محکمہ تعلیم سندھ میں ٹیچرز بھرتیوں میں 40فیصد کوٹہ دیا جائے

January 14, 2021 11:26 am

مصنف - محمد یاسین صدیقی

محکمہ تعلیم کیا سندھ حکومت کا ہو یا ڈی ایم سی کراچی کا ہو یہاں ریٹائرڈ ہونے والے ٹیچرز دیگر عملہ میں کئی سالوں سے بھرتیاں نہیں ہوئی ہیں۔ اس طرح بہت سے تعلیمی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کی طرف سے بھی بیروزگار نوجوانوں کے لئے بھی کم اشتہار آرہے ہیں۔ اس طرح ملک میں خاص طور پر کراچی میں نوجوان اعلیٰ ڈگری انجینئرنگ تک کی لے کر بیروزگار پھر رہے ہیں یا ان کو ان کے معیار کے مطابق ملازمت نہیں مل رہی ہے۔ آخر نوجوان جائے تو کہاں جائیں۔ وزیر اعظم عمران خان سے نوجوانوں کو کافی امیدیں ہیں اور نوجوان وفاقی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں اور سندھ کے نوجوان پی پی پی کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ بانی پی پی ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کے لئے کافی اچھے اقدامات کئے۔ پرائیویٹ اداروں تک کو پابند کیا کہ وہ مزدوروں کو ہر صورت میں کم نرخ پر کھانا دیں۔ بونس اور 5 پرسن دیں۔ میڈیکل یعنی علاج و معالجے کے لئے انہوں نے سوشل سیکورٹی اسپتال قائم کیا اور ان کی پنشن کے لئے حکومت پاکستان کا ای او بی آئی ادارہ قائم کیا اور پرائیویٹ اداروں کو پابند کیا کہ وہ ہر مزدور کو ماہانہ رقم اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیشن میں جمع کرائیں تاکہ پنشن اور مزدوروں کی فلاح بہبود کے کام کر سکیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے صوبوں سے ڈیبوٹیشن پر وفاق میں آنے والے اساتذہ کی واپسی روکنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر وفاقی نظامت تعلیمات اساتذہ ک وواپس ان کے اصل محکموں میں بھجوارہی ہے تو یہ عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل سنگل بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ 15 سال کی ڈیپوٹیشن کے بعد بھی دوبارہ اصل محکموں میں بھیجنے میں کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ وفاقی نظامت تعلیمات میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے اساتذہ یہاں پر ضم نہیں ہوئے ہیں۔ صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے اساتذہ کی نشستیں ان کے اصل محکموں میں موجود ہے۔ عدالت نے درخواست خارج کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو اصل محکموں کو واپس بھیجنے پر جاری حکم امتناع بھی ختم کر دیا ہے۔ جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز اور پرائمری اسکول ٹیچرز کے حوالے سے دئیے گئے اشتہار کے معیار پر کہا کہ 6 ہزار ٹیچرز کی اسامیوں میں کراچی میں صرف343 آسامیاں زیادتی ہے۔ یہ بات امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے 6 اضلاع کے لئے صرف343آسامیاں شہریوں کے ساتھ بدترین زیادتی ہے۔ اشتہار کے مطابق باقی آسامیاں صوبے کے دیگر اضلاع سے پر کی جائیں گی جو کہ کراچی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے۔ پیپلز پارٹی طویل عرصے سے کراچی کے شہریوں کے ساتھ اسی طرح سے تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ لوگوں میں جان بوجھ کر احساس محرومی پیدا کر رہی ہے۔ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کوٹہ سسٹم غیر معینہ مدت کے لئے بڑھا دیا ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی سرکاری ملازمتوں میں کراچی کے شہریوں کے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہی ہے۔
سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی ہیں جو کہ باصلاحیت کام کرنے والی شخصیت ہیں وہ ضرور اس مسئلہ پر کام کریں گے۔ ویسے بھی اس بیان کے بعد ایک اور اشتہار ٹیچرز بھرتی کا گریڈ9 سے 14کا آیا ہے۔ انشائ اللہ اس کے ٹیسٹ کے بعد ہر ایک سے انصاف ہوگا۔
میں نے اپنے کالم میں دو دفعہ ڈی ایم سی وسطی تعلیم نے پنشن اور بقایاجات کے لئے کالم لکھا اور ایڈمنسٹریٹر صوبائی وزیر بلدیات سے اپیل کی تھی کہ یہاں کے ملازمین ریٹائرد ہوئے ایک سال ہونے والا ہے۔ نہ ان کے بقایاجات ملتے ہیں اور نہ پنشن جاری ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں راقم اپنی اہلیہ جو کہ اسی ضلع میں ایلمنٹری کالج انچولی میں ٹیچر تھی جولائی 2020ئ میں ریٹائر ہوئی ہیں یہاں سے فائل مکمل ہو کر گئی مگر دو دفعہ اکائونٹ آفس نے واپس بھجوائی ایک دفعہ یہ کہہ کر کہ اس میں تنخواہ کی 4 مہینہ کی ماہانہ سلپ لگائی جائے۔ پھر دوبارہ یہ تنخواہ کا اسٹیٹمنٹ کی فوٹو کاپی تصدیق کرواکر دوبارہ بھیجی تو پھر یہ کہہ کر واپس کر دی کہ تنخواہ کا اصل گوشوارہ بھیجا جائے جبکہ اکائونٹ آفس کا کمپیوٹر سیکشن وہیں پر ہے لیکن کام کے لئے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ اکائونٹ آفیسر نعیم سے میں نے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی سیٹ پر ملتے ہی نہیں ہیں۔ اب ایڈمنسٹریٹر آنے کے بعد کا پتہ نہیں ہے کہ وہ اپنی سیٹ پر ہیں یا نہیں۔ گلبرگ ٹائون کے ڈپٹی ڈائریکٹر تعلیم خدیجہ تسلیم عل یاچھی افسر تعلیم ہیں وہ بہت محنت سے کام کرتی ہیں اور ہر فائل دیکھتی ہیں اور صحافیوں کا احترام کرتی ہیں۔ کراچی کی ڈائری کے کالم میں ان سے تفصیلی بات کرکے ٹیچرز کے مسائل اور اس کا حل شائع کریں گے۔ ڈائریکٹر تعلیم ڈی ایم سی وسطی محمد اسلم سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ فائل نہیں روکتے ہیں اور فوری کام کرتے ہیں۔ جب راقم نے کہا کہ اگر پنشن اور بقایاجات کے کام میں دیر ہورہی ہے تو عدلیہ کے احکامات اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق ریٹائرڈ ملازم کو پنشن اسی مہینہ مل جانا چاہیے یا پھر اس کی ماہانہ تنخواہ نہ بند کی جائے۔ اس پر محمد اسلم صاحب نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں نے دیگر ملازمین بھی دیکھے کہ وہ اپنے ریٹائرڈمنٹ کے کام کے لئے دفتروں کے چکر لگارہے ہیں۔
ڈائریکٹر تعلیم وسطی ایڈمنسٹریٹر اور صوبائی وزیر بلدیات سے اپیل ہے کہ وہ ریٹائرڈ ملازمین کے کام جلد سے جلد کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔ کم از کم پنشن فوری دینے کا حکم دیا جائے۔ صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ اچھے باصلاحیت عوامی نمائندے ہیں۔ ان کاموں کی وجہ سے ان کی نیک نامی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