معاشی استحکام کیلئے نئے سال کا ویژن

January 14, 2021 11:30 am

مصنف - پروفیسر محمد اکبر نور

خداکرے سال 2021 میرے ملک کے معاشی استحکام کا سال ثابت ہو، مگر قوموں کی ترقی کیلئے صرف دعائیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں جب تک اس کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے مسلسل اور انتھک کوشش نہ کی جائے۔ بحیثیت معاشیات کے طالب علم جب میں 1990میں گریجوایشن کررہا تھا تو ہمیں روسٹو کا ایک ماڈل پڑھایا گیا جس میں اس معیشت دان نے ملکوں کی ترقی کے چار پانچ مراحل کی وضاحت کی تھی کہ سب سے پہلے کسی ملک میں ایک روایتی معاشرہ ہوتا جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔ پھر اس میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا ہے اور معیشت قابلِ گزارہ زندگی کے مرحلے سے کاروبار ی مرحلے میں داخل ہوتی ہے اور یوں معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے ملکی پیداوار، آمدنی اور روزگار میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور معیشت کا جہازرن وے پر ڈورنا شروع ہوجاتا ہے ۔ اگراس اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے تو اگلے مرحلے میں یہ ٹیک آف (اڑان بھرنا) کر جاتا ہے اور پھر آخری مرحلے میں ماڈرن ٹیکنالوجی ، نت نئے طریقہ پیدائش اور انسانی صلاحیتوں میں اضافے سے اس اڑان کو مستحکم رکھنا ہوتا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک اس آخری مرحلے کی منزل تک پہنچ چکے ہیں۔ اور ترقی پذیر ملک اس سفر پر گامزن ہیں۔ ہمارے ہی خطے کے کچھ ممالک مثلا چین ، تائیوان ، سنگار پور ، ملائشیا وغیرہ ترقی کی اپنی اڑان بھر چکے اور منزل کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے مگر بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے ہم سنتے چلے آرہے ہیں اور ہر حکومت بھی یہ دعوی کرتی چلی آئی ہے کہ مملکت خدادا کی معیشت بس اب ٹیک آف کرنے کو ہے ۔مگر عملی طور پر ہماری معیشت ایک کے بعد ایک کرائسز کا شکار ہوتی چلی آئی ہے ۔ اس میں سیاسی عدم استحکام ، ذاتی مفادات کی ترجیح اور بدعنوانی جیسے عوامل نے منفی اثرات ڈالے ، یوں ترقی کرنے کی صلاحیت کے باوجود معیشت ترقی نہیں کر پائی ۔ موجودہ حکومت آئی تو امید بندھی تھی کہ شاہد اب ترقی کا دور دورہ ہوگا، مگر ابھی تک کی صورحال کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے بلکہ ترقی کی رفتار بالکل سست پر چکی ہے ۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے سال خام قومی پیداوار کی بڑھوتری کی شرح منفی 0.4%رہی اور موجود ہ سال میں یہ بڑی مشکل سے 2% تک پہنچ پائے گی ۔ اس وقت پوری دنیا کو عالمی وبا کرونا نے اپنی لپیٹ میں لیا ہو اہے اور پوری دنیا کی معیشتیں مند ی کے رحجان کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اللہ کی خصوصی مہربانی ہے کہ اتنی شدت سے اس بیماری کا ہم شکار نہیں بنے جتنی شدت سے دنیا کو اس نے مفلوج کیا ہے۔ اب یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ معیشت کو جلد از جلد بحال کرنے کے اقدامات کرے۔ اور اس کا نئے سال کیلئے ایسا ویژن ہونا چاہیے کہ ملکی معیشت ہمیں اپنے صیحح ٹریک پر گامزن نظر آئے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے حکومتی و نجی شعبہ دونوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر یہ حکومت ہی ہوتی ہے جو ایک ریگولیٹری باڈی کے طور پر ملکی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ لہذا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایسی پالیسیز بنائے جو ترقی کی صیح سمت کا تعین کرسکیں۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے زری و مالیاتی پالیسیز بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ جہاںتک زری پالیسی کا تعلق ہے تو خان حکومت نے کئی اچھے اقدامات کیے ہیں مثلا شرح سود کو کافی کم کیا گیا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ لیکن ابھی بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ بیرونی سرمایہ کار متوجہ ہوں۔ اور وہ سرمایہ کار جو ملک چھوڑ کر دبئی ، ملائشیا حتی کہ بنگلہ دیش شفٹ ہوئے ہیں واپس آئیں یہ تبھی ہوگا جب حکومت انرجی مصارف کو کم کرے گی ۔ دہشت گردی ختم کرے گی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے گی ۔ اسی طرح خان حکومت نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو کم کیا ہے۔ جس سے برآمدات میں اضافہ ہوا ۔
ور دارآمدات میں کمی ہونے سے توازن ادائیگی کا کرنٹ اکائونٹ سر پلس ہوا، لیکن یادرہے پچھلے دوسالوں میں کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں ہوئے ہیں جس سے مشینری وغیرہ کم درآمد ہوئی یوں کم درآمدات کا منفی اثر بھی ہوااور ترقی کی شرح سست رہی۔
جہاں تک مالیاتی پالیسی کا تعلق ہے تو حکومت اسمیں مکمل ناکام نظرآتی ہے۔ حکومت نہ تو اب تک اپنے ٹیکس نظام میں بہتری لاسکی ہے۔ نہ ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھا پائی ہے ۔ نہ انفارمل سیکٹر کی ڈکومینٹیشن کر سکی ہے اور نہ ہی ٹیکس چوری کو روک پائی ہے۔ جب تک حکومت اپنی ٹیکس آمدنی نہیں بڑھائے گی قرضوں کی لعنت سے نجات نہیں ملے گی اور ملکی پیداوار کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور اس پر بننے والے سود کی ادائیگیوں کی نظر ہوتا رہے گا ۔ دوسری طرف حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی سوائے پرائم منسٹر ہائوس کے چند گاڑیاں اور بھینسیں بیچ کر کچھ کڑوراکھٹے کر لیے گئے ہیں ۔ حکومت اپنی جو تو انائیاں اپوزیشن کو ہرانے میں ضائع کر رہی ہے اور اس کے وزرا و مشیر ٹاک شوز میں وقت ضائع کرتے ہیں وہی توانائیاں اپنی ڈیلورینس اچھی کرنے پر لگائیں تاکہ عوام کیلئے کوئی آسانیاں پیداکرسکیں ۔ اور یہ تبھی ہوگا جب حکومت مہنگائی کرنے والے مافیاز کے خلاف کریک ڈائون کرے گی، رٹ آف گورنمنٹ بحال کرے گی، بے لاگ انصاف مہیا کرے گی ، ترقی کے پروجیکٹ شروع کر کے روز گار میں اضافہ کرے گی اور اپنی دشمنی اور انا کے رویوں سے بچتے ہوئے صرف اوصرف ملکی مسائل اور رعایا کے دکھوں کو سامنے رکھے گی۔