اس فروٹ کو جاپانی پھل کیوں کہا جاتا ہے؟

October 9, 2019 4:23 pm

کراچی جدت ویب ڈیسک ::ایک ایسا پھل جو اس موسم میں کافی زیادہ نظر آتا ہے جسے جاپانی پھل کے نام سے جانا جاتا ہے مگر اردو میں اسے املوک کا نام دیا گیا ہے، جبکہ انگلش میں persimmon کہا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ چین سے تعلق رکھنے والا پھل ہے جس کی کاشت ہزاروں سال سے ہورہی ہے اور اب دنیا بھر میں اس کی مختلف اقسام کو اگایا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر اسے جاپانی پھل کیوں کہا جاتا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں اگائی جانے والی اس کی ایک قسم Diospyros kaki کی بہت زیادہ مقبولیت ہے جو لگ بھگ دنیا بھر میں اگائی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسے جاپانی پھل کا نام بھی دیا گیا ہے۔
نارنجی یا ٹماٹر جیسا یہ پھل اپنی مٹھاس اور شہد جیسے ذائقے کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور جیسا درج کیا جاچکا ہے کہ اس کی سیکڑوں اقسام اب دنیا بھر میں موجود ہیں، جن میں چند زیادہ مقبول ہیں۔
اس پھل کو تازہ، خشک یا پکا کر بھی کھایا جاتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اس کی جیلی، مشروبات، پائی، سالن اور پڈنگ وغیرہ بھی تیار ہوتے ہیں۔
یہ صرف مزیدار ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں نیوٹریشن یا غذائی اجزا بہت زیادہ ہیں جو متعدد طریقوں سے صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ درج ذیل میں املوک یا جاپانی پھل کے فوائد جان سکتے ہیں تاکہ اس موسم کی اس سوغات کو اپنی غذا کا حصہ بناسکیں۔
غذائی اجزا سے بھرپور
اگرچہ اس کا حجم زیادہ نہیں ہوتا مگر اس میں غذائی اجزا کی مقدار متاثر کن ہے، درحقیقت ایک پھل میں 118 کیلوریز، 31 گرام کاربوہائیڈریٹس، ایک گرام پروٹین، 0.3 گرام چکنائی، 6 گرام فائبر، روزانہ درکار وٹامن اے کی 55 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن سی کی 22 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن ای کی 6 فیصد جبکہ وٹامن کے کی 5 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 6 کی 8 فیصد مقدار، پوٹاشیم کی روزانہ درکار 8 فیصد مقدار، کاپر کی درکار 9 فیصد جبکہ میگنیز کی 30 فیصد مقدار جسم کو دستیاب ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ پھل وٹامن بی 1، وٹامن بی 2، فولیٹ، میگنیشم اور فاسفورس کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے اور کم کیلوریز کے ساتھ فائبر کی موجودگی اسے جسمانی وزن میں کمی کے لیے اچھا پھل بناتی ہے
وٹامنز اور منرلز کے علاوہ اس میں متعدد نباتاتی مرکبات جیسے فلیونوئڈز اور کیروٹین وغیرہ موجود ہوتے ہیں، جو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا طاقتور ذریعہ
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس میں نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتے ہیں، اینٹی آکسائیڈنٹس خلیات کو تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے مالیکیولز کو نقصان پہنچتا ہے جن کو فری ریڈیکلز بھی کہا جاتا ہے۔
یہ تکسیدی تناؤ مختلف امراض جیسے امراض قلب، ذیابیطس، کینسر اور دماغی عوارض جیسے الزائمر وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے، مگر اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں جیسے جاپانی پھل کا استعمال اس تکسیدی تناؤ سے لڑنے میں مدد دے کر ان مخصوص امراض کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔
فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں بھی امراض قلب، عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے جسمانی تنزلی اور پھیپھڑوں کے کینسر سے تحفظ کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں اور اس پھل میں وہ بھی جسم کو ملتا ہے۔
بیٹا کیروٹین کی موجودگی کے باعث بھی یہ پھل امراض قلب، مختلف اقسام کے کینسر اور میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس یا بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بیٹا کیروٹین کا زیادہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔
دل کی صحت کے لیے ممکنہ طور پر فائدہ مند
امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں اور کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، خوش قسمتی سے بیشتر اقسام کے امراض قلب کی روک تھام مختلف عناصر کا خیال رکھ کر ممکن ہے جیسے ناقص غذا سے دوری۔
جاپانی پھل میں موجود مختلف اجزا کا امتزاج اسے دل کی صحت کے لیے ایک مثالی انتخاب بناتا ہے، جیسا اوپر درج بھی کیا جاچکا ہے کہ دل کی صحت کے لیے اس کے اجزا کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
مگر یہ بھی جان لیں کہ فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں بلڈ پریشر اور نقصان دل کولیسٹرول کی سطح کو کم کرکے دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں جبکہ ورم بھی کم ہوتا ہے، جبکہ اس میں موجود ایک اور جز tannins بھی بلڈپریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے۔
جسمانی ورم میں کمی لاسکتا ہے
امراض قلب، جوڑوں کے امراض، ذیابیطس، کینسر اور موٹاپا سب کا تعلق دائمی ورم سے جوڑا جاتا ہے۔مگر ورم کش مرکبات سے بھرپور غذاؤں کا استعمال اس ورم کو کم کرکے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔
جاپانی پھل وٹامن سی کے حصول کا اچھیا ذریعہ ہے جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ایک پھل سے روزانہ درکار 22 فیصد مقدار حاصل کی جاسکتی ہے، یہ وٹامن خلیات کو فری ریڈیکلز سے بچانے میں کردار ادا کرنے کے ساتھ جسم کو ورم سے لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ غذائی شکل میں وٹامن سی کا زیادہ استعمال ورم سے ہونے والی بیماریوں امراض قلب، مثانے کے کینسر اور ذیابیطس وغیرہ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
جاپانی پھل میں کیروٹین، فلیونوئڈز اور وٹامن ای بھی موجود ہیں اور یہ سب اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی ورم سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
فائبر سے بھرپور
جسم میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خصوصاً نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول سے امراض قلب، فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔
پانی میں حل ہوجانے والے فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ جاپانی پھل زیادہ فائبر والا پھل ہے جو ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کم کرسکتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو بالغ افراد جاپانی پھل میں موجود فائبر سے بننے والی کوکی بار 12 ہفتوں تک دن میں 3 بار کھاتے ہیں، ان میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔
فائبر آنتوں کی سرگرمیوں کو بھی معمول پر لاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔
اس پھل میں موجود فائبر کاربوہائیڈریٹ کو ہضم کرنے اور شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست کرتے ہیں، جس سے بلڈ شوگر لیول کی سطح بڑھنے سے روکنا ممکن ہوپاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی میں حل ہونے والے غذائی فائبر کا استعمال بڑھانا بلڈ شوگر لیول کی سطح میں نمایاں بہتری آتی ہے، جبکہ فائبر آنتوں میں موجود فائدہ مند بیکٹریا کو ایندھن پہنچانے میں مدد دیتا ہے، جس سے نظام ہاضمہ اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
صحت مند بینائی کے لیے معاون
جاپانی پھل میں وٹامن اے اور ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہیں جو آنکھوں کے لیے صحت کے لیے ضروری ہیں، وٹامن اے بینائی کے مختلف افعال میں مدد دیتا ہے جبکہ اس پھل میں موجود ایک پروٹین rhodopsin بھی معمول کی بینائی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ جاپانی پھل میں لیوٹین اور zeaxanthin بھی ہوتے ہیں جو کیروٹین اینٹی آکسائیڈنٹس ہیں جو صحت مند بینائی کے لیے فائدہ مند ہیں، ان دونوں اجزا سے بھرپور غذا آنکھوں کے مخصوص امراض کا خطرہ ممکنہ طور پر کم کرسکتے ہیں جیسے عمر بڑھنے سے پٹھوں میں آنے والی کمزوری، جس کے نتیجے میں قرینہ متاثر ہوتا ہے اور بینائی سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں