دروزبہ۔۔۔

November 20, 2020 11:59 am

مصنف - خالد خان

دروزبہ (Druzhba) روسی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی دوستی کے ہےں۔دوستی اےک انمول رشتہ ہے۔دوستی کنول کا وہ پھول ہے جو خلوص کی جھیل میں کھلتا ہے۔ دوستی اےک اےسا پھول ہے جسے چاہے کانٹوں میں رکھو ےا دھوپ میں وہ اپنی خوشبو اور خوبصورتی کھبی نہیں چھوڑتا ۔
دوستی کسی وجہ سے ےا کسی مقصد کےلئے نہیں کی جاتی ہے مگر جب دوستی ہوجاتی ہے تو زندگی کا مقصد اور جےنے کی وجہ بن جاتی ہے۔دروزبہ کے عنوان سے پاکستان اور روس کی مشترکہ مشقےں تربیلا میں ہوئےں۔افتتاحی تقرےب میں دونوں ممالک کے ترانے بجائے گئے۔اس موقع پر پاکستان میں روسی سفےر ڈن ئےلاگ نےچ بھی موجود تھے۔ان دو ہفتوں تک جاری مشقوں میں انسداد دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ خیال ، سکائی ڈائےونگ اور ےرغمالیوں کی رہائی کے آپرےشن مشقیں ان کے خصوصی پہلو رہے۔دروزبہ کے عنوان سے پہلی مشقےں 2016ءپاکستان ، دوسری 2017ئ میں روس ، تےسری 2018ئ میں پاکستان، چوتھی مشقےں2019ئ روس میں منعقد ہوئی تھیں جبکہ پانچوےں 2020 ئ پاکستان میں مشقیں ہوئےں جوکہ خوش آئند بات ہے۔افواج پاکستان کا شمار صف اول کے افواج میں ہوتا ہے اور افواج پاکستان نے ہر مےدان میں اپنی کامرانی کے جھنڈے گاڑے ہےں۔اس کی سب سے بڑی وجہ مہارت اور اخلاص ہے۔جو لوگ اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں اور خلوص سے کام کرتے ہیں،وہ ہمیشہ کامےاب رہتے ہیں اور ان کا علم بلند رہتا ہے۔افواج پاکستان نے کسی لمحے بھی اپنی ملت کو ماےوس نہیں کیا ،ہر موقع پر قوم کو لبےک کہا اورہر ساعت اپنے لوگوں کی مدد کی۔چاہے زلزلہ ہو ےا سےلاب،بھل صفائی ہو ےاٹڈی دل مار مہم ،خانہ شماری ہو ےا مردم شماری، الیکشن ہو ےا اےمر جنسی حالات،پولیو ےا ہو ےا کورونا ہر گھڑی میں افواج پاکستان اپنی قوم کی مدد کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔ اسی طرح ملت ہر موقع پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستانی شہری اپنے افواج سے بے پناہ محبت اور عقےدت رکھتے ہےں۔ہر شہری کے دل میں افواج پاکستان کےلئے عزت اور احترام ہے۔قابلیت اور اہلیت میں افواج پاکستان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔اسی طرح روسی افواج کی قابلےت اور تجربات کسی سے پوشےدہ نہیں ہیں۔ان مشقوں سے دونوں ممالک کے افواج کو اےک دوسرے سے سےکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ پاک روس تعلقات کا آغاز ےکم مئی1948ئ کو ہوا۔ دونوں ممالک سووےت ےونےن اور پاکستان نے سفارتی اور دو طرفہ تعلقات قائم کےے تھے۔ پاک روس تعلقات میں اتار چڑھائو رہا۔ابتدائی دو تےن سال پاک روس تعلقات بہت اچھے اور مستحکم تھے لیکن جب پاکستان امرےکہ بلاک میں شامل ہوگےا تو تعلقات سرد پڑے گئے۔بعدازاں 1965ئ سے تعلقات میں بہتری اور گرمجوشی رہی۔ پاکستان اور روس â سووےت ےونےنá کے درمےان1965ئ میںثقافتی اور سائنسی معاہدے پر دستخط ہوئے اور روس نے پاکستان میں کراچی کے مقام پر سٹےل مل قےام میں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی۔ اس دوران تعلقات کا اےک بہتر دور رہا لیکن 1980ئ کی دہائی میں پاک روس تعلقات اےک مرتبہ پھر کشےدہ ہوگئے۔ افغانستان میں سووےت ےونےن کی جارحےت کی مذمت کی وجہ سے پاکستان سمےت 80 ممالک نے ماسکو میںسمر اولمپکس کا بائےکاٹ کیا تھا۔ پاکستان اور روس کے تعلقات میں کئی نشےب و فراز آئے ۔سابق وزےراعظم نواز شرےف اور سابق صدر جنرل پروےز مشرف کے ادوار میں پاک روس تعلقات کےلئے متعدد کوششیں ہوئیں لیکن تعلقات میں کوئی نماےاں بہتری نہیں ہوئی ۔2011ئ میں پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں صدر آصف علی زرداری نے روس کا دورہ کیا اور بعدازاں روس کے وزےر خارجہ سرگی لارف نے پاکستان کا دورہ کیا۔ جولائی2015ئ میں سابق چےف آف آرمی سٹاف راحےل شرےف نے روس کا دورہ کیا ، روس پاکستان کو MI35 ہیلی کاپٹر دےنے کےلئے تےار ہوگےا۔ ستمبر2016ئ میں پاک روس کے افواج کی مشقےں رٹو âاستورá اور چراٹ میں ہوئےں اوراس کے بعدسے مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اسی سال پاک روس کے درمےان 1.7ارب ڈالر کی لاگت سے کراچی سے لاہور گےس پائپ لائن بچھانے کا معائدہ ہوگےا۔ 