جوبائیڈن ، نرم اندازگفتگو میںعزائم کچھ خاص۔۔

November 19, 2020 11:44 am

مصنف - تحریر: حفیظ خٹک

انتخابات جس بھی کسی ملک میں ہوتے ہیں ، وہ وقت وہاں کے عوام کیلئے اہمیت کا حامل ہوتاہے ، انہیں اپنے ملک میں نئی حکومت کیلئے اپنی رائے کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔ اس انتخابی عمل سے قبل پورے ملک میں فضا بن جاتی ہے اور یہ فضا اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ وہ مرحلہ گذر نہیں جاتا ہے۔ انتخابی عمل کے گذر جانے کے بعد نتائج کو تسلیم کرنا نہ کرنا بھی اک مرحلہ ہوتا ہے ، اس مرحلے سے بھی بلاآخر عوام گذر ہی جاتے ہیں ۔ اک نئی حکوت بنتی ہے اور وہ حکومت اپنے نئے انداز میں حکمرانی کرتی ہے۔ دو سو سے زائد ممالک میں ہونے والا یہ انتخابی عمل ان ممالک کیلئے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کی اس ملک سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ چھوٹے ممالک کے انتخابی عمل کو دنیا بھر کی میڈیا وہ ترویج و اہمیت نہیں دیتی جو بڑے اور مستحکم ممالک کے انتخابی عمل کو دیتی ہے۔یہ عمل ان اشاعتی اور نشریاتی اداروں کی دوغلی حکمت عملی یا منافقت کی عملی عکاسی کرتی ہے۔ اس بات کی عملی تصویر امریکہ میں ہونے والے حالیہ انتخابی عمل کی صورتحال ہے۔
دنیا بھر کے نشریاتی اداروں کی ہیڈ لائنز کا آغاز امریکی انتخابات سے ہوتا ہوا اختتام بھی انہی خبروں پر ہوجاتا تھا ۔ انہیں باقی دنیا کی خبروں کی وہاں کے حالات کی کوئی فکر نہیں ہوا کرتی تھی اور تاحال ہے۔ گوکہ اب امریکہ میں انتخابی عمل اختتام پذیر ہوچکا ہے تاہم اب بھی ان کی پہلی خبر وہیں کی ہوتی ہے اور بعد کی خبروں میں دیگر خبروں کو شامل کر لیا جاتا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے انتخابات گوکہ اختتام کو پہنچ گئے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اپنے حریف جو بائیڈن سے ہار گئے ہیں تاہم اب بھی موجودہ امریکی صدر نتائج کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کورٹ جائیں گے اور ان کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے اس کے خلاف وہ احتجاج کریں گے۔
وطن عزیز پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے انتخاب جیتنے والے جوبائیڈن کو مبارکباد کے پیغامات بھیج دیئے گئے ہیں اور ایسے ہی پیغامات دیگر ممالک کے سربراہوں کی جانب سے بھی بھیجے گئے، گوکہ موجودہ صدر ٹرمپ کے وائٹ ہائوس سے نکلنے میں اب چند ماہ رہہ گئے ہیں اور نئے صدر کے حلف اٹھانے میں کچھ وقت باقی ہے ، اس وقت ٹرمپ کو کس صورتحال سے گذرنا ہوتا ہے اس جانب امریکی عوام و میڈیا کی نظریں کم اور نئے آنے والے صدر کی جانب زیادہ مرکوز رہیں گی۔ نتائج کو نہ ماننے اور سپریم کورٹ میں جانے کا عمل ، پھر ٹرمپ کی سیاسی جماعت کے کارکنان کا اشتعال اور اسی کے اظہار کیلئے سرگرمیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکی صدر کی جانب سے انہیں منع نہیں کر دیا جاتا ہے۔ جس روز بھی امریکی صدر نے انتخابی عمل کو اس کے نتائج کو تسلیم کرلیا اس روز امریکہ میں امن ہی امن قائم ہوجائیگا اور زندگی جس انداز میں وہاں گزاری جاتی رہتی ہے اسی مرحلے پر ددوبارہ زندگی رواں دواں ہوجائیگی۔
جو بائیڈن امریکہ کے چیالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیںگے۔ اس سے قبل وہ امریکہ کے ہی دوبار نائب صدر رہہ چکے ہیں ، ان کی ذاتی زندگی پر تبصرے، تجزیئے اور تحریروں کے ساتھ دستاویزی رپورٹس جاری کی جارہی ہیں اور یہ سلسلہ بھی کچھ مدت تک چلے گا۔ اس وقت چند اورنقاط ہیں جن پر اظہار خیال ضروری سمجھتا ہوں ۔ ماضی سے تاحال امریکہ میں ہونے والے انتخابی عمل پر نظر ٰڈالیں تو اس طرح کی صورتحال کی دیکھنے میں نہیں آتی ہے ۔ انتحابی عمل جب شروع ہوتا ہے تو اس عمل سے کچھ وقت قبل دونوں جماعتوں کے امیدوار سامنے آتے ہیں ۔ صدارتی دوڑ سے قبل وہ کہیں کبھی نظر نہیں آتے گوکہ وہ سیاسی شخصیات ہوتی ہیں اور ان کا ملک کی تعمیر میں اک کردار ہوتا ہے تاہم انہیں مکمل پذیرائی اس وقت ملتی ہے جب ان کا نام صدارتی امیدوار کی حیثیت سے سامنے آجاتا ہے۔ اسی اک نقطے کا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے انتحابی عمل سے موزنہ کرلیں تو جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ صدارتی مدت گذارنے کے بعد امریکی صدر کو وہاں کے ذرائع ابلاغ وہ اہمیت نہیں دیتے جو دیگر ممالک کے ذرائع ابلاغ اپنے ممالک میں سابقہ صدور کو دیا کرتے ہیں۔ امریکہ کے اس انتخاب سے قبل بھی اک ویڈیو پوسٹ وائرل ہوئی جس میں سابقہ امریکی صدر باراک اوبامہ کسی بینک کے ملازم کی حیثیت سے اک کال وصول کرتے ہیں اور وہ کال کرنے والے کو ووٹ دینے کی اہمیت اور ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں۔
بہرکیف انتخابات جیتنے والے جوبائیڈن کی تعریفوں کے پل سے باندھ دیئے گئے ہیں ، انکی باتیں ، ٹی وی چینلز پر اور اس کے ساتھ اخبارات میں نمایاں مقامات حاصل کررہی ہیں۔اسلام سمیت دیگر مذاہب کے حوالے سے انکی گفتگو کو مثبت انداز میں پیش کیا جارہا ہے ، امریکی عوام کے سامنے جو بائیڈن کو اس روپ میں لایا جارہا ہے کہ جیسے وہ ان کے مسائل کا ہی نہیں دنیا میں جہاں مسائل ہیں وہ بننے والا نیا صدر ان کا بھی حل لے کر آئیگا ۔ وہ ایسا کیا کرے گا جس کی وجہ سے امریکی عوام نے انہیں چند برسوں کیلئے صدارتی ذمہ داری ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کریگا۔
وطن عزیز میں شہر لاہور میں چند برسوں قبل جب پیپلز پارٹی کا دو رتھا ، آصف زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم کی نشستوں پر براجمان تھے اور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے اس دور میں اک واقعہ ہوتا ہے ۔اک امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس تین پاکستانیوں کو گولی مارتاہے اور پھر چند دنوں کے بعد اسے امریکہ بھیج دیا جاتاہے۔ اس اقدام پر وطن عزیز میں شور شرابا ہوتا ہے تاہم جب اس امریکی شہری کو امریکہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو پھر سکوت کے سائے گہرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ مقتولین کے لواحقین کو اس واقعے کے بعد کچھ رقوم دی جاتی ہے جس کے بعد وہ بھی صبر کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ ان دنوں امریکہ پر صدرارت باراک اوبامہ کی اور نائب صدر جو بائیڈن ہی تھے ۔نائب صدر نے ہی رابطہ کیا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اور انہیں حکم دیا کہ ان کے باعزت شہری کو باعزت ہی کے سے انداز میں رہائی دی جائے اور باعزت انداز میں انہیں امریکہ روانہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے ان کی حکم کی تعمیر کی اور تین ہم وطن شہدائ کے قاتل کو بری کرتے ہوئے انہیں امریکہ کے حوالے کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ، سماجی اور مذہبی تنظیمیں انکے ساتھ سیاسی سماجی جاعتیں اس انسانیت سوز ظلم اور زیادتی پر خاموش ہوگئیں۔ ۔۔
