میرا رنگ سفید ہو جائے الٹا میری جلد ہی جل گئی۔شروتی شرما

July 23, 2019 1:59 pm

جدت ویب ڈیسک ::شروتی شرما(فرضی نام) نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’میں اپنی شادی کے روز بہت بری لگ رہی تھی۔ اس دن میں انتہائی بدصورت نظر آ رہی تھی۔‘ وہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے نزدیک رہتی ہیں۔ بہت ساری ایشیائی خواتین کی طرح انھوں نے بھی شادی کے دن سے قبل اپنی جلد کو نکھارنے کی ٹھانی۔وہ امید کر رہی تھیں کہ شادی کے دن تک ان کی جلد خوبصورت اور چمکدار ہو جائے گی۔
انھوں نےبتایا کہ ’شادی سے دو ماہ قبل میں ایک سیلون میں گئی جنھوں نے مجھے ایک رنگ گورا کرنے والی کریم تھما دی۔ جب میں نے اس کریم کو ایک ہفتے تک استعمال کیا تو میرا چہرا جھلس سا گیا۔‘
گہرے دھبے
31 سالہ شروتی نے اپنی شادی سے پہلے مہمانوں کی فہرستوں اور خریداری سے متعلق منصوبہ بندی کرنے کے بجائے اپنا وقت اور پیسہ اپنی جلد کے علاج پر صرف کیا۔
‘پہلے میری جلد پر سفید زخم پڑے جو بعد میں گہرے دھبوں میں تبدیل ہو گئے
رنگ گورا کرنے والی جو کریم انھیں اس سیلون سے ملی تھی وہ سری لنکا میں منظور شدہ مصنوعات میں سے نہیں تھی۔ اسے غیر قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے خریدا گیا تھا۔
ایک سال کے علاج کے باوجود گہرے نشانات اب بھی پریرا کی گردن پر نمایاں ہیں۔ ایسی کئی شکایات کے بعد اب سری لنکن حکام غیر منظور شدہ رنگ گورا کرنے والی کریمز کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔
مارکیٹ
لیکن یہ مسئلہ صرف سری لنکا میں موجود نہیں ہے۔ ایشیا اور افریقہ میں لاکھوں افراد بالخصوص خواتین گوری رنگت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
سنہ 2017 میں رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ کی قدر کا تخمینہ چار ارب آٹھ کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا اور اندازہ ہے کہ سنہ 2027 میں یہ دگنا ہو کر 8.9 ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔
ان مصنوعات کی طلب بنیادی طور پر ایشیا اور افریقہ کے متوسط طبقے کے صارفین سے آتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق افریقہ کی 10 میں سے چار خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں
ان مصنوعات میں صابن، کریمیں، سکرب، ٹیبلٹس اور یہاں تک کہ ٹیکے بھی شامل ہیں جن کے ذریعے جلد کا رنگ پیدا کرنے والے میلانن نامی خلیے کی پیداوار سست کی جا سکتی ہے اور یہ طریقہ انتہائی مقبول ہیں۔
عالمی ادارہءِ صحت کے مطابق افریقہ کی 10 میں سے چار خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔
نائجیریا کی 77 فیصد خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کر کے افریقہ میں سرِ فہرست ہیں۔ اس کے بعد ٹوگو کی 59 فیصد اور جنوبی افریقہ کی 35 فیصد خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔
ایشیا میں 61 فیصد انڈین اور 40 فیصد چینی خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔
عالمی چیلنج
جوں جوں ان مصنوعات کی طلب بڑھ رہی ہے ویسے ہی ان سے متعلق مسائل بھی بڑھ رہے ہیں

Related image

کریم

منیلا

متعلقہ خبریں