کالجوں کا بجٹ، ڈی ڈی او پاورز کے اختیارات پرنسپلز کے حوالے

November 25, 2020 2:02 pm

کراچی:جدت ویب ڈیسک: صوبائی محکمہ کالج ایجوکیشن نے کراچی سمیت سندھ بھر کے 450 سے زائد سرکاری کالجوں کے بجٹ کے استعمال ڈی ڈی او پاورز کے اختیارات غیر متعلقہ افراد سے لے کر متعلقہ پرنسپلز کے حوالے کردیے ۔صوبائی محکمہ کالج ایجوکیشن نے کراچی کے سرکاری کالجوں کا بجٹ ٹھکانے لگانے سے متعلق ثبوت سامنے آنے کے بعد معاملے پر جزوی کارروائی کی ہے اور کراچی سمیت سندھ بھر کے 450 سے زائد سرکاری کالجوں کے بجٹ کے استعمال ڈی ڈی او پاورز کے اختیارات غیر متعلقہ افراد سے لے کر متعلقہ پرنسپلز کے حوالے کردیے ہیں، فیصلے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی دوسرے کالج کا ایڈیشنل چارج رکھنے والے پرنسپلز ہی متعلقہ کالج کی ڈی ڈی آو پاورز اپنے پاس رکھیں گے ۔دوسری جانب اب تک سرکاری کالجوں کے بجٹ میں بے قاعدگیاں کرنے والے ڈی ڈی اووز اور انھیں بجٹ کے استعمال کا اختیار دینے والے ڈائریکٹر کالجز کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سامنے نہیں آسکی۔غیرقانونی طور پر ڈی ڈی آو کا اختیار غیر متعلقہ افراد کو دینے والے ڈائریکٹر کالجز حافظ عبدالباری اندڑ کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی تحقیقات شروع ہوسکی ہیں جبکہ اس بات کی انکوائری بھی شروع ہیں کی جاسکی ہے کہ متعلقہ کالجوں کا بجٹ کہاں اور کیسے خرچ کیا گیا ہے جس سے کالج پرنسپلز اور اساتذہ میں یہ تاثر عام ہے کہ شاید سیکریٹری کالجز باقر عباس نقوی معاملے پر جزوی کارروائی کرکے اسے دبانے اور ڈائریکٹر کالجز کے اس عمل پر پردہ ڈالنا چارہے ہیں۔ایک کالج پرنسپل کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ کراچی کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ اور پرنسپلز کے درمیان یہ تاثر عام ہے کہ ڈائریکٹر کالجز کراچی حافظ عبدالباری اندڑ سیکریٹری کالجز کے قریب ترین افسر ہیں اور ڈی ڈی آو سے متعلق گزشتہ تمام نوٹیفیکیشنز کے اجرا میں سیکریٹری کالجز کی مرضی شامل رہی ہے تاہم اب معاملہ طشت از بام ہونے کے بعد انھیں ڈی ڈی آو شپ تو پرنسپلز کے حوالے کرنی پڑی لیکن ڈائریکٹر کالجز کے خلاف تحقیقات اور ان کے تبادلے کے حوالے سے وہ محتاط ہی رہیں گے ۔

متعلقہ خبریں