2017ئ میں چےن اور روس کے تعاون سے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظےم کی مستقل رکنےت ملی۔پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے۔خطے کے بدلتے ہوئے حالات دونوں ممالک کو قرےب لے آئے ہےں۔دونوں ممالک کے درمےان معاشی تعلقات جتنے مضبوط ہونگے تو ان کے مفادات بھی مشترک ہونگے اور پھر دونوں ممالک کے درمیان استوارتعلقات ہونگے۔ پاکستان، روس اور چےن اتحادی مثلث کےلئے کوشاں ہیں اور ےہ تےنوں ممالک باہمی تعلقات کے ذرےعے خطے میں امن و امان قائم رکھنے کےلئے بے تاب ہیں۔ افغانستان کے مسائل اور خطے میں امن و امان کےلئے پاکستان، روس اور چےن کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔پاک روس تعلقات میں وسعت لانے اور نئی شکل دےنے کی کوشش جاری ہے۔ےہ پیش رفت پاکستان اور اس خطے کےلئے گےم چےنجر ثابت ہوسکتی ہے اور علاقائی استحکام کےلئے روشن مستقبل کی نوےد ہے۔اگر دوسری طرف دےکھےں تو اس خطے میں امرےکہ کا کردار مثبت نہیں ہے ۔امرےکہ پر تجارت کی بجائے جنگی جنون سوار ہے۔ امرےکہ نے عراق اور افغانستان سمےت مختلف ممالک میں فوج رکھی ہے۔اس سے ان ممالک کے شہرےوں میں امرےکہ سے محبت میں اضافہ نہیں بلکہ نفرت میں اضافہ ہورہا ہے۔افغانستان میں امرےکہ کا اےک فوجی سپاہی بھی رہے گا تو افغانستان میں پائےدار امن ممکن نہیں ہے کیونکہ افغانستان میں امرےکی افواج کی موجودگی کے ردعمل کی وجہ سے وہاں حالات پرامن نہیں ہوسکتے ہےں۔چےن نے تجارت کے راستے کو اپناےا ہے جبکہ امرےکہ نے جنگ کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔چےن دےگر ممالک میں اپنے مصنوعات کے ڈھےر لگا رہا ہے جبکہ امرےکہ دوسرے ممالک میں بارود ذخیرہ کررہا ہے۔چےن دےگر ممالک میں ترقےاتی کام کررہا ہے جبکہ امرےکہ دےگر ممالک میں لڑائےاں کر رہا ہے۔چےن دنےا کے ممالک کے جوانوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کررہا ہے جبکہ امرےکہ دنےا کے جوانوں کوبندوقیں دے کر پہلے مجاہدےن اور پھر دہشت گرد بنا رہا ہے۔ چےن اپنے عوام کے ٹےکسوں کے رقوم سے ترقی اورخوشحالی کےلئے مصروف ہے جبکہ امرےکہ عوام کے ٹےکسوں کے رقوم سے جنگ و جدل میں محو ہے۔روس بھی چےن کے میتھڈ کو سمجھ کر پاکستان سمےت دےگر ممالک کے ساتھ خوشگوار اور استوار تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردےا ہے ۔ امرےکہ بھی ہتھےار پھےنک کرتجارت اوربزنس کرکے اپنے مقام اور عزت میں اضافہ کرسکتا ہے اور اپنی عوام کے ٹےکسوں سے گولہ بارود کی بجائے تجارت کے فروغ کےلئے کردار ادا کرسکتا ہے۔جو قومیں محض لڑائےاں جھگڑے کرتی ہیں ،وہ دھےرے دھےرے پیچھے رہ جاتی ہیں اور تباہی کی دہلیزپر پہنچ جاتی ہیں اور جو قومیں بزنس کرتی ہیں ،وہ قومیں ترقی کے منازل طے کرتی ہیں اورسب سے آگے نکل جاتی ہیں۔محبت طاقتور ہتھےار ہے، اسی ہتھےار کو استعمال کرکے ہر دل کوفتح کیا جاسکتا ہے۔ توقع ہے کہ نومنتخب صدر جوبائےڈن امرےکہ کا تصور بدل دےں گے ،وہ دنےا کے سامنے ” لڑاکو” امرےکہ کی بجائے تجارتی امرےکہ کا روپ سامنے لائےں گے۔ پاکستان اور روس ماضی کی تلخےاں فراموش کرکے آگے بڑھ رہے ہیں اور اس کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔پاکستان اور روس اےک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور دوطرفہ تعلقات دونوں ممالک کے بہتر مستقبل کےلئے سود مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی قوم پاکستان روس تعلقات کو اچھی نظروں سے دےکھ رہی ہے اور اس بہتر تعلق سے خوش ہے۔وزےراعظم پاکستان عمران خان کو جلد روس کا دورہ کرنا چاہےے اور روس کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دےنی چاہےے۔ثقافتی اور سائنسی معائدے کرنے چاہےےں اور دونوں ممالک کے درمےان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں مزےد اضافہ کرنا چاہےے۔دونوں ممالک کے عوامی سطح پر رابطے بڑھانے چاہےےں اور وےزہ پالیسی سہل بنانی چاہےے۔قوی امےد ہے کہ پاکستان اور روس کی دوستی اتنی مضبوط اور پائےدار ہوگی جس طرح پاک چےن دوستی ضرب المثل بن چکی ہے۔ پاکستان روس دوستی زندہ باد۔