ریمنڈڈیوس کو تین اقتال کے باوجود بھی امریکہ کے حوالے کردیاگیا اور یہ معاملہ تاریخ کا اک دردناک باب بن کر رہہ گیا، اسی طرح تو نہیں تاہم کسی حد تک اسی طرح کا معاملہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھی ہے جسے امریکہ کی درخواست پر وطن عزیز کے حکمران نے امریکہ کے حوالے کردیا اور امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان سے اپنے وطن لے گیا اور وہاں اس پر متعدد مقدمات دائر کرکے عدم شواہد کے باوجود اسی سے زائد برسوں کی سزا دے دی گئی ۔وہ عافیہ صدیقی کہ جس پر کوئی بھی مقدمہ ثابت نہیں ہوپایا ، اس کے باوجود اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ، اس وقت کے صدر کے بعد نئے سیاسی صدر آصف علی زرداری نے ان کی رہائی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ اس وقت جب جوبائیڈن نے ریمنڈڈیوس کی باعزت حوالگی کی بات کی تو پیپلز پارٹی کی حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے سلسلے میں بات کرسکتی تھی ، لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ان کے جانے کے بعد نئی حکومت ملک کے تیسری بار منتخب ہونے والے وزیراعظم نواز شریف لے کر آئے جنہوں نے وزیراعظم بننے سے قبل اور بعدازاں وزیراعظم بننے کے بعد بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ اور بچوں سے یہ وعدہ کیا کہ وہ قوم کی بیٹی کو تین ماہ میں وطن واپس لے آئینگے، لیکن ایک بار پھر وہی ہوا کہ جو اس ملک ہی میں نہیں بین الااقوامی سطح پر ہوا کرتا ہے ، وعدہ کر کے اسے پورا نہیں کیا جاتاہے اور اس کے بجائے دیگر کاموں میں لگ کر وقت کو آگے کی جانب بڑھایا جاتا ہے۔ قوم کی وہ بیٹی جو منتظر تھی ، وہ منتظر ہے اور نجانے کب تلک منتظر رہیگی۔۔۔اسی قوم کی بیٹی کی رہائی کیلئے جدوجہد کرنے والی انکی بہن کی سربراہی میں اک پوری تحریک برسوں سے جاری ہے اور انہیں یقین ہے کہ ان کی مظلوم بہن جلد وطن آئیگی۔ امریکی صدارت کا انتخاب جیتنے والے جو بائیڈن سے انہیں بھی یہ توقعات ہیں کہ وہ ان کی بہن کو اور اس ملک کی باعزت شہری کو باعزت انداز میں پاکستان کے حوالے کرینگے۔
جوبائیڈن ، جس نے امریکی صدارتی انتخاب جیتا ہے اور جن کے متعلق ہر سو مثبت رائے کا اظہار کیا جارہے ، امریکہ کے شہریوں سمیت دیگر ممالک کے شہری بھی اپنے نئے صدر سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں ۔ یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائیگا کہ کیا نیاامریکی صدر ملکی اور عالمی سطح پر اپنے اہداف کا حصول کرتا ہے یا اس کا بھی حال موجودہ صدر جیسا ہی ہوجاتا ہے۔ غور سے دیکھنے ، سمجھنے اور شواہد کا مطالعہ کے نے ضرورت اس بات کی ہے کہ آج تلک امریکہ میں انتخابی عمل کے بعد ایسے حالات رونما نہیں ہوئے۔
، اس بار ہوئے اور تاحال جاری ہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟ ہارنے والا اب تلک امریکی صدارتی امیدوار باعزت انداز میں اپنی صدارت نئے صدر کے حوالے کر کے خاموش انداز میں اپنی بقیہ زندگی گذرتا ہے ، آخر اس انتخاب میں ایسا کیا ہوگیا ہے کہ موجودہ صدر اعلی عدالتوں میں انتخابات کے حوالے سے جائیگا۔ جوبائیڈن اک منظم منصبہ بندی کے تحت امریکہ کا صدر بنایاگیا ہے اور وہ میٹھے میٹھے انداز میں مخصوص منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کاخواہشمند ہے۔ نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کے مصداق وہ اپنے اور اسے آگے لانوں والوں کے مذموم مقاصد کو پورا کرنا چاہے گا اس صورتحال میں دیکھنا یہ ہوگا کہ عالمی طاقتیں نئے امریکی صدر کی اس روش کو کس طرح سے دیکھتی ، سمجھتی اور اپنا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر تاجر برادری کا صدر عوامی جمہوریہ چین کس طرح امریکی صدر کو ساتھ لے کر آگے کی جانب بڑھتا ہے اور ان سمیت دیگر قوتیں بھی اس ضمن میں کیا طے کرتی ہیں؟؟؟