ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم کئی افراد کا ماننا ہے کہ پھانسی دینا آسان سزا ہے، ایسے درندوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔
کچھ سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات نے بھی ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی ہے اور ایسی شوبز شخصیات میں سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری بھی شامل ہیں، جن کا ماننا ہے کہ پھانسی دینا چھوٹی سزا ہے۔
بشریٰ انصاری نے ملک میں بچوں اور خواتین کے بڑھتے ریپ واقعات کے حوالے سے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ ریپ ملزمان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ وہ باقی زندگی تڑپتے رہیں اور نشان عبرت بھی بنیں۔بشریٰ انصاری نے اپنی پوسٹ میں وضاحت کی کہ پھانسی ایک چھوٹی سزا ہے اور ریپ ملزمان کے ہاتھ پاؤں سمیت وہ اعضا کاٹ دیے جائیں جن سے وہ بچوں اور خواتین کے روح تک کو تڑپا دیتے ہیں۔
اداکارہ نے لکھا کہ ریپ ملزمان کے جسمانی اعضا کاٹ کر انہیں رحم کے قابل اور دردناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے، تاکہ وہ جب تک زندہ رہیں ریپ کی شکار خواتین کی طرح تڑپتی زندگی گزاریں اور ہر وقت عذاب کا سامنا کریں۔انہوں نے ریپ ملزمان کو ایسی عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا کہ باقی ملزمان انہیں دیکھ کر سبق سیکھیں۔
بشریٰ انصاری کے مطابق ملزمان کے جرائم سے خواتین و بچے اور ان کے والدین ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں، اس لیے ایسا گھناؤنا کام کرنے والوں کو بھی اس طرح کی سزا دی جائے کہ وہ زندہ رہ کر ہر لمحے موت کی زندگی گزاریں۔ساتھ ہی انہوں نے مذہب اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور عزت کے بدلے عزت کا فارمولہ اختیار کیا جائے۔
بشریٰ انصاری نے اپنی پوسٹ میں عالم دین مولانا طارق جمیل کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ریپ واقعات میں ملک و قوم کا ان کے ساتھ کی ضرورت ہے، وہ مذکورہ معاملے پر آگے آکر دھرنا دیں اور آواز بلند کریں۔واضح رہے کہ موٹروے گینگ ریپ واقعہ 10 سمتبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں رات گئے پیش آیا تھا۔

View this post on Instagram

Thinking wat to ask n what to think..just want the rapist to be alive..not to be hanged..they should live the rest of their lives , with the pain n helplessness with broken legs broken arms and with out the organs which destroy women and their souls..They should be alive to witness the hatred and pain of dying everyday like the rape victims and acid burnet women..like those parents who die every nite n every day..after their innocent boys n baby girls are brutal death..I demand and strongly demand to.cut and throw their sickness tools …and make them.impotent..n break their legs n hands so that they just become a symbol for all others who are going to do this today tomorrow or day after.Because they will keep doing this until they don't see these results.PHANSI IS JUST A FEW MINUTES PUNISHMENT.BUT THEY SHUOLD BE A REAL "IBRAT" KA NISHAN..BUSSS BIHAT HOGAYA…BUSSSSSSS…Islam ki boat karty hain to practical banain.aankh k badly ankh.. to izzat or zillat k badly zillat…pl maulana Tariq Jameel.koi dharna koi ehtejaj ap bhi to Karen…ap ki yahan bohat zuroorat hay..boliayyyyy…please..

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra) on

متعلقہ خبریں