خبر کیا خاک امیر شہر کو ہے

February 8, 2021 12:57 pm

مصنف - تحریر: گلزار ملک

جب بھی کشمیر کا نام سنتے ہیں جنگ ، لاشیں، حراستیں ، جبری گمشدگیاں ، حراستی قتل ، املاک کی تباہی و بربادی ، پیلٹ گن سے چھلنی ، بے بینائی لوگ، ظلم وجبر کے سائے میں پلتی ہوئی زندگیاں، لاپتہ شوہروں کی منتظر “نصف بیوہ خواتین”، انتظار میں بیٹھی وہ ماں جس کا بیٹا قابض فوج کے تاریک عقوبت خانوں میں مار دیا گیا، اجتماعی قبریں اور عصمت دری کا شکار زندہ لاشیں ذہن میں آتیں ہیں۔کشمیر جو کبھی ایشیا کا سوئٹزر لینڈ کہا جاتا تھا آج دنیا کے خطرناک ترین تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ سب ظلم و جبر کشمیریوں پر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ حقِ خود ارادیت مانگتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کشمیر سے باہر کے مسلمانوں کو کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنا چاہئے؟ یا ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ کشمیری مسلمان دوسری مسلم قوموں سے ہرگز جدا نہیں۔ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ آج شام، فلسطین اور کشمیر میں دشمن انسانیت کے ظلم وستم کی بھڑکائی ہوئی آگ میں گویا سارے جہاں کے مسلمان جل رہے ہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے بہت سارے فرائض اور حقوق ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرنا، ایک دوسرے کے دک سک میں شریک ہونا اہم فرائض میں سے ہیں۔ اسکے بعد کچھ قصور اپنوں کا بھی ہے۔کشمیر میں مسلمان ہی بستے ہیں لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس طرح انکے حق میں آواز بلند نہیں کر رہے جیسے ہمیں کرنی چاہیے۔موجودہ حکومت نے جب ریاست مدینہ کی بات کی تو بہت خوشی ہوئی کہ اب مظلوم کو انصاف ملے گا۔لیکن سب امیدیں بے سود۔پاکستان سے ہی کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہے۔
5فروری یوم یکجہتی کشمیر کا دن صرف ایک سرکاری چھٹی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1990کو اس وقت ہوا جب قاضی حسین احمد کی اپیل پر اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلی پنجاب میاں محمد نوازشریف نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اپیل کی کہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کی جائے۔ انکی کال پر پورے پاکستان میں 5 فروری 1990 کو کشمیریوں کے ساتھ زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ملک گیر ہڑتال ہوئی اور ہندوستان سے کشمیریوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ اس دن جگہ جگہ جہاد کشمیر کی کامیابی کیلئے دعائیں مانگیں گئیں مگر انتہائی افسوس کیساتھ یہ مسئلہ کشمیر آج بھی اسی صورتحال میں ہے ہر سال 5فروری کو ہم یوم یکجہتی کشمیر منا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے کشمیریوں کیساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے حق ادا کر دیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیا ہمارے ضمیر مردہ ہوگئے ہیں۔؟ یا ہم اپنے اصل کو بھول چکے ہیں روز کئی کئی بچے یتیم ہو جاتے ہیں کتنی ہی بہنیں بیوہ اور کتنی ہی ماوں کی گودخالی ہوجاتی ہیں- کشمیریوں کوٹارچر سیل میں اذیتیں دی جاتی ہیں۔الٹا لٹکا کر کھالیں اڈھیڑی دی جاتی ہیں۔ دانت توڑدیے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے دے دے کر نوجوانوں کو ہمیشہ کے لیے معذور کر دیا گیا۔ جیلوں میں قید نوجوانوں کو زہر دے کر ان کی زندگی کوعبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ ہم اس جبر اور ظلم کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں یہ سوچ کرکہ ہم کیا کرسکتے ہیں اگر یہی نیت رہی ہماری تو ہم کبھی بھی کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہیں بناسکے گے۔ سابق امیر ضلع قصور حافظ نذیر احمد ایڈووکیٹ اور بھائی پھیرو پریس کلب کے سرپرست اعلی ملک عبد الحفیظ شاہد نے اس موقع پر کشمیریوں سے محبت اور اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا کہ مسئلہ کشمیر پر سیاسی و مذہبی جماعت اسلامی اور اسکے امیر سینیٹر سراج الحق مرد قلندر کو اس بات کا بھرپور کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے جب بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ ظلم کی انتہا ہوئی اور موجودہ حکمرانوں کے سامنے کشمیریوں کی آزادی کیلئے نہ صرف ایک جدوجہد کی بلکہ کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم پر جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم ہر حال میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور کشمیر کا حصہ پاکستان کی شہ رگ ہے ان شا اللہ ایک دن کشمیریوں کو آزادی اور پرسکون ماحول میسر آئے گا اور مودی جیسے فرعون ان شا اللہ ذلیل و رسوا ہو کر بربادی تک پہنچے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم یہی سوچتے رہے کہ ہمارے حکمران کچھ کرینگے تو اب تک یہ حکمران کیوں سوئے ہوئے ہیں ہم کو ایک ہونا ہوگا اورکشمیری مسلمانوں کی قربانیاں جلد ان شا اللہ رنگ لانے والی ہیں اورکشمیری شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ،اور انشا اللہ وہ وقت بھی قریب ہے جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