کراچی مردم شماری میں شہر کی آبادی کم ظہار کی گئی ہے

February 10, 2021 11:00 am

مصنف - محمد یاسین صدیقی

2017ئ میں ملک بھر میں مردم شماری ہوئی۔ مردم شماری کے حوالے سے شکوک پائے جاتے ہیں اور سندھ حکومت کی کابینہ نے بھی مسترد کیا اور ایم کیو ایم نے بھی مردم شماری کو مسترد کیا اور انہوں نے پی ٹی آئی سے اتحاد کے بعد سے ہی کراچی میں نئی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کر چکی ہے جس کی وجہ سے مردم شماری کے نائج متنازع ہوگئے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے مردم شماری کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے۔ خاص کر کراچی کی آبادی کا مسئلہ ہے جو کہ دو کروڑ سے بھی کم ہے جبکہ کراچی کی موجودہ آبادی تین کروڑ کے لگ بھگ ہے جس کی تصدیق نادرہ ریکارڈ سے کی جا سکتی ہے کیونکہ کراچی میں مل کو دیگر صوبوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں کی آبادی بھی کم ظاہر کی گئی ہے جس کی وجہ سے سندھ کابینہ نے 2017ئ کی مردم شماری کے نتائج مسترد کردیئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کے تین کروڑ عوام وزیر اعظم عمران خان اور اداروں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ورلڈ بینک سے جو قرضے لئے جارہے ہیں وہ کئی آبادی کے لئے ہیں۔ جب آبادی ہی درست شمار نہ ہو تو منصوبے کیسے درست بن سکتے ہیں۔ عوام کو جعلی پیکج نہیں درست مردم شماری چاہیے۔ وفاقی کابینہ نے جعلی اور متنازع مردم شماری کی منظوری دے کر کراچی دشمن فیصلہ کیا ہے۔ا س سلسلے میں جماعت کی طرف سے گورنر ہائوس، فوارہ چوک اور شاہراہ فیصل پر زبردست مظاہرہ کیا اور کورنگی بھی حقوق کراچی کے تحت ڈھائی نمبر پر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی ایم کیو ایم وفاق میں حکومت کے ساتھ ہے اس کے باوجود کراچی کے مفادات کے خلاف سیلے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خالد مقبول صدیقی بتائیں کہ اگر ایم کیو ایم کراچی کے ساتھ مخلص ہے تو اس نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافے کے لئے کیوں اتحاد کیا۔ 2017ئ کی مردم شماری متنازع ہوگئی ہے۔ پاکستان کی آئندہ کی منصوبہ بندی، میڈیکل، ڈینٹل اور انجینئرنگ کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلوں کے معاملے بھی متنازع ہوگئے ہیں۔ طلبائ نے احتجاج بھی کیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مردم شماری کے نتائج اور میڈیکل انجینئرنگ کا لجز میں داخلہ پالیسی پر تحفظات کو دور کرے اور اس سلسلے میں بیروزگاری میں ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائے۔ کیونکہ آبادی کم ظاہر ہونے پر کام بھی اسی آبادی کے حساب سے ہوں گے۔ اسکول کالج یونیورسٹی میں داخلوں میں بھی مسائل پیدا ہوں گے اور روزگار کے مواقع پہلے ہی کم ہیں۔ اب مزید کم ہو جائے گے۔ کراچی کا حال بدحال ہوگیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ کراچی کی منتخب بلدیاتی حکومت کو پیکج نہیں دیا ہے۔ کراچی کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اب 2017ئ کی مردم شماری نے بہت برا حال کر دیا ہے کیونکہ شہر کے بہت سے گھروں کو شمار ہی نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی آدھی ہوگئی ہے۔ کراچی میں ہر زبان بولنے والےرہائش پذیر ہیں اور یہاں سندھی، اردو، پنجابی، پشتون اور بلوچوں کی آبادی ہے۔ مگر شہر میں ایڈمنسٹریٹر تک اس شہر کے نہیں ہیں۔ غیر مقامی ایڈمنسٹریٹر کس طرح شہر کے کام کریں گے۔ یہاں کوٹہ سسٹم بھی نافذ کیا گیا ہے جو کہ ہمیشہ ہمیشہ یعنی غیر معینہ مدت تک لیکن شہر کراچی کا40فیصد دیہی 60فیصد کوٹہ پر بھی عمل نہیں ہورہا ہے۔سردیوں کی آمد کے ساتھ جوڑوں کے درد والوں کو مزید تکلیف ہوتی ہے۔ فزیو تھراپی اس کے لئیے مفید ہے اگر صحیح طریقے سے ہورہی ہے۔ فالج، لقوہ، پولیو، جوڑوں اور پٹھوں کا درد، کمر درد، گردن کا درد، کندھوں کا درد، موچ، عرق النسائ کا درد کے اس کے باہر معالج ڈاکٹر سید محمد عامر علی فزیو تھراپی کے ایسے ماہر ڈاکٹر ہیں جو کہ فلاحی اسپتالوں اور کلینک میں کم خرچے کا غریبوں کا علاج کر رہے ہیں۔ پی ای بی ایس آنکھوں کا جنرل اسپتال ناگن چورنگی میں سید محمد عامر عیل فزیو تھراپی کے انچارج ہیں اور بہت اچھے طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ راقم سے ملاقات میں انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ کراچی کی ڈائری کے کالم کے لئے جلد ہی ملاقات کرکے فزیو تھراپی سے متعلق تفصیلی اظہار خیال کریں گے۔ دعا فزیو تھراپی سینٹر اینڈ فٹنس سینٹر ناگن چورنگی کے ڈاکٹر محمد سہیل انصاری نے بھی ڈاکٹر سید محمد عامر علی کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ وہ میرے استاد ہیں۔